کبوتروں کی پر پٹائی کا درست طریقہ

کبوتروں کی پر پٹائی کیوں کی جاتی ہے

کبوتروں کے پروازی مقابلوں کا انعقاد ہر سال میں دو مرتبہ ہوتا ہے. انگریزی مہینوں کے حساب سے پہلے مقابلے مئی اور جون کے مہینے میں منعقد کئے جاتے ہیں. دیسی مہینوں کے حساب سے انہیں بیساکھ اور جیٹھ کے مقابلے کہا جاتا ہے. اسی طرح سال کے دوسرے مقابلے ستمبرکے آخر سے اکتوبر کے پہلے عشرے تک منعقد ہوتے ہیں. اور یہ دیسی مہیںوں کے حساب سے اسوج کا مہینہ ہوتا ہے. ہر وہ کبوتر پرور دوست جس نے اپنے کبوتروں کو پروازی مقابلوں کے دوران اڑانا ہوتا ہے. وہ اپنے کبوتروں کے تیاری کے لئے سب سے پہلے اپنے کبوتروں کی پر پٹائی کرتا ہے. تاکہ پروازی مقابلوں میں شامل ہونے سے قبل اس کے کبوتر اپنے نئے پر لے آئیں.اور بہترپروازی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکیں. اور اگر پر پٹائی نہ کی ہو تو چونکہ قدرتی طور پر کبوتر اپنے پرانے پر گراتا رہتا ہے اور ان کی جگہ نئے پر آتے رہتے ہیں. تو ایسا ہو سکتا ہے کہ جن دنوں میں کبوتر پروازی مقابلوں میں شامل ہو تو ان دنوں‌میں وہ اپنے پروں میں سے کسی ایسے پر کو گرا دے جس کا اثر اس کی کارکردگی پر پڑے. اسی ڈر کے پیشِ نظر مقابلوں کے لئے کبوتروں کو تیار کرتے وقت پہلے ان کے سارے پر اکھاڑے جاتے ہیں. اور اس عمل کو کبوتر پروری کے شوق کی اصطلاح‌میں کبوتروں کی پر پٹائی کہا جاتا ہے. آج کے اپنے اس آرٹیکل میں‌ہم اسی موضوع پر بات کریں گے کہ کبوتروں کی پر پٹائی کس وقت کرنی چاہئے. کبوتروں کی پر پٹائی کا درست طریقہ کیا ہے. کون کون سی احتیاطی تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں. کبوتروں کو پر پٹائی دینے سے پہلے کون سے کام کر لینے چاہئے. پر پٹائی کے بعد جب کبوتروں کے نئے پر نکل رہے ہوں تو انہیں کس طرح کی خوراک اور دانہ پانی دیا جائے کہ ان کے پر صحیح طور پر نشوونما پا سکیں

کبوتروں کی پر پٹائی کے لئے بہترین وقت

کبوتراپنے پر مکمل کرنے کے لئے پینتالیس سے اڑتالیس دن کا وقت لیتے ہیں. اس لئے اگر ہم اپنے کبوتروں کو مئی مطلب بیساکھ کے پروازی مقابلوں کے لئے تیار کر رہے ہیں تو ایسے کبوتروں کی پر پٹائی کے لئے بہترین وقت جنوری کے مہینے کا آخر یا فروری کے مہینے کا پہلا عشرہ ہے. اس طرح کبوتر اپنے پر اپریل کے مہینے کے شروع تک مکمل کر لیں گے. اپریل کے باقی دنوں میں ہم انکی پریکٹس کروا سکتے ہیں اور پھر مئی یعنی بیساکھ کے مہینے تک وہ پروازی مقابلوں میں حصہ لینے کے لئے تیار ہونگے. اسی طرح اگرکبوتروں کو آپ نے جون مطلب جیٹھ کے پروازی مقابلوں میں اڑانا ہے تو اس کے لئے پر پٹائی کا بہترین وقت فروری کے مہینے کا آخری دن ہیں. کیونکہ اپریل کے مہینے کے آکر میں آپ کے کبوتروں کے پر مکمل ہو جائیں گے اور مئی کے مہینے میں آپ ان کی پریکٹس کروا سکتے ہیں. اور جون کے مہینے میں وہ پھر پروازی مقابلوں میں حصہ لینے کے لئے تیار ہونگے

پرپٹائی سے پہلے کئے جانے والےضروری اقدامات

کبوتروں کی پر پٹائی کرنے سے پہلےدو کام ایسے ہیں جو کرنے بے حد ضروری ہیں. پہلا کام ہے پر پٹائی سے پہلے کبوتروں کی ڈی وورمنگ کرنا. مطلب ان کے پیٹ میں موجود کیڑوں کا خاتمہ اوردوسرا کام ہے پر پٹائی سے پہلے کبوتروں کی ویکسینیشن کر لینا. نیچے ہم ان دونوں کاموں پے الگ الگ بات کریں گے کہ یہ کرنا کیوں بے حد ضروری ہیں

پر پٹائی سے پہلے ڈی وورمنگ پیٹ کے کیڑوں‌کا خاتمہ

کبوتروں کی پر پٹائی سے پہلے بے حد ضروری ہے کہ ان کی ڈی وورمنگ کر لی جائے. مطلب کبوتروں کے پیٹ میں جو کیڑے ہیں ان کو ختم کر لیا جائے. کبوتروں‌کے پیٹ میں موجود یہ کیڑے اپنی خوراک کبوتر نے جو خوراک کھائی ہوتی ہے اس سے حاصل کرتے ہیں. پر پٹائی کے بعد چونکہ کبوتروں کے نئے پر نکل رہے ہوتے ہیں. اس لئے انہیں ایک ایسی متوازن خوراک کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کے جسم کی تمام کمیوں کو دور کرے. تاکہ کبوتروں کے نئے آنے والے پر بہتر طور پر نشوونما پا سکیں. یہ اسی وقت ممکن ہے جب کبوتر کو ہم جو خوراک دے رہے ہیں وہ اس کا جزو بدن بنے. لیکن اگر کبوتر کے پیٹ میں کیڑے ہونگے تو وہ کبوتر جو خوراک کھائے گا اسے کبوتر کے جسم سے حاصل کرتے رہیں گے. یوں کبوتروں کے نئے آنے والے پر درست طریقے سے نشوونما نہ پا سکیں گے

ڈی وورمنگ کے لئے ہم مقامی طور پر دستیاب مختلف قسم کی ادویات استعمال کروا سکتے ہیں. جیسے البینڈازول ساشے یا پھر ویرموکس یا اوکسافکس سیرپ. اس کے علاوہ انسان کے پیٹ کے کیڑوں کے خاتمہ کے لئے استعمال کروایا جانے والا سیرپ زینٹل بھی مختلف کبوتر پرور دوست اس مقصد کے لئے استعمال کروا سکتے ہیں. ہمدرد کمپنی کی ایک پیٹ کے کیڑے ختم کرنے والی دوا کرمار بھی مارکیٹ میں موجود ہے. مزید یورپین کمپنیز کی خاص طور پر کبوتروں کے پیٹ کے کیڑوں کے خاتمے کے لئے بنائی جانے والی ادویات جیسے میڈپیٹ کمپنی کی میڈی وورم ٹیبلیٹس یا پھرشویتا کمپنی کے اسکاپیلا پلس کیپسولز بھی استعمال کروائے جا سکتے ہیں. یا اس کے علاوہ کوئی اور میڈیسن جس کا آپ کو علم ہو آپ استعمال کروا سکتے ہیں

پر پٹائی سے پہلے کبوتروں کی ویکسینیشن

پر پٹائی کرنے سے پہلے ڈی وورمنگ کرنے کے بعد کبوتر کی ویکسی نیشن کرنا بھی بے حد ضروری ہے. زندگی موت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے. لیکن اگر ہم اپنے کبوتروں کی ویکسی نیشن کر لیتے ہیں تو ہمیں یہ تسلی رہے گی کہ آنے والے دنوں میں ہمارے کبوتر بیماریوں سے محفوظ رہیں گے. ہمیشہ اپنے ان کبوتروں کی ویکسینیشن کریں جو صحت مند اور تندرست ہوں. ویکسینیشن کرنے کے لئے آپ مقامی طور پر دستیاب پولٹری ویکسسین لاسوٹا یا پھر گیلی میون ان ڈی اور گیلی میون ان ڈی آئی بی استعمال کروا سکتے ہیں. اس کے علاوہ یورپین کمپنیز کی کبوتروں کے لئے بنائی جانے والی امپورٹڈ ویکسسین بھی آج کل دستیاب ہیں. اگر آپ اپنی ہمت اور استطاعت کے مطابق انہیں استعمال کروا سکتے ہیں تو وہ استعمال کر لیں. رزلٹ تقریبا سب کا ہی ہوتا ہے. بس ٹائم پیریڈ کا کچھ فرق ہوتا ہے. کچھ ویکسسینز کا استعمال تین ماہ کے لئے کافی ہوتا ہے. اسی طرح کچھ کا چھ ماہ کے لئے اور کچھ سال میں صرف ایک ہی مرتبہ استعمال کروائی جاتی ہیں

پرپٹائی کرنے کا درست طریقہ کیا ہے

پر پٹائی کے لئے جن کبوتروں کا انتخاب کیا جائے وہ بالکل صحت مند اور تندرست ہونے چاہئے. پر پٹائی کے لئے کسی اچھے روشن دن کا انتخاب کریں. عام طور پر کبوتر پرور دوست پر پٹائی کرتے وقت ایک ہی مرتبہ کبوتر کے تمام پر اکھاڑ دیتے ہیں. لیکن بہترین طریقہ یہ ہے کہ پہلے کبوتر کے چھ باہر والے پروازی پر نکالے جائیں.اس کے ایک ہفتہ بعد رہ جانے والے چار پروازی پر اور بغل کے دس پر نکال دیے جائیں. اور پھر اس کے پانچ دن بعد کبوتر کی دم کے پر اکھاڑ دیئے جائیں. اس طرح سے پر اکھاڑنے کا فائدہ یہ ہو گا کہ چونکہ باہر کے چھ پروازی پر مکمل ہونے میں زیادہ وقت لیتے ہیں.اس لئے ان چھ پروں اور باقی پروں کے نکالنے میں سات دنوں کا فرق ہو گا تو یہ سب پر ایک ساتھ مکمل ہو جائیں گے. لیکن اگر سب پر ایک ہی مرتبہ اکھاڑے جاتے ہیں تو اندر کے پر تو مکمل ہو جائیں گے اور باہر کے یہ چھ پر ابھی کچے مطلب نامکمل ہونگے. اور اگر ان پروں کے ساتھ کبوتر اڑنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اپنے باہر کے چھ نامکمل پروں کو نقصان پہنچا سکتا ہے. اور ان پروں کا ہی پرواز کے دوران اہم کردار ہوتا ہے. اس لئے اگر کبوتروں کے پر اوپر بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اکھاڑے جائیں تو بہتر ہے

 

پرپٹائی کرتے وقت کیا احتیاط کی جائے

جس وقت آپ کبوتر کے پر نکالنے لگیں تو اس سے پہلے ایک مرتبہ پروں کو اچھی طرح غور سے چیک کر لیں کہ کہیں کبوتر کا کوئی پر کچا تو نہیں ہے. اگرآپ پر نکالتے وقت یہ احتیاط نہیں کرتے اور کبوتر کا کوئی کچا پر کھینچ دیتے ہیں تو نہ صرف یہ کہ جس جگہ سے پر کھینچا ہے وہاں سے خون نکلے گا اور کبوتر کو تکلیف برداشت کرنی پڑے گی. بلکہ ایسا بھی ممکن ہے کے دوبارہ اس جگہ پے کبوتر نیا پر نا نکالے. مزید کبوتر کے پر نکالتے وقت اسے اس طرح سے پکڑیں کے پر نکالنے کے عمل میں اسے جتنا ممکن ہو سکے کم سے کم تکلیف کا احساس ہو. چونکہ پر نکالتے وقت کبوتروں کو تکلیف ہوتی ہے اس لئے پر نکالنے کے بعد کبوتروں کے پانی کے برتن میں بروفن سیرپ یا پھر ڈسپرین ٹیبلٹ مکس کر دیں. تاکہ کبوتر جب وہ پانی پئیں تو ان کی تکلیف میں کچھ کمی ہو سکے. مزید کبوتروں کے پر نکالنے کے بعد انہیں کچھ دیر کے لئے دھوپ میں رکھیں تو بہتر ہے

پرپٹائی کے بعد کبوتروں کی خوراک اور دانہ پانی

کبوتروں کی پر پٹائی کے بعد ان کی خوراک اور دانہ پانی کا خاص طور پر خیال رکھنا بے حد ضروری ہے. ایک ایسی متوازن خوراک یا دانہ انہیں فراہم کیا جائے جو اس خاص وقت میں ان کی جسمانی نشوونما کی تمام ضرورتوں کو پورا کرتا ہو. تاکہ کبوتر صحت مند رہیں اور اچھے پر نکالیں. جس کے لئے ہمیں ان کا دانہ اس طرح سے ترتیب دینا چاہئے کہ اس میں گندم، باجرہ، چنے، مکئی کے ساتھ ساتھ سورج مکھی کے بیج،تل،موٹھ، مکس دالیں اور دیگر ضروری اجناس شامل ہوں. مزید ان دنوں میں اپنے کبوتروں کے پانی کے برتن میں‌ہفتے میں ایک بار کوئی اچھے سے ملٹی وٹامن کا استعمال بھی ضرور کریں. صبح کے وقت اپنے کبوتروں کو دیسی گھی والی روٹی بنا کر اس کے بھورے کھلائیں. پر پٹائی کے ابتدائی دنوں‌میں چونکہ موسم کچھ سرد ہی ہوتا ہے. اسلئے اس بات کا خیال رکھیں کہ دانے یا خوراک کے بعد کبوتر پانی مناسب مقدار میں پی رہے ہیں. سرد موسم میں ایک تو کبوتروں کو پیاس بھی کم لگتی ہے. دوسرا اگر پانی کے برتن کا خیال نہ رکھا جائے. اور ٹھنڈا پانی کبوتروں کے پانی کے برتن میں پڑا رہے تو اس صورت میں بھی کبوتر اتنا زیادہ پانی نہیں پیتے. اس لئے کبوتروں کے پانی کے برتن میں ان دنوں میں ہمیشہ نیم گرم یا تازہ پانی ڈال کر کبوتروں کے آگے رکھیں. تاکہ وہ اچھی طرح سے پانی پے لیں. تاکہ خوراک یا دانہ جو انہوں نے کھایا ہے وہ ٹھیک طرح سے ہضم ہو سکے اور کبوتر صحت مند رہیں

 

پرپٹائی کے بعد کی احتیاطی تدابیر

پرپٹائی کے ابتدائی دنوں میں اس بات کا خیال رکھیں کہ ڈربے کے اندر کوئی ایسی اونچی جگہ یا چیز نہ ہوکہ جس پر چڑہنے کی صورت میں کبوتر اپنے نئے آنے والے پر خراب کر لیں. مزید اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ کہیں کبوتر آپس میں لڑ نہ پڑیں. کیونکہ آپس میں لڑتے وقت بھی کبوتر اپنے پر خراب کر سکتے ہیں. کبوتر اپنے پر نکالنے شروع کریں تو انہیں چیک کرتے رہیں کہ سارے پر ٹھیک نکل رہے ہیں. کوئی پر خراب تو نہیں ہے. کبوتروں کا خیال رکھیں کہ وہ کسی پرندے ،جانور یا کسی اور اسی طرح کے ڈر کی وجہ سے اڑنے کی کوشش نہ کریں.جب کبوتروں کے پر پچیس سے تیس دن کے ہو جائیں تو پھر کبوتروں کو جال سے باہر نکالنا بند کر دیں. اور ان کا دانہ پانی جال کے اندر ہی کریں. غیر ضروری طور پر جال کے اندر نہ جائیں کہ کہیں کبوتر ڈر کے جال سے ٹکرا کے اپنے پر خراب نہ کر لیں. مزید اب آپ جال اور کبوتروں کے ڈربے کے اندرتین سے چار فٹ کی بلندی پے لکڑیاں وغیرہ لگا سکتے ہیں. کیونکہ اب کبوتروں کے پر اس قابل ہیں کہ وہ ان پر بیٹھ سکیں.

ان احتیاطی تدابیر کے ساتھ ساتھ ایک احتیاط یہ کرنی ہے کہ ان دنوں میں کبوتروں کے نظام ہضم کا خاص طور پر خیال رکھنا ہے. تاکہ جو خوراک ہم انہیں کھلا رہیں ہیں وہ اچھی طرح ہضم ہو کر جزو بدن بنتی رہے. کبوتروں کو احتیاطی طور پر ہفتے میں‌ایک بار کوئی بھی اچھا سا ہاضمے والا پانی بنا کر پلاتے رہیں. کارمینیٹو مکسچر بھی استعمال کروایا جا سکتا ہے. جیسے ہی آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ کسی کبوتر کا نظام ہضم ٹھیک طرح سے کام نہیں کر رہا تو اس کی خصوصی دیکھ بھال کریں. کبوتروں کے دانے میں ہفتے میں ایک یا دو بار تھوڑی سے کلونجے کے دانے مکس کر دیا کریں. یہ کبوتروں کو خوراک ہضم کروانے میں بھی مدد دیتے ہیں. اور اس سے پیٹ کے کیڑے بھی ختم ہوتے ہیں

 

کبوتروں کی نہلائی

جب کبوتروں کے پر سات دن کے ہو جائیں تو اس کے بعد انہیں زیادہ سے زیادہ نہلائی دیں. شروع میں کسی ایسے کھلے برتن میں پانی ڈال کر کبوتروں کو نہلائیں جس کی گہرائی زیادہ نہ ہوں. کیونکہ کبوتروں کے پر چھوٹے ہیں. گہرے پانی میں اگر آپ انہیں نہلاتے ہیں تو ان کے پر خراب ہو سکتے ہیں. کبوتروں‌کے نہانے کے پانی میں تھوڑی سی پوٹاشیم پرمینیگنیٹ مکس کر دیا کریں. جب آپ کے کبوتروں کے پر پندرہ سے بیس دن کے ہو جائیں تو پھر آپ انہیں مناسب حد تک گہرےبرتن میں پانی ڈال کر اس میں بھی نہلائی دے سکتے ہیں. پانی کے برتن میں پنکی ڈالنا مت بھولیں. نہانے کے پانی میں پنکی کے استعمال سے ایک تو کبوتروں کے پروں میں موجود جراثیم مر جاتے ہیں. دوسرا اس سے کبوتروں کے پر صاف اور چمکدار ہوتے ہیں

دانے میں سرسوں کا استعمال

کبوتروں کی پر پٹائی سے لے کر ان کے پر مکمل ہونے تک ان کی خوراک اور دانہ پانی کا اچھی طرح خیال رکھیں.کبوتروں کے پروں کو چیک کرتے رہیں. جب کبوتروں کے پر تیس دن کے ہو جائیں تو ان کے دانے میں سرسوں کا اضافہ کر لیں. صبح کے ناشتے میں کبوتروں کو دیسی گھی کی روٹی کے بھورے یا پھر اگر آپ روٹی بناتے وقت گھی کی جگہ زیتون کا تیل استعمال کرنا چاہتے ہیں تو وہ بھی کر سکتے ہیں. پانی کے برتن میں حسب ضرورت ملٹی وٹامنز بھی استعمال کرواتے رہیں. یہاں تک کے آپ کے کبوتروں کے پر مکمل نہیں ہو جاتے.جب کبوتر اپنے پر مکمل کر لیں تو انہیں باہر نکالنے سے قبل ایک مرتبہ پھر پیٹ کے کیڑوں کا کورس کروا لیں جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے. کبوتروں کو پیٹ کے کیڑوں کا کورس کرنے کے بعد دو سے تین دن جال کے اندر ہی رکھیں

پر مکمل ہونے پر کبوتروں کو باہر نکالنے کا طریقہ

کبوتروں کے پر مکمل ہونے اور انہیں صاف کرنے کے تین سے چار دن بعد ایک دن دوپہر کے وقت اپنے کبوتروں کو ٹانک کے جال سے باہر نکال لیں. حتی الامکان کوشش کریں کے کبوتر اڑیں نہ. بس زیادہ سے زیادہ چھت سے جال تک اور پھر جال سے نیچے چھت پر. جتنی دیر کبوتر باہر رہیں خود بھی چھت پر ہی رہیں تاکہ کبوتر کسی چیز سے ڈر کر اڑ نہ جائیں. تھوڑی دیر انہیں اس طرح رکھنے کے بعد جال کے اندر دانہ ڈال کر دوبارہ بند کر دیں. اگلے دن پھر دوپہر کے وقت اسی طرح اپنے کبوتروں کو جال سے باہر نکالیں. اور کچھ دیر انہیں باہر رکھنے کے بعد دوبارہ جال میں بند کر دیں. چار سے پانچ دن یہی روٹین رکھیں. اس دوران اگر کوئی کبوتر مستی کرتے ہوئے اڑ جاتا ہے تو اسے زیادہ نہ اڑنے دیں. کوشش کر کے جلدی بٹھا لیں. کیونکہ کبوتروں کے مسلز اور جوڑ ابھی کھلے نہیں ہیں. زیادہ زور لگا کر وہ اپنے مسلز کو خراب کر سکتے ہیں.

چند دن بعد اپنے کبوتروں کو آہستہ آہستہ اڑانا شروع کر دیں. پہلے دن بعد دوپہر انہیں اڑائیں اور پھر کوشش کر کے جلد ہی انہیں بٹھا لیں. ایک دو دن اسی طرح کرنے کے بعد ان کے پر کھول دیں اور پھر انہیں دوپہر کے بعد اڑا دیں. کبوتر اپنی استطاعت کے مطابق اڑ کر آ جائیں گے. اس کے بعد انہیں روزانہ اڑانا شروع کر دیں. اور آہستہ آہستہ ان کے اڑانے کا وقت پیچھے کرتے ہوئے صبح پر لے آئیں. اور پھر جب کبوتر زور لگانا شروع کر دیں تو پھر انہیں ایک دن کے وقفے سے اڑانا شروع کردیں. اس دوران اگر آپ کا کوئی ایسا کبوتر جو پہلے اچھا اڑ رہا تھا لیکن اب پرواز نہیں کر رہا تو اسے چیک کریں کی اس کے ساتھ کیا مسئلہ ہو سکتا ہے. اگر کوئی کبوتر کمزور ہے تو اسے پھرتوں‌میں نہ ڈالیں. پہلے اس کی صحت کو بحال کریں اور پھر اسے اڑانا شروع کریں. پرواز سے واپسی پر آپ کے اچھے کبوتر جب سفید ڈروپنگ کرنا شروع کر دیں تو پھر انہیں جو بھی آپ کا خوراک دینے کا طریقہ ہے اس کے مطابق انہیں خوراک دینا شروع کر دیں

حرف آخر

پھرتوں کے دوران اپنے کبوتروں کی کارکردگی پر نظر رکھیں. کوشش کریں کہ ان کو پروازی مقابلوں سے قبل اتنی پھرتیں مل جائیں کہ وہ اپنے کسیں ٹھیک طرح سے بنا لیں. کبوتروں‌کی خوراک، دانہ پانی اور صحت کا خاص طور پر خیال رکھیں. اپنے کبوتر کے مزاج کو سمجھنے کی کوشش کریں . دیکھیں کہ اسے کیا چیز اچھی لگتی ہے اور کیا بری. کن چیزوں کا استعمال کبوتر کی کارکردگی پے اچھا اثر ڈالتا ہے. اور وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی بنا پر کبوتر اپنی پرواز کم کرتا ہے. جو بھی آپ نے تجربات کرنے ہیں وہ پھرتوں کے دوران ہی کر لیں. اور اس کے بعد آپ کے پاس جو سب سے بہترین کبوتر تیار ہوئے ہیں. انہیں نیک نیتی کے ساتھ پروازی مقابلوں کے امتحان میں شامل کر دیں. انشاء اللہ آپ کے کبوتر آپ کی توقع سے بڑھ کر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے.

Leave a Comment