مشہورزمانہ سیالکوٹی کبوتروں کی نسل پینتیس والے کبوتر

پینتیس والے کبوتر

اپنے آج کے اس آرٹیکل میں ہم سیالکوٹی کبوتروں کی مشہور زمانہ نسل پینتیس والے کبوتروں کے بارے میں بات کریں گے. ان کبوتروں کے بارے میں تاریخ کیا کہتی ہے. کس طرح یہ کبوتر پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں آئے. سیالکوٹ کے وہ کون سے کبوتر پرور استاد تھے جنہوں نے ان کبوتروں کو شہرتِ دوام بخشی. اس کے علاوہ پینتیس والے کبوتروں کے خاص پہچان کیا ہے اس بارے میں بات کی جائے گی. جس کے لئے آرٹیکل میں آپ کو اوریجنل پینتیس والے کبوتروں کی تصاویر اور ان کی آئی سائنز بھی دکھائے جائیں گے. تاکہ وہ کبوتر پرور دوست جو کبوتروں کی اس نسل کے بارے میں معلومات نہیں رکھتے. انہیں اس آرٹیکل کو پڑھنے اور ان کبوتروں کی تصاویر اور
آئی سائنز کو دیکھنے کے بعد ایک اوریجنل پینتیس والے کبوتر کی پہچان کرنے میں آسانی رہے

ریاست کشمیر راجہ دیر چند

ان کبوتروں کی تاریخ پے نظر ڈالئ جائے تو مصدقہ معلومات کے مطابق ابتدائی طور پر یہ کبوتر ریاستِ کشمیر کے راجہ دیر چند کے پاس تھے. اس وقت ان کبوتروں کو کالی ٹنڈ کبوتر کہا جاتا تھا. سیالکوٹ کا ایک شخص جس کا نام مراد تھا. اور اسے کبوتروں کا شوق بھی تھا وہ ریاست کشمیر کے راجہ دیر چند کے پاس درزی کے طور پر ملازمت کرتا تھا. جب یہ شخص وہاں سے ملازمت چھوڑ کر واپس سیالکوٹ آیا تو ساتھ میں راجہ دیر چند کے ان کبوتروں میں سے کچھ کبوتر بھی اپنے ساتھ لے کر آیا. مراد نے ان کبوتروں کی نسل کو آگے بڑہایا اور جب ان کو اڑانا شروع کیا تو یہ کبوتر بہت اچھی پروازی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے لگے

کھٹیک خاندان اور وحشی کبوتر

سیالکوٹ میں اس وقت کھٹیک خاندان کے وحشی کبوتروں کی بہت شہرت تھی. علاقے کے ہر کبوتر پرور کی زبان پے کھٹیکوں کے ان وحشی کبوتروں کی پرواز اور سیان کا ذکر ہوتا تھا. یہاں تک کہ لوگ کہتے تھے کہ کھٹیکوں کے وحشی کبوتروں کو پروازی مقابلوں میں شکست سے دوچار کرنا ناممکن ہے. کھٹیکوں کی ون ٹو ون بازیاں ان دنوں میں کبوتر پروراستاد یونس شاہ کے ساتھ اڑا کرتی تھیں. جو کہ کھٹیک خاندان اپنے وحشی کبوتروں کی بدولت جیت جایا کرتا تھا. استاد یونس شاہ نے جب مراد کے کبوتروں کی پرواز کو دیکھاتو انھوں نے مراد سے ان کبوتروں کا ایک جوڑا خریدا جس کی قیمت انہوں نے پینتیس روپے ادا کی. ان دنوں میں پینتیس روپے ایک اچھی خاص رقم ہوا کرتی تھی

کبوتر پروراستاد یونس شاہ

استاد یونس شاہ نے اس خریدے ہوئے جوڑے سے بریڈنگ کروا کے ان کے بچوں کو اڑانا شروع کر دیا. اگلے سیزن میں جب کھٹیکوں کی بازیاں استاد یونس شاہ کے ساتھ اڑیں تو کھٹیکوں کے وحشی کبوتر ان بازیوں میں وہ کارکردگی نہ دکھا سکے جس کے لئے وہ مشہور تھے. استاد یونس شاہ کے کبوتروں نے لاجواب پروازوں کا مظاہرہ کیا . اور یوں وہ یہ بازیاں کھٹیکوں سے جیت گئے. کبوتر پرور حلقے حیران تھے کہ وہ کون سے کبوتر ہیں کہ جنہوں نے کھٹیک خاندان کے وحشی کبوتروں کو شکست سے دوچار کر دیا ہے. تو لوگ بتاتے کہ استاد یونس شاہ نے جو جوڑا مراد سے پینتیس روپے کا خریدا تھا اس جوڑے کے بچوں نے وحشی کبوتروں کو جیتا ہے. سو اس وجہ سے ہر کوئی انہیں پینتیس والے کبوتر کہنے لگا. کھٹیکوں سے یہ بازیاں جیتنا اور ان کے وحشی کبوتروں کو ہرانا ان کبوتروں کی شہرت کا باعث بنا. اور آج نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں یہ کبوتر پینتیس والے کبوتروں کے نام سے مشہور ہیں

نواب سادات علی خان

مراد کے کبوتروں کی پروازی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے اور کبوتر پرورں نے بھی مراد سے یہ کبوتر خریدے تھے. جن میں نواب سادات علی خان کا نام سرفہرست ہے. لیکن نواب سادات علی خان کے پاس یہ دیگر لوک جنہوں نے ان کبوتروں کو خریدا ان کبوتروں کو شہرت نہ مل سکی. ان کبوتروں کو اصل شہرت استاد یونس شاہ کے گھر سے ہی ملی. اور انہی کے خریدے گئے جوڑے کی قیمت کی نسبت سے ان کبوتروں کو پینتیس والے کبوتروں کا نام ملا. اور وحشی کبوتروں کو پروازی مقابلوں میں شکست سے دوچار کر کے یہ کبوتر شہرت کی بلندیوں تک پہنچ گئے

پینتیس والے کبوتر کی پہچان

اگر ایک اوریجنل پینتیس والے کبوتر کی پہچان کی بات کریں تو یہ کبوتر بڑی ھڈی، بند جوڑ اور سمارٹ جسم کے مالک ہوتے ہیں. پینتیس والے کبوتر کا سر بڑا،ہلکہ کالا، ٹوپی دار جونسرا ہوتا ہے. گردن پر گہرے سبز رنگ کا شیڈ دیتے ہوئے موٹے جوں ہوتے ہیں پر ان کے دم سے تھوڑے چھوٹے ہوتے ہیں. پروں میں چوتھا یا پانچواں پر کالے رنگ کا، بند اور چھوٹی دم جس کےشروع میں کالے رنگ کے داغ ہوتے ہیں. ٹانگیں ان کی باریک اور سائز میں درمیانی لیکن خشک اور ناخن لمبے اور کالے رنگ کے ہوتے ہیں. پینتیس والے کبوتر کی اگر آنکھ کو دیکھا جائے تو وہ بڑی، پلک باریک اور سلیٹی مائل رنگ کی ہوتی ہے. تل کے گرد پہلا دائرہ سبزی مائل سیاہ رنگ کا اس طرح کے جیسے پھیلا ہوا ہو.دائرے کے بعد زمین میلے رنگ کی ہوتی ہے. جس پر پہلے ہلکے نیلے اور پھر کلیجی رنگ کے ذرات ہوتے ہیں. پینتیس والے کبوتر سیان اور پرواز میں اپنی مثال آپ ہیں. پرواز ان کی اصل حالت اور کراس دونوں میں‌لاجواب ہے. آج بھی یہ کبوتر بہت سے کبوترپرور دوستوں کے پاس اصل حالت میں موجود ہیں

2 thoughts on “مشہورزمانہ سیالکوٹی کبوتروں کی نسل پینتیس والے کبوتر”

Leave a Comment