کبوتروں کی پروازی مقابلوں کے لئے تیاری

کبوتر پروری اور پروازی مقابلے

برصغیر پاک و ہند میں کروڑوں کی تعداد میں لوگ کبوتر پروری کے شوق سے وابستہ ہیں. کچھ لوگ تو اس پرندے کو اس کی خوبصورتی کی وجہ سے گھروں میں پالتے ہیں. اور انہوں نے زیادہ تر فینسی کبوتر رکھے ہوئے ہوتے ہیں.فینسی کبوتروں کی بھی بے شمار اقسام ہیں.جو کہ دیکھنے میں بہت زیادہ خوبصورت دکھائی دیتی ہیں. لیکن زیادہ تر شوقین حضرات وہ ہیں کہ جو کبوتروں کواڑانے کا شوق رکھتے ہیں. برصغیر پاک و ہند میں اڑنے والے کبوتروں میں یا تو ہائی فلائیر کبوتروں کا شوق ہوتا ہے یا پھر لو فلائیر کبوتروں کا. اس سلسلے میں سال کے مختلف حصوں میں کبوتروں کے پروازی مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں. جن میں شوقین حضرات بڑھ چڑھ کے حصہ لیتے ہیں. اور جیتنے والوں کو انعامات سے نوازہ جاتا ہے.

اتنے زیادہ لوگوں کے کبوتر پروری کے شوق سے وابستہ ہونے کے باوجود دیکھا یہ گیا ہے کہ برصغیر پاک و ہند میں نہ تو اس کے بارے میں کوئی تحقیقی کام ہوا ہے. اور نہ ہی ہمیں تحریری طور پر کوئی ایسا مواد ملتا ہے کہ جس سے فائدہ اٹھا کر اس شوق سے وابستہ لوگ یہ جان سکیں کہ کس طرح وہ کبوتروں کی دیکھ بھال کریں. کیسے انہیں پروازی مقابلوں کے لئے تیار کریں کہ وہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں. اوریہ سب نہ ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کے وہ لوگ جن کو ان اسرار و رموز سے واقفیت ہے وہ یہ نہیں چاہتے کہ کوئی دوسرا ان کے بارے میں جان سکے. استادی شاگردی کا ایک عجیب سا طریقہ کاررائج ہے. جس میں شاگرد تو بنا لیا جاتا ہے. لیکن اٹھانوے فیصد کے قریب اساتذہ کرام ایسے ہوتے ہیں جو اپنے شاگردوں کو کچھ بھی نہیں بتاتے. خاص طور پر وہ سیکرٹ جو کبوتروں کی پرواز میں اضافہ کے متعلق ہوتے ہیں.

اسرارورموزِکبوترپروری

کبوتر پروری کے شوق سے وابستہ افراد کی انہی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ آرٹیکل لکھا جا رہا ہے. تا کہ وہ شوقین حضرات جو ان اسرار و رموز سے نا واقف ہیں وہ یہ جان سکیں کہ کس طرح اپنے کبوتروں کی دیکھ بھال کرنی ہے کہ وہ صحت مند اور تندرست رہیں. اگر وہ اپنے کبوتروں کو پروازی مقابلوں کے لئے تیار کر رہے ہیں تو وہ کونسے مناسب طریقے ہیں جو اختیار کئے جائیں. کب اور کس وقت کبوتروں کی پروازی مقابلوں کے لئے تیاری شروع کی جائے. کس طرح کی انہیں خوراک دی جائے. کون کون سی احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں. کس طرح سے کبوتروں کو اڑایا جائے. کون سی ایسی اشیاء ہیں جو کبوتروں کو ایکسٹرا انرجی فراہم کرتی ہیں جس سے مقابلے والے دن کبوتر اچھی پروازی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں. پرواز سے جب کبوتر واپس گھر آتا ہے تو اسے کس طرح سے ٹریٹ کرنا چاہئے. کون سی ایسی اشیاء ہیں جن سے کبوتر اپنی کھوئی ہوئی توانائی کو فورا بحال کرتا ہے.
الغرض ابتداء سے لے کر آخر تک اس آرٹیکل میں ہر اس طریقہ کار کا ذکر کیا جائے گا. جس سے نئے یا وہ شوقین حضرات جو ان چیزوں سے نابلد ہیں. اپنے شوق میں بہتری لا سکیں. اوردوسروں کی محتاجی سے بچ کر خود اپنے کبوتروں کو پروازی مقابلوں کے لئے تیار کرسکیں.

آرٹیکل میں اوپر میں نے بتایا ہے کہ جو لوگ ان اسرار و رموز سے واقف ہیں کہ کس طرح کبوتروں کو پروازی مقابلوں کے لئے تیار کیا جاتا ہے. اُن میں سے اٹھانوے فیصد اس بارے میں کسی کو کچھ بتاتے نہیں ہیں. اس لئے اگر کوئی انسان یہ سب کچھ بتاتا بھی ہے تو زیادہ تر شوقین حضرات یہی سوچتے ہیں کہ جو کچھ بتایا جا رہا ہے. وہ ٹھیک نہیں ہو سکتا. وہ یہ سوچنے میں ھیں بھی حق بجانب. وجہ اس کی یہ ہے کہ انہیں برسوں کی خدمت یا ہزاروں لاکھوں روپیہ خرچ کرنے کے باوجود بھی کچھ نہیں بتایا جاتا. اور جب کوئی انسان بلا معاوضہ یہ سب کچھ بتا رہا ہو تو ان کا ذہن اس بات کو تسلیم نہیں کرتا. کہ جس علم کو حاصل کرنے کے لئے انہوں نے اتنے پاپڑ بیلے ہیں اور پھر بھی ناکام رہے تو وہ سب کچھ کوئی فری میں کیوں بتائے گا. اس لئے وہ اس بتائی ہوئی بات پے یقین نہیں کرتے. تو گزارش ہے کہ اس ارٹیکل میں لکھی ہوئی ہر ایک بات جو آپ آگے چل کر پڑہیں گے وہ سب رزلٹڈ اور آزمودہ ہیں. بے شمار دوست ان معلومات سے فائدہ اٹھا کر اپنے شوق میں بہتری لا چکے ہیں. اور ان طریقہ کار پر عمل کر کے آپ بھی ان میں شامل ہو سکتے ہیں.

کبوتر پرور حضرات کی دلچسپی

کبوتر پروری کے شوق سے وابستہ زیادہ تر شوقین حضرات کی دلچسپی صرف اس بات میں ہوتی ہے کہ کسی طرح کوئی ایسا طریقہ کار (نسخہ) مل جائے جس سے کبوترمقابلے والے دن اپنی پرواز میں اضافہ کرسکیں. تو گزارش یہ ہے کہ کبوتر کی پرواز میں اضافہ کا کوئی بھی نسخہ صرف اسی صورت میں فائدہ مند ہو سکتا ہے جب کبوتر باقاعدہ طور پرایک طریقہ کار کے تحت پرواز کے لئے تیار ہوا ہو. مطلب نسخہ کے زیر اثر کبوتر نے جو ایکسٹرا پرواز کرنی ہے اس کے لئے اس کا جسم بھی تیار ہو. کبوتر کی جسمانی نشوونما ٹھیک ہوئی ہو. پرواز کی پریکٹس ہوئی ہو اس کی. شوق کی اصطلاح میں ہم اسے کہتے ہیں کہ کبوتر کی “کسیں” بنی ہوئی ہوں.اگر یہ سب نہیں ہے تو پرواز میں اضافہ کے لئے اسے بھلے آپ اچھی سے اچھی چیز بھی دے دیں وہ بیکار ہو جائے گی.

اب ہم آتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف کہ کبوتروں کی کس طرح سے دیکھ بھال کی جائے اور کس طرح سے انہیں پروازی مقابلوں کے لئے تیار کیا جائے. زیادہ تر کبوتروں کے پروازی مقابلے مئی اور جون کے مہینے میں منعقد ہوتے ہیں. جس کے لئے ہم فروری کے مہینے کے شروع کے دنوں میں کبوتروں کی پر پٹائی کر کے اپنی تیاریوں کا آغاز کرتے ہیں. تقریبا ہر کبوتر پرور شوقین اس بات سے واقف ہے. اور عام طور پر وہ اسی وقت سے اپنے کبوتروں کی خصوصے دیکھ بھال شروع کرتے ہیں. لیکن ہم اپنے کبوتروں کے پروازی مقابلوں کے لئے تیاری کو کچھ اور پہلے سے شروع کریں گے. تاکہ فروری میں جس وقت ہم اپنے کبوتروں کی پر پٹائی کریں تو وہ اس وقت بالکل صحت مند ہوں. اور اس سٹریس کو برداشت کر سکیں جو پر پٹائی کی وجہ سے انہیں‌ملے گا.

کبوتروں کی دیکھ بھال

کبوتروں کے اسوج کے پروازی مقابلوں‌کا اختتام اکتوبر کے مہینے میں ہو جاتا ہے.بعض جگہ پے یہ مقابلے نومبر کے مہینے تک بھی چلتے رہتے ہیں. اور اس کے بعد کبوتر پرور دوست اپنے کبوتروں کو جالوں تک محدود کر دیتے ہیں. ان کے باہر کے پر گول کر دیئے جاتے ہیں. اور انہیں‌کبھی کبھی ہی باہر نکالا جاتا ہے. ہم نے اپنے کبوتروں کی آئندہ مئی اور جون کے مہینے میں‌ہونے والے پروازی مقابلوں کے لئے تیاری یہاں‌سے شروع کر دینی ہے. سب سے پہلے تو کبوتروں کے پیٹ میں‌جو کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں. ان کا خاتمہ کرنا ہے. تاکہ کبوتر جو خوراک کھائیں وہ ان کو لگے اور وہ صحت مند رہیں. پیٹ کے کیڑوں کے علاج کے لئے مقامی طور پر دستیاب پولٹری یا انسانوں والی ادویات استعمال کروائی جا سکتی ہیںِ. پولٹری ادویات میں ہم عام طور پر البینڈازول یا پھر اوکسافکس سیرپ استعمال کر سکتے ہیں. انسانوں کے لئے بنی ہوئی ادویات میں سے زیادہ تر زینٹل سیرپ کبوتروں کے پیٹ کے کیڑوں کے خاتمے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے. اس کے علاوہ آج کل یورپ میں خصوصی طور پر کبوتروں کے لئے تیار ہونے والی پیٹ کے کیڑوں کی ادویات بھی ہمارے ہاں دستیاب ہیں. جیسے جرمنی کی شویتا کمپنی کے اسکاپیلا کیپسولز ہیں. ایک کبوتر کو یہ ایک کیپسول کھلانا ہوتا ہے . جو کہ کبوتر کی پیٹ میں موجود ہر طرح کے کیڑوں کا خاتمہ کر دیتا ہے. تقریبا ہر دو ماہ بعد کبوتروں کے پیٹ کے کیڑوں کا ٹریٹمنٹ کر لینا چاہئے. کبوتروں‌کے پیٹ کے کیڑوں کے علاج کے بارے میں مکمل طریقہ کار اور ادویات کے بارے میں معلومات اگر آپ جاننا چاہتے ہیں تو اسی ویب سائٹ پے اس بارے میں الگ سے آرٹیکل موجود ہے جسے آپ پڑہ کے اس بارے میں مکمل معلومات حاصل کر سکتے ہیں.

کبوتروں کی ویکسینیشن

اس کے علاوہ اپنے کبوتروں کی ویکسی نیشن بھی کرتے رہا کریں تاکہ وہ بیماریوں سے محفوظ رہیں. ویکسی نیشن کے لئے لاسوٹا یا پھر گیلیمون این ڈی یا این ڈی آئی بھی آسانی سے دستیاب ہیں. کبوتر پروری کے شوق سے وابستہ زیادہ تر شوقین حضرات انہی کا استعمال کرتے ہیں. یا پھر آپ یورپ میں خصوصی طور پر کبوتر کے لئے تیار کردہ ویکسین بھی استعمال کروا سکتے ہیں. جیسے جرمنی کے شویتا کمپنی ہی کی شیویویک پی 200 ویکسین ہے. یا اس کے علاوہ اور بھی بہت ساری کمپنیوں کی تیار کردہ کبوتروں کی ویکسین دستیاب ہیں. کبوتروں کی مختلف ویکسین کا سیف ٹائم بھی مختلف ہوتا ہے. جیسے لاسوٹا تقریبا ہر دو ماہ بعد کر لینی چاہئے. گیلیمون کا سیف ٹائم چھ ماہ ہے جبکہ شیویویک پی 200 کا ایک مرتبہ استعمال ایک سال کے لئے کافی ہوتا ہے.

کبوتروں کا متوازن دانہ

اب اکتوبر اور نومبر میں کبوتروں کے پروازی مقابلے ختم ہو چکے ہیں. اور دسمبر کا مہینہ آ گیا ہے. اب آپ نے اپنے ان کبوتروں کو جنہیں آپ نے آنے والے سیزن میں اڑانا ہے ان کو آپ نے جو دانہ فراہم کرنا ہے اسے آپ اس طرح سے ترتیب دیں کہ اس میں درج ذیل اجناس لازم موجود ہوں. باجرہ 20 فیصد، لال مکئی 15 فیصد، گندم 10 فیصد، مٹری 10 فیصد، کالی چنی 8 فیصد، جوار سُرخ 8 فیصد، موٹھ اور دال ماش 5 فیصد، بنولے 5 فیصد، سرسوں 4 فیصد، تل 3 فیصد، سورج مکھی کے بیج 4 فیصد، السی 3 فیصد اور چاول یا مونجی 5 فیصد. ان تمام اجناس کو اوپر بتائی ہوئی مقدار میں مکس کر کے کبوتروں کو یہ مکس دانہ کھانے کے لئے دیں. سرد موسم میں کبوتروں کے پانی کے برتن کا خاص خیال رکھیں. کبوتروں کو تازہ یا نیم گرم پانی پینے کے لئے دیں. اور جب وہ پانی پی لیں تو پانی کا برتن وہاں سے اٹھا لیں. اور دوبارہ جب پانی رکھیں تو پھر تازہ یا نیم گرم پانی برتنوں میں بھر کے ان کے سامنے رکھیں. کوئی سے بھی اچھے ملٹی وٹامن لے کر ہفتے میں ایک بار کبوتروں کے پانی کے برتن میں ایک گرام ملٹی وٹامن پائوڈر مکس کر کے کبوتروں کو لازم پلا دیا کریں. اس کے علاوہ ہفتہ میں ایک بار ہر کبوتر کو مچھلی والا کیپسول لازم کھلا دیا کریں. مزید ان دنوں میں ہر دس دن کے بعد اپنے کبوتروں کو جال سے باہر نکال کر اڑا لیا کریں. دو یا تین دن اڑانے کے بعد پھر انہیں نکالنا بند کر دیں. دوبارہ پھر دس دن بعد یہی عمل دہرا لیا کریں. اس طرح کرنے سے آپ کے کبوتر اپنا وزن نہیں بڑہائیں گے.

کبوتروں کےخاص بھورں کے لئے روٹی بنانے کا طریقہ

دسمبر کا مہینہ ہم اس ترتیب سے گزاریں گے جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے. اب جنوری کا مہینہ شروع ہو گیا ہے. اور فروری کے شروع میں ہم نے اپنے ان کبوتروں کی پر پٹائی کرنی ہے جنہیں مئی اور جون کے مہینے میں منعقد ہونے والے پروازی مقابلوں میں شامل ہونا ہے. جنوری کے مہینے میں بھی ہم اپنے ان کبوتروں کو وہی دانہ پانی فراہم کرتے رہیں گے جس کا ذکر اوپر کیا ہے. لیکن جنوری کی 10 تاریخ کے بعد ہم نے اپنے ان کبوتروں کو کہ جن کی پر پٹائی کرنی ہے انہیں صبح کے وقت درج ذیل طریقے سے روٹی بنا کے اس کے بھورے کھلانے ہیں.

روٹی بنانے کا طریقہ کچھ اس طرح سے ہے کہ فرض کیا ہمارے پاس پچاس کبوتر ہیں. تو ہم آدھ کلو گندم کا آٹا لے لیں گے. اس سے پہلے رات کو ہم نے پچاس گریاں بادام کی لے کر انہیں رات کو کسی برتن میں‌پانی ڈال کر اس میں بھگو کے رکھ دینا ہے. اور صبح ان کا چھلکا اتار کر انہیں کوٹ کے اس کا پیسٹ بنا لینا ہے. چارعدد کالی مرچ اورتین عدد چھوٹی الائچیوں کے بیج نکال کے انہیں کوٹ کے باریک کر لینا ہے. اور ایک چھوٹا چائے والا چمج دوالمسک کا لے لینا ہے. گندم کے آٹے میں کالی مرچ اور چھوٹی الائچی کے بیجوں کا جو پائوڈر آپ کے پاس ہے اسے مکس کر لیں. پھر دوال مسک اور کوٹے ہوئے باداموں کے پیسٹ کو بھی اس میں مکس کر لیں. اس کے بعد حسب ضرورت بکری کا دودھ ڈال کے اس آٹے کو اچھی طرح گوندھ کے اس کی موٹی موٹی دو روٹیاں بنا لیں. اور پھر ان پکی ہوئی روٹیوں کے باریک بھورے کر کے اپنے ان کبوتروں کہ صبح کے وقت کھلائیں. جب کبوتر بھورے کھا لیں تو اس کے آدھا گھنٹہ بعد کبوتروں کے آگے پانی رکھیں. دوپہر کے بعد کبوتروں کو وہی دانہ ڈالتے رہیں جس کا ذکر ہم نے پہلے کیا ہے. اور کبوتروں کے نظام ہضم کا خاص طور پر خیال رکھیں.

پر پٹائی کے لئے بہترین وقت کا انتخاب

فروری کے مہینے میں پر پٹائی کر دی جاتی ہے. فروری کی 10 تاریخ تک اپنے کبوتروں کی پر پٹائی مکمل کر لیں.بعض کبوتر پرور حضرات ایک ہی مرتبہ کبوتر کے تمام پر اکھاڑ دیتے ہیں. لیکن بہتر یہ ہے کہ پہلے باہر کے 6 پروازی پر نکال دیے جائیں اور اس کے دس دن بعد باقی چار پروازی پر اور بغل کے پر نکال دئے جائیں . کبوتروں کی پر پٹائی کس طرح کی جانی چاہئے اس بارے میں ایک تفصیل آرٹیکل ویب سائٹ پر موجود ہے. اگر آپ پڑہنا چاہیں تو اسے وہاں پر پڑھ سکتے ہیں. کبوتروں کے پر جب نکلنے شروع ہو جائیں پروں کو چیک کرتے رہیں کہ تمام پر ٹھیک نکل رہے ہیں. کوئی پر رُک تو نہیں گیا. روٹے کے بھوروں اور دانہ اس ترتیب سے جاری رکھیں جو پہلے ہم بیان کر چکے ہیں. ان دنوں میں دانے کے اندر ہفتہ میں ایک بار تھوڑی سی کلونجی مکس کر لیا کریں. اس سے پیٹ کے کیڑے بھی مرتے ہیں اور نظام ہضم بھی ٹھیک رہتا ہے. ہفتے میں ایک بار اگر کبوتروں کو گرٹ استعمال کروا دیں تو وہ بھی بہترین ہے.

وٹامن ڈی کی افادیت

پر پٹائی سے لے کر کبوتروں کے پر مکمل ہونے تک کے عرصہ میں کبوتروں کو ایک بار وٹامن ڈی تھری کا ایک انجکشن دو لیٹر پانی میں مکس کر کے ضرور پلا دیں.یہ بے حد ضروری ہے. مارکیٹ میں انسانوں کے استعمال کے لئے کئی طرح کے وٹامن ڈی تھری کے انجکشن موجود ہیں. جن میں Indrop D, Sunvit, D Drop, D-All, D-Tres and Dan-D آسانی سے دستیاب ہیں. ویسے تو کبوتربھی سورج کے روشنی سے وٹامن ڈی حاصل کرتے ہیں لیکن چونکہ پر پٹائی کے دنوں میں کبوتروں کو اس کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اس لئے وٹامن ڈی کے انجکشن کا استعمال بہتر نتائج فراہم کرتا ہے. اس کے علاوہ کبوتروں کو زیادہ سے زیادہ وقت دھوپ میں رکھیں.

پوٹاشیم پرمینگانیٹ یا پنکی

جب کبوتروں کے پر بارہ سے پندرہ دنوں کے ہو جائیں تو پانی میں تھوڑی سی Potassium Permanganate مکس کر کے اپنے کبوتروں کو نہلائیں. لیکن ایک بات ذہن میں رکھیں کہ ابھی آپ کے کبوتروں کے پر چھوٹے ہیں اس لئے انہیں گہرے پانی میں نہلائی نہ دیں بلکہ کسی ایسے برتن میں پانی ڈال کر انہیں نہلائیں جو زیادہ گہرا نہ ہو. اور اس میں پانی کی سطح کم ہوں. اس کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ کبوتروں کے پر ابھی چھوٹے ہیں اگر ہم انہیں زیادہ گہرائی والے برتن میں پانی ڈال کر نہلاتے ہیں تو اس سے ان کے پر خراب ہونے کا اندیشہ ہے.

جب کبوتروں کے پر 25 دن کے ہو جائیں گے تو اس وقت مارچ کا مہینہ شروع ہو چکا ہو گا. مطلب اب سردی کا زور ختم ہو چکا ہے اور موسم بہتر ہو گیا ہے. اب آپ اپنے کبوتروں کو گہرے پانی میں بھی نہلائی دے سکتے ہیں. پانی میں پنکی یعنی پوٹاشیم پرمینگنیٹ ضرور مکس کرنی ہے. اس سے ایک تو کبوتر کے پروں میں موجود جوئیں مر جاتی ہیں دوسرا اس سے پروں میں چمک بھی آتی ہے. باقی جو دانہ پانی یا روٹی کے بھورے ہم استعمال کرتے آ رہے ہیں ان کا استعمال جاری رکھنا ہے. اور سب سے اہم بات کبوتروں کے نظام ہضم کا خصوصی طور پر خیال رکھیں. کبوتروں کے نظام ہضم کے بارے میں بھی تفصیل کے ساتھ آرٹیکل ویب سائٹ پر اردو اور انگلش دونوں زبانوں میں موجود ہے. اگر آپ اسے پڑھنا چاہئں تو اس آرٹیکل کو پڑھ کے رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں.

پر پٹائی کے دوران کبوتروں کی دیکھ بھال

جب آپ کے کبوتروں کے پر تیس دن کے ہو جائیں تو کبوتروں کو باہر نکالنا بند کردیں. انہیں جال کے اندر ہی رکھیں. وہیں ان کا دانہ پانی کریں. بغیر کسی وجہ کہ جال کے اندر نہ جائیں. تاکہ کہیں ڈر کے کبوتر جال سے ٹکرا کے اپنے پر خراب نہ کر لیں. جب کبوتروں کے پر چالیس دن کے ہو جائیں تو اس کا مطلب ہے آپ کے کبوتروں کے پر تقریبا مکمل ہو چکے ہیں. لیکن ان میں ابھی خون باقی ہے جسے خشک ہونے کے لئے مزید سات دن اور درکار ہیں. کبوتروں کے پروں کو چیک کر لیں کہ سب پر ٹھیک ہیں. کبوتروں کو اڑانے میں جلدی نہ کریں ورنہ کچے پروں کی بدولت آپ کے کبوتر درد مان جائیں گے اور ان کی پرواز میں کمی آ جائے گی.ان دنوں میں اپنے کبوتروں کو ایک مرتبہ دس ملی لیٹر چہار عرق ایک لیٹر سادہ پانی میں مکس کر کے پلا دیں.اس سے کبوتروں کا معدہ بھی کھل جائے گا. انہیں بھوک بھی لگے گی اور وہ اندر سے کچھ حد تک صاف بھی ہو جائیں گے. یاد رکھیں کہ ان دنوں میں کبوتروں کو باہر نہیں نکالنا ہے.

کبوتروں‌کے لئے آملے کا پانی بنانے کا طریقہ

جب آپ کے کبوتروں کے پر سینتالیس دن کے ہو جائیں‌تو انہیں دن میں بارہ سے ایک بجے کے درمیان جال سے باہر نکال لیں. لیکن ابھی انہیں اڑانا بالکل بھی نہیں ہے. اور خیال رکھنا ہے کہ کسی چیز سے ڈر کے وہ اڑ نہ جائیں. کبوتروں کے جوائنٹ اور مسلز ابھی کھلے نہیں ہیں. اگر وہ اڑ گئے تو ان کے باہر گرنے کا امکان ہے. بس زیادہ سے زیادہ کبوتر جال کے اوپر جا کر بیٹھ جائیں. تقریبا ایک گھنٹہ کبوتروں کو دھوپ میں رکھنے کے بعد دانہ جال میں ڈال کر اپنے کبوتروں کو جال میں بند کر دیں. پانچ سے سات دن یہی روٹین رکھیں. بعض اوقات کچھ کبوتر مستی کرتے ہوئے خود ہی اڑ جاتے ہیں. زیادہ تر تیز پر والے کبوتر ایسا کرتے ہیں. اگر کبوتر ان دنوں میں زیادہ مستی کر رہے ہوں تو انہیں درج ذیل طریقہ سے آملے کا پانی بنا کر پلا لیں.پچاس گرام خشک آملے لے کر انہیں رات کو آدھا لیٹر پانی میں بھگو دیں. اور صبح اس پانی کو چھان کے ایک بوتل میں بھر کے رکھ لیں. آدھ پائو آملے والا پانی دو لیٹر سادہ پانی میں مکس کر کے کبوتروں کے پانی والے برتن میں ڈال دیں اور کبوتروں کو یہ والا پانی پلائیں. اس سے کبوتروں کی سانس بھی ٹھیک ہو گی اور مزاج بھی. اور کبوتر زیادہ مستی بھی نہیں کریں گے.

کبوتروں کو کس واقت اڑانا چہئے

جب کبوتروں کو باہر نکالتے ہوئے پانچ سے سات دن گزر جائیں تو پھر ایک دن گیارہ سے بارہ بجے کے درمیان کبوتروں کو ہلکا ہلکا اڑانا شروع کر دیں. انہیں زیادہ تنگ نہ کریں. ابتداء میں انہیں اپنی مرضی سے جتنا اڑتے ہیں اڑنے دیں. اور پھر اسی طرح کرتے ہوئے آپ کے کبوتر جب پانچ سے چھ گھنٹے تک اڑنا شروع کر دیں. تو بالکل غیر محسوس طریقے کے ساتھ ان کبوتروں کے اڑانے کا ٹائم آہستہ آہستہ پیچھے کرتے ہوئے صبح پر لے آئیں. اور پھر آپ کے جو کبوتر اچھا اڑنے لگیں انہیں ناغہ دے کر اڑائیں. اور جب کبوتر واپسی پر سفید بیٹ کرنا شروع کر دیں تو انہیں درج ذیل طریقے سے خوراک بنا کر دینا شروع کر دیں.

سپیشل خوراک بنانے کا طریقہ

پچیس کبوتروں کی خوراک اگر آپ بنا رہے ہیں تو شروع میں 100 گری بادام رات کو پانی میں بھگو کے صبح انہیں چھیل لیں. آملے کے مربعے کے دو بڑے دانے لے کر انہیں اچھی طرح پانی میں سے نکال کے ان کی مٹھاس ختم کر دیں. چہار مغز کے تین چھوٹے چائے والے چمچ، دو بڑی الائچیوں کے بیج ” دو بڑی الائچیوں میں سے جتنے بیج نکلیں” اسی طرح دو چھوٹی الائچیوں کے بیج “چھوٹی الائچی مطلب سبز الائچی” تین عدد کالی مرچ اور آدھا چمچ جوارش جالینوس کا. ان سب چیزوں کو اچھی طرح کوٹ کے اور ایک جان کر کے ان کی گولیاں بنا کر کبوتروں کو کھلائیں. یاد رہے ان سب اشیاء کو کوٹنا ہے رگڑنا نہیں ہے. جن کبوتروں کو صبح اڑانا ہے انہیں اڑا کر ناغے والے کبوتروں کو صبح ساڑھے چھ بجے تک خوراک دے کر انہیں جال میں چھوڑ دیں. اور پھر نو بجے کے قریب انہیں تھوڑے تھوڑے دیسی گھی والی روٹی کے بھورے بھی کھلائیں. جب بھی دیسی گھی والی روٹٰ کے بھورے کبوتروں کو کھلانے ہیں تو اس کے کم از کم آدھ گھنٹہ بعد ان کے سامنے پانی والا برتن رکھیں. جب کبوتروں کو خوراک دینا شروع کریں تو ابتداء میں اس کی مقدار کم رکھیں اور پھر کبوتر کے ہاضمہ اور پرواز کو دیکھتے ہوئے اس میں اضافہ کرتے جائیں.

احتیاطی تدابیر

جب آپ اپنے کبوتروں کو ہاتھ سے خوراک کھلاتے ہیں تو اس میں بڑی احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے. خوراک میں چونکہ آئل ہوتا ہے اور اس سے کبوتر کی ناک خراب ہو جاتی ہے. اس لئے کبوتر کو خوراک دینے کے بعد اس کی ناک کو اچھی طرح سے صاف کر دیں. ورنہ اس کی ںاک پے گردوغبار جمع ہو جائے گا. جس سے سانس لینے میں دشواری ہوگی اور کبوتر ٹھیک طرح سے پرواز نہیں دے سکے گا.

رات کے وقت اپنے کبوتروں کو آدھے چنے کے برابر دوالمسک جواہر دار، باجرے کے دانے جتنا خمیرہ گائوزبان اور باجرے کے دانے جتنا ہی کشتہ مروارید لےکر ان سب کو اچھی طرح مکس کر گولی بنا لیں اور اسے کبوتر کو کھلائیں. یہ آپ کے کبوتر کے لئے بہترین ہے. یاد رہے اوپر جو آپ کو بتائی ہے یہ ایک کبوتر کی خوراک ہے.

کبوتروں کا ہاضمہ خراب ہونے کی وجوہات

جن دنوں میں آپ اپنے کبوتروں سے پروازیں لے رہے ہوں بھلے یہ پریکٹس کے لئے ہیں یا پروازی مقابلوں کے لئے ان دنوں میں کبوتروں کا نظام ہضم خراب ہونے کا ڈر ہوتا ہے. اور اس کا خیال رکھنا ہی سب سے اہم بات ہوتی ہے. کیونکہ اگر آپ کے کبوتر کا ہاضمہ ٹھیک ہے. آپ اسے جو کچھ کھلا رہے ہیں وہ اسے ہضم کر رہا ہے. خصوصی خوراک یا دانہ کے ذریعے جو کچھ آپ اسے فراہم کر رہے ہیں وہ اس کا جزو بدن بن رہی ہے. تو کبوتر خود بخود آپ کو اچھے سے اچھا رزلٹ دیتا چلے جائے گا.

ان دنوں میں کبوتروں کے نظام ہضم کے خراب ہونے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان کے دانہ پانی اور خوراک کا وقت تبدیل ہوتا رہتا ہے. کیونکہ جب کبوتر اڑ کے واپس آتا ہے لا محالہ ہم اسی وقت اسے سنبھالنے اور پانی چلانے کے بعد ہی خوراک یا دانہ پانی دیں گے. اور کبوتر کسی دن ہو سکتا ہے کہ دن دو بجے پرواز سے واپس آئے تو کسی دوسرے دن ہو سکتا ہے شام کے چھ بجے اس کی پرواز سے واپسی ہو. یہی وجہ ہے کہ اس کی خوراک اور دانہ پانی کا وقت تبدیل ہوتا رہتا ہے. جوکہ نظام ھضم کی خرابی کا باعث بنتا ہے.

ہاضمے کے لئے آئیڈیل پلز کا استعمال

نظام ہضم کی خرابی کی دوسری وجہ صبح کے وقت اڑانے سے پہلے ان کی پوٹ کو چیک نہ کرنا اور انہیں پانی نہ دینا ہے. آپ کا جو کبوترپرواز کے دوران اچھا ٹائم کر کے گھر واپس آتا ہے. اور اس وجہ سے دیر سے اس کا دانہ پانی اور خوراک ہوتی ہے. تو ایسے کبوتر کے لئے بے حد ضروری ہے کہ رات کو اسے بند کرتے وقت آپ اسے ہاضمے کے لئے کوئی ایسی چیز دیں جو رات کو اس کی خوراک ہضم کروانے میں مدد گار ثابت ہو. اس سلسلے میں سب سے بہترین Ideal Pills کا استعمال ہے. یا پھر آپ باجرے کے دانے جتنا جواہر مہرہ بھی رات کے وقت کبوتر کو دے سکتے ہیں. جو کہ نظام ہضم کے لئے ایک بہترین چیز ہے. یا پھر اگر آپ نے اپنے کبوتروں کے ہاضمے کے لئے کوئی خاص چیز بنا کے رکھی ہوئی ہے تو اس کا استعمال کریں.

ہاضمے کے لئے عرقِ سونف کا استعمال

جس کبوتر کا دانہ پانی اور خوراک پرواز سے واپسی پر شام کو کیا ہے تو صبح اس کی پوٹ کو چیک کریں اگر تو اس نے رات کو دی جانے والی خوراک اور دانہ ہضم کرلیا ہے تو یہ سب سے بیسٹ ہے. لیکن اگر اس کی پوٹ میں کچھ دانہ موجود ہے تو اسے ایک ملی لیٹر عرقِ سونف کو چار ملی لیٹر سادہ پانی میں مکس کر کے سرنج کے ساتھ کبوتر کو پلا دیں. نو بجے کے قریب دوبارہ کبوتر کی پوٹ کو چیک کریں. دانہ ہضم ہوگیا ہے تو پھر اسے اس وقت تھوڑے سے روٹی کے بھورے کھلا دیں. اور دو بجے کے قریب اسے حسب ضرورت باجرہ کھلا دیں.

ہاضمے کے لئے شہد اور میٹھے سوڈے کا استعمال

لیکن اگرایسے کبوتر کی صبح آپ پوٹ چیک کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس نے رات والی خوراک یا دانہ چلایا ہی نہیں ہے تو اسے پھر نیم گرم پانی سے پلٹا دیں اور پھر اسے کھانے میں کچھ دینے کی بجائے پانچ ملی لیٹر نیم گرم دودھ میں چار قطرے شہد کے مکس کر کے پلا دیں. ایسا کرنے سے کبوتر اور اس کی پوٹ کچھ دیر میں صاف ہو جائیں گے. نو بجے کے قریب پھر اس کبوتر کو تھوڑے سے روٹی کے بھورے کھلا دیں. اور پھر جب وہ ان بھوروں کوہضم کرلے تو پھر اسے تھوڑا سا باجرہ کھلا دیں. لیکن اگر ایک کبوتر عرقِ سونف اور دودھ اور شہد کے استعمال کے بعد بھی دانہ ہضم نہ کرے تو ایسے کبوتر کو دس ملی لیٹر پانی میں ایک چھوٹی سے چُٹکی میٹھے سوڈے کی مکس کر وہ پانی کبوتر کو سرنج کے ساتھ پلادیں. انشاء اللہ آپ کا کبوتر دانہ اور خوراک ہضم کر جائے گا.

ہاضمے کئے لئےجوارش جالینوس اور پیپرمنٹ سیرپ کا استعمال

جن کبوتروں کے ساتھ نظام ہضم کا مسئلہ بن رہا ہوتو اوپر جن چیزوں کے استعمال کا ہم ذکر کر چکے ہیں ان کے ساتھ ساتھ آپ دھی کا پانی بھی استعمال کر سکتے ہیں. دن میں دو مرتبہ متاثرہ کبوتر کو پانچ ملی لیٹر دھی کا پانی استعمال کروائیں. کبوتروں میں شہد کا استعمال معدہ اور نظامِ ہضم کے لئے بے حد مفید ہے. اس کے علاوہ جوارش جالینوس بھی معدہ اور ہاضمہ کے لئے بہت اچھی چیز ہے. یہ خوراک کو ہضم بھی کرواتا ہے اور اسے جزو بدن بننے میں بھی مدد دیتا ہے. یا پھر کبوتروں کے نظام ہضم کو ٹھیک کرنے والے کچھ سیرپ جیسے پیپرمنٹ یا پھر بنائے ہوئے مخصوص پانی بھی استعمال کروائے جا سکتے ہیںِ.

کبوتروں کے پروازی مقابلے

کبوتروں کو تیار کر کے بازیوں مطلب ون ٹو ون مقابلوں یا پھر تین، پانچ یا سات روزہ ٹورنامنٹس میں اڑانا کوئی آسان کام نہیں ہے. یہ تین سے چار ماہ کا دورانیہ ہوتا ہے. جس کے دوران ایک کبوتر پرور کو طرح طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے. اور ہر پیش آنے والے مسئلے کو دور کرنا ہوتا ہے. ورنہ اتنی زیادہ کی ہوئی محنت پے پانی پھر جاتا ہے. ان مسائل سے نبرد آزما ہونا ہی اصل استادی ہے. اور یہی وہ چیزیں ہیں جو دوسروں سے چھپائی جاتی ہیں اور حتی الامکان کوشش کی جاتی ہے کہ یہ کسی دوسرے کو پتا نہ چلیں. اور یہ سب سیکرٹ آپ کو اس آرٹیکل میں پڑھنے کو ملیں گے جو کہ میری بیس سال کی محنت کا نتیجہ ہیں جنہیں میں حرف با حرف آپ کے لئے لکھ رہا ہوں تاکہ آپ سب بھی اپنے کبوتروں سے اچھی پرواز لے کر اپنے شوق میں بہتری لا سکیں.

اس عرصہ کے دوران کبوتر کی صحت، طاقت، ہاضمے اور پرواز کا خیال رکھنا ہوتا ہے کہ یہ سب متاثر نہ ہوں اور کبوتر اپنی بہترین پروازی کارکردگی کا مظاہرہ کریں. اس دوران جو چیز کبوتر پرور کو سب سے زیادہ پریشان کرتی ہے وہ ہے کہ کبوتر اپنی پرواز کم کر دیتے ہیں. اور اس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ کبوتروں کے پٹھے چڑھ جاتے ہیں. یہ مسئلہ یا تو کبوتروں میں پانی اور نمکیات کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے یا پھر پرواز سے واپسی پر کبوتر کی تھکاوٹ ٹھیک طرح سے دور نہ کرنے پر. تھکاوٹ دور کرنے کا حل تو یہ ہے کہ سکون کے ساتھ کبوتر کے جسم کے ایک ایک حصے کا مساج کیا جائے. کبوتر کی پرواز سے واپسی پران کی حالت کے مطابق سنھال کے مختلف طریقہ کار آپ کو میری اسی ویب سائٹ کے مختلف آرٹیکل میں پڑہنے کو مل جائیں گے. یا پھر اسی آرٹیکل میں ہم کبوتروں کی پرواز سے واپسی پے سنھبال کے بارے میں بات آکے چل کے کریں گے.جہاں تک بات ہے پانی اور نمکیات کی کمی دور کرنے کی تو اس کے لئے ایک نہایت کارآمد طریقہ آپ کو یہاں بتاتا ہوں.

کبوتروں‌میں پانی اور نمکیات کی کمی کو دور کرنا

جب آپ اپنے کبوتروں کو اڑا رہے ہوتے ہیں تو موسم گرم ہوتا ہے. کبوتر اچھی پروازیں دے رہے ہوتے ہیں. تو ان دنوں میں کبوتروں کی پانی اور نمکیات کی کمی اور طاقت کی بحالی کے لئے ان کے پانی کے برتن کو اس طرح سے ترتیب دیں کہ ہفتہ میں چار دن ایک لیٹر سادہ پانی میں دو چائے والے چھوٹے چمچ گلوکوز یا الیکٹرولائیٹس کے مکس کر کے کبوتروں کو پلائیں. گلوکوز یا الیکٹرولائیٹس انسانوں کے لئے بنائے جانے والے بھی آپ استعمال کر سکتے ہیں یا پھر آج کل کبوتروں کے لئے خصوصی طور پر تیارکردہ الیکٹرولائیٹس یا گلوکوز بھی مارکیٹ میں آسانی سے دستیاب ہیں. اور باقی تین دن ایک لیٹر سادہ پانی میں دو چھوٹے چمچ چائے والے شہد کے مکس کر کے وہ پانی کبوتروں کو پلائیں. کبوتروں میں سخت گرم موسم میں پانی، نمکیات اور طاقت کی بحالی کا یہ بہترین حل ہے.

کبوتروں کا پروازوں کے دوران وزن کم کر جانا

کبوتروں کو اڑانے کے دوران جس دوسرے اہم مسئلے کا کبوتر پرورں کو سامنا کرنی پڑتا ہے وہ یہ کہ کبوتر اپنا وزن کم کرنا شروع کر دیتے ہیں. اور باوجود اچھی خوراک، دانہ پانی اور سنھال کے یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا. جس کی وجہ سے کبوتروں کی پرواز بھی متاثر ہوتی ہے. تو اس مسئلے کا سب سے بہترین حل یہ ہے کہ اپنے کبوتر کے نظام ہضم کی طرف توجہ دیں. جس کے لئے ایک ملی لیٹر چہار عرق چار ملی لیٹر سادہ پانی میں مکس کر کے کبوتر کو پلائیں. اور ساتھ میں کبوتروں کی خوراک میں انہیں چہار مغز اور تربوز کے بیج مکس کر کے کبوتروں کو کھلائیں. انشاء اللہ چار دنوں کے اندر کبوتر اپنا وزن پورا کر جائیں گے.

کبوتروں سے لگاتار پروازیں لیتے وقت ان میں بھوک پیدا کرنا پڑتی ہے. کیونکہ جب کبوتر پرواز کر کے واپس آتا ہے تو زیادہ تر وہ پانی پیتا ہے. اور پھر ایسی صورت حال میں وہ خوراک کم کھاتا ہے. عام نارمل حالات میں بھی آپ نے دیکھا ہوگا کہ کبوتر گرم موسم میں دانہ کھانا کم کر دیتے ہیں. جو کبوتر آپ کو دکھائی دے کے کمزور ہو رہا ہے. اس کبوتر کو صرف دو دن کے لئے باجرے کے دانے جتنا جواہر مہرہ استعمال کروا دیا کریں. جواہر مہرہ بہت ہی کام کی چیز ہے اور کبوتر کی بہت سی کمزوریوں کو دور کرتا ہے.

کبوتروں کی روٹین خراب نہ کریں

کبوتروں سے اڑانیں لیتے وقت سب سے اہم اور ذہن میں رکھنے والی بات یہ ہے کہ اپنے کبوتروں کی روٹین کبھی بھی خراب نہ کریں. خواہ آپ عام پھرتوں میں کبوتروں کو اڑا رہیں ہی یا پھر بازیوں یا ٹورنامنٹس میں. کبوتر کی روٹین وہی رکھیں جو چلی آ رہی ہے. اگر آپ اچانک سے اپنے کبوتر کی روٹین میں تبدیل کرتے ہیں تو وہ اس کی پرواز پے اثر انداز ہو گی. اس کی مثال آپ اس طرح سے لے لیں کہ آپ اپنے کبوتروں کو صبح کے وقت پلٹا کہ نہیں اڑا رہے. اور وہ اچھی پروازیں دے رہے ہیں.لیکن ایک دن اچانک سے آپ انہیں صبح کے وقت پلٹا کے اڑاتے ہیں تو اس دن آپ کے وہ کبوتر جو اچھی پرواز دے رہے تھے اتنی پرواز نہیں دے سکیں گے اور جلدی بیٹھ جائیں گے. کچھ تو ہو سکتا ہے کہ اڑیں ہی نا.

یا پھر اس بات کوآپ اس طرح سمجھ لیں کہ آپ اپنے کبوتروں کو صبح اڑانے سے پہلے پانی نہیں دیتے. لیکن اچانک ایک دن آپ انہیں اڑانے سے پہلے پانی دے دیتے ہیں. تو اس صورت میں بھی آپ کے وہ کبوتر جلد ھی بیٹھ جائیں گے جو پہلے بنا پانی دیئے اچھی بھلی پرواز دے رہے تھے. یہ باتیں اس لئے آپ کو سمجھا رہا ہوں کہ اکثر کبوتر پرور جو کہ پرواز مقابلوں کے دوران کسے دوسرے سے اپنے کبوتر اڑواتے ہیں وہ یہ غلطی کرتے ہیں. پھرتوں میں انہوں نے کبوتروں کو اڑانے سے پہلے پانی دیا نہیں ہوتا اور جو شخص ان کے کبوتر اس دن اڑانے آتا ہے وہ انہیں صبح اڑانے سے پہلے پانی دے دیتا ہے. اور نتیجہ یا تو سبھی کبوتر جلدی بیٹھ گئے یا پھر واپس ہی نہیں آئے. اسی صورتِ حال کا سامنا اچانگ سے کبوتروں کو پلٹانے پر کرنا پڑتا ہے.

کبوتروں کے لئے سپیشل باجرے کی تیاری

اس آرٹیکل میں ہم کبوتروں کے دانے کے بارے میں بھی بات کرچکے ہیں. کبوتروں کو دیئے جانے والے بھوروں والی روٹی کس طرح بنانی ہے اس کا طریقہ کار بھی ہو گیا. خوراک کس طرح بنانی ہے اور کس طرح کبوتروں کو کھلانی ہے اس پر بھی بات ہو گئی. اب ہم ذکر کریں گے ایک اور بہت ہی کارآمد چیز پر اور وہ ہے اس باجرے سے متعلق جو ہم نے اپنے کبوتروں کو ان سے پروازیں لینے کے دوران کھلانا ہے. جو کہ پرواز کے ان دنوں میں کبوتروں کی صحت اور طاقت کی بحالی کے لئے نہ صرف بہترین ہے بلکہ اس کے استعمال سے کبوتر اپنی پرواز میں اضافہ بھی کرتے ہیں. اس سپیشل باجرے کو ہم نے درج ذیل طریقہ سے تیار کرنا ہے.

اس باجرے کو ہم بھیڑ کے دودھ میں بنائیں گے. اگر بھیڑ کا دودھ آپ کو ملنا مشکل ہو تو پھر آپ گائے کا دودھ بھی استعمال کر سکتے ہیں. لیکن چونکہ بھیڑ کا دودھ بہترین ہے تو اس لئے ہم یہاں پر اسی کی بات کریں گے. اب اگر آپ 10 کلو باجرہ تیار کرنا چاہتے ہیں تواتنی مقدار میں باجرہ لے کر پہلے اسے پانی میں اچھی طرح دھوکے کسی سایہ دار جگہ پے رکھ کے اسے خشک کر لیں. اس کے بعد چار لیٹر بھیڑ کا دودھ لے کر اسے کسی بڑی بالٹی یا ٹب وغیرہ میں ڈال لیں. اور اس چار لیٹر دودھ میں دو لیٹر پانی مکس کردیں. اور پھر اس کے بعد جو 10 کلو باجرہ آپ نے دھو کے خشک کر کے رکھا ہوا تھا اسے اس دودھ والے برتن میں ڈال کر خوب اچھی طرح مکس کر دیں. جب آپ باجرے کو دودھ میں اچھی طرح مکس کر دیں تو اس بات کو یقینی بنا لیں کے دودھ باجرے کے اوپر تیر رہا ہے. یی کام آپ نے شام کو مغرب کے فورا بعد کرنا ہے.

صبح سویرے اٹھ کے اس باجرے کو ایک مرتبہ پھر خوب اچھی طرح دودھ میں مکس کردیں. پھر ہر گھنٍہ کے بعد یہی عمل دہراتے رہیں یہاں تک کے باجرہ سارے دودھ کو اپنے اندر جذب کر لے. جب باجرہ سارے دودھ کو اپنے اندر جذب کر لے گا تو اس کے بعد ہم نے اس باجرے کو اب سایہ دار جگہ پے رکھ کے خشک کرنا ہے. اور اس کام کے لئے بے حد اضتیاط کی ضرورت ہے. تھوڑہ سی غلطی یا بے احتیاطی باجرہ بنانے کے لئے کی گئ آپ کی محنت اور پیسے کو ضائع کر سکتی ہے. باجرہ خشک کرنے کے لئے سب سے پہلے تو آپ ایک ایسی جگہ کا انتخاب کریں جو بالکل محفوط ہو.وہاں پے آپ ایک چارپائی بچھا دیں. اور چارپائی کے اوپر ایک عدد چادر بچھانے کے ساتھ ساتھ چار پلیٹوں میں پانی بھر کے چارپائی کے چاروں پایوں کے نیچے رکھ دیںِ اور دودھ والے باجرے کو اس چارپائی کے چادر کے اوپر محفوط طریقے سے پھیلا دیںِ .

ہم سادہ پانی کی پلیٹوں کو چارپائی کے پائوں کے نیچے رکھ کے دودھ والے باجرے کوکیڑویوں یا دیگر حشرات الارض سے محفطو کر چکے ہیںِ. اب آپ نے جو کام کرنا ہے وہ یہ کہ ایک تواس باجرے کے اوپر مکھیاں نہ بیٹھیں. اور دوسرا یہ کہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد اس باجرے میں ہاتھ پھیرکہ اسے اوپر نیچے کرتے رہیں. اگر آپ یہ سب نہیں کریں گے تو ایک تو باجرہ بدبودار ہو سکتا ہے دوسرا اس میں سنڈی بھی پڑ سکتی ہے. اس لئے بے حد ضروری ہے کہ باجرے کو تھوڑی تھوڑی دیر بعد لازم ہلاتے رہیں یہاں تک کی باجرہ بالکل خشک ہو جائے. تب اس بنے ہوئے باجرے کو کسی بڑے منہ والے برتن جیسے کوئی ٹب یا پرات میں محفوظ کر لیں. اور پھر دوپہر کے دانے میں یہ باجرہ اپنے کبوتروں کو کھلائیں اور پھر کبوتری کی پرواز میں آنے والے فرق کو محسوس کریں. کبوتروں کی کارکردگی خود آپ کو بتائے گی کہ انہوں نے کوئ چیز کھائی ہے. یاد رہے اس بنے ہوئے باجرے کو بعد میں بھی برتن کے اندر دن میں دو تین مرتبہ اوپر نیچے کرتے رہنا ہے. ورنہ دوسری صورت میں بعد میں بھی اس کے خراب ہونے کا خدشہ موجود رہتا ہے.

پرواز سے واپسی پے کبوتروں کی سنھال

اب تک اس آرٹیکل میں ہم نے کبوتروں کی ابتدائی دیکھ بھال، پرواز کے لئے ان کی تیاری اور کس طرح ان کی پرواز کے معیار کو برقرار رکھنا یا اس میں بہتری لے کر آنا ہے کے بارے میں بات کی ہے. اب ہم دیکھتے ہیں کہ پرواز سے واپسی پر کبوتر کی سنبھال کیسے کرنی ہے. پرواز سے واپسی پے کبوتر کی سنبھال کبوتر پروری کے شوق کا ایک بہت اہم حصہ ہے. موسم یا کارکردگی کے لحاظ سے پرواز سے واپسی پر کبوتر کی جسمانی حالت مختلف ہوتی ہے. جب کبوتر اڑ کر واپس گھر آتا ہے تو اسے تقریبا دس منٹ تک بیٹھا رہنے دیں. پھر اگر وہ خود نیچے اتر آئے تو ٹھیک ورنہ اسے آپ نیچے اتار لیں. آپ کے پاس ایک ایسی جگہ ہونی چاہئے جو سایہ دار اور ہوادار ہونے کے ساتھ ساتھ تھوڑی ٹھنڈی بھی ہو. اپنے کبوتر کو نیچے اتار کے کچھ منٹوں کے لئے وہاں چھوڑ دیں. اور پھر جب کبوتر اپنے حواس درست کر لے تو سب سے پہلے سوتی کپڑے کی ایک باریک سی بتی بنا کے اسے پانی میں بھگو کے کبوتر کے گلے کو صاف کریں. تاکہ مسلسل ؛پرواز کے دوران گلے میں گردوغبار کی وجہ سے جو لیس دار مادہ بنا ہے وہ باہر نکل جائے.گیلے کپڑے سے کبوتر کی ناک کو اچھی طرح صاف کر دیں. پھر تھوڑا سا کبوتر کے جسم کا مساج کر دیں.خیال رکھیں کہ آپ کے ہاتھ گیلے نہ ہوں اور مساج کرنے کے دوران اس کے پر خراب نہ ہوں.

پرواز سے واپسی پے موسم اور پرواز کی لحاظ سے کبوتر کی مختلف حالتیں ہو سکتی ہیں. تو اسی لحاظ سے کبوتر کی حالت کے مطابق اس کی سنبھال کے طریقے بھی مختلف ہوتے ہیں. اگر گرمی اتنی زیادہ نہیں ہے اور کبوتر زور لگا کر بھی نہیں آیا تو آپ ایسے کبوتر کو سادہ پانی سے ہی سنبھال سکتے ہیں. اور جب وہ پانی چلا لے تو اسے خوراک دیں. اچھا ہم کبوتر کی سنبھال کے بارے میں بات کر رہے ہیں لیکن یہاں اب کبوتر کی خوراک کا ذکر آیا ہے تو پہلے ہم یہ دیکھ لیتے ہیں کہ پرواز سے واپسی پر کبوتروں کو جو خوراک دی جاتی ہے اسے ہم نے کیس طرح سے تیار کرنا ہے.

پرواز سے واپسی پے کبوتروں کی خوراک بنانے کا طریقہ

اب اگر ہمارے پندرہ کے قریب کبوتر اڑ کے آ رہے ہیں اور ہم نے ان کے لئے واپسی کی خوراک تیا رکرنی ہے تو30 گری بادام جو کہ پانی میں بھیگی ہوئی اور ان کا چھلکا اترا ہوا ہوان کو اچھی طرح کوٹ لیں. ایک چھوٹے سائز کے سیب کے مربعہ کا آدھا ٹکڑا لے کر اسے پانی میں سے نکال کر اس کی مٹھاس اچھی طرح ختم کر لیں اور اسے بھی اچھی طرح کوٹ لیں. دو چائے کے چھوٹے چمچ کی مقدار میں چہار مغز لے کر انہیں بھی کوٹ لیں. ان سب چیزوں کے اندر سات دانے ذریشک کے بھی ڈال کر انہیں بھی کوٹ لیں. اور آخر میں آدھا چمچ خمیرہ مروارید کا بھی ان سب کوٹی ہوئی اشیاء میں اچھی طرح مکس کر کے گولیاں بنا کے کبوتروں کو کھلائیں. واپسی کی خوراک کبوتر کو اس وقت دینی ہے جب وہ اچھی طرح سنبھل جائے. پانی چلا لے اور خود خوراک مانگے.

پہلی مرتبہ صرف دو گولیاں خوراک کی کبوتر کو کھلائیں. جب وہ انہیں ہضم کر لے تو پھر اسے اور جتنی بھی خوراک دیتے ہیں وہ دیں. اور جب کبوتر اسے بھی ہضم کر لے تو اسے کھانے کے لئے باجرہ دیں. اور پھر باجرے کے بعد الیکٹرولائٹ یا گلوکوز ملا پانی یا پھر شہد والا پانی کبوتروں کو پلائیں. جن کا ذکر ہم آرٹیکل میں پہلے کر چکے ہیں.

کبوتر کے جسم کا مساج

جس دن کبوتر اڑ کے آتا ہے تو اس دن ان کی تھکان اتارنا اور طاقت کو بحال کرنا لازم ہوتا ہے. رات کو کبوتر کے جسم کا اچھی طرح سے مساج کریں.اور پھرنرم سے کپڑے کی ایک گدی بنا کے اسے ہلکےسے گرم توے پے رکھ کے آہستہ آہستہ کبوتر کو سیکتے جائیں. پروں کے اوپر، کمر، کندے اور سینہ ین سب کو آہستہ آہستہ احتیاط کے ساتھ. ذہن میں رکھیں کے کپڑے کی گدی زیادہ گرم نہ ہو. اور پھر اس کے بعد کبوتر کو ایک چنے کے برابر دوال مسک میں ماچس کی تیلی پے رکھ کے سچے موتی پائوڈر مکس کر کے گولی بنا کے کبوتر کو کھلائیِ. مزید اگر یہ آپ نہیں کر سکتے تو کبوتر جس دن اڑ کے آتا ہے اس رات اسے بند کرتے وقت ایک آئیڈیل پلز استعمال کروا دیں.

خراب حالت والے کبوتر کی سنبھال کے طریقے

ہم بات کر رہے تھے کے پرواز سے واپسی پر کبوتروں کی حالت مختلف ہوتی ہے اور پھر اسی حساب سے ان کی حالت کو دیکھتے ہوئے ان کے سنبھال کے لئےمختلف طریقہ کار اختیار کئے جاتے ہیں. اب اگر گرمی بہت زیادہ ہے اور آپ کا کبوتر زور لگا کے اور اچھی پرواز دے کر واپس گھر آیا ہے اور اس کی حالت قدرے ابتر ہے تو اسے بنیادی سنبھال کے بعد ایک پائو سادہ پانی میں پانچ ملی لیٹرعرقِ گلاب، دو ملی لیٹرعرقِ سونف اور دو ملی لیٹر عرقِ صندل سفید مکس کر کے اس پانی میں کبوتر کی چونچیں لگوائیں.اور جب کبوتر پانی چلا کے بیٹ کر لے تو اسے کالے چنے کے برابر مکھن میں بالکل تھوڑی سی تباشیر مکس کر کے کبوتر کو کھلا دیں. اور پھر کچھ دیر بعد اسی پانی میں دوبارہ کبوتر کی چونچیں لگوائیں. جب کبوتر کی حالت سنبھل جائے تو پھر اسے سادہ پانی پینے کے لئے دیں. انشاء اللہ آپ کا کبوتر سنبھل جائے گا.

جب آپ اپنے کبوتروں کو اڑا رہے ہوتے ہیں تو بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آپ کا ایک کبوتر اپنی پرواز بھی پوری نہیں کرتا. جلد یا اپنے اصلی پروازی ٹائم سے بھی پہلے آکر بیٹھ جاتا ہے. اور اسکی حالت بھی ایسی ہوتی ہے کہ اس سے اپنے پائوں پے کھڑا نہیں ہوا جاتا اور پھر اسے سنبھالنا بے حد مشکل دکھائی دیتا ہے. کبوتر کی پرواز سے واپسی پے ایسی حالت کا سبب سخت گرم موسم میں کبوتر کی پوٹ کے اندر دانے کا رہ جانا ہوتا ہے. ایسے کبوتر کو سنبھالنے کے لئے تھوڑا تھوڑا ہم وزن خشک پودینہ، انار دانہ اور سفید زیرہ لے کراور ان سب کو ہلکا سا کوٹ کے سو ملی لیٹر پانی میں اچھی طرح مکس کر کے اس پانی میں کبوتر کی دس دس منٹ بعد چونچیں لگوائیں. جب کبوتر یہ پانی ہضم کرلے تو اسے گندم کے دانے برابر خمیرہ مروارید کھلائیں. پھر جب کبوتر کھانے کے لئے کچھ مانگے تو اسے بالکل تھوڑے سے روٹی کے بھورے کھلا دیں. شام تک اگر وہ یہ بھورے ہضم کر لیتا ہے تو پھر اسے بالکل تھوڑا سا باجرہ کھلا دیں. اور پھر رات کو نو بجے پانچ ملی لیٹر نیم گرم بکری کے دودھ میں پانچ قطرے شہد کے مکس کر کے کبوتر کو پلانے کے بعد اسے کالے چنے کے برابر دوالمسک دے کر چھوڑ دیں. انشاء اللہ صبح تک آپ کا کبوتر فٹ ہو جائے گا.

کبوتر کی جلد ریکوری کیسے ممکن ہے

ہم بات کر رہے ہیں کبوتروں کی پرواز سے واپسی پے سنبھال کے بارے میں. کبوتر سخت گرم موسم میں جب پرواز کے بعد واپسی کرتا ہے تو اس کی جسمانی حالت کو دیکھتے ہوئے اسے سنبھالنے کے لئے مختلف اشیاء کو استعمال کرتے ہوئے پانی بنائے جاتے ہیں. آپ کی رہنمائی کے لئے پرواز سے واپسی پے کبوتروں کی سنبھال کے لئے بنائے جانے والے پانی کے دو اور نہایت مفید اور فوری اثر کرنے والے طریقہ کار آپ کو بتاتا ہوں. جنہیں بنا کر اگر آپ اپنے کبوتروں کو سنبھالتے ہیں تو وہ بہت جلد ریکوری کریں گے.

پرواز سے واپسی پر جلد ریکوری کا پہلا طریقہ

کبوتر کی سنبھال کے لئے پانی بنانے کا پہلا طریقہ کچھ اس طرح سے ہے کہ پچاس گرام خشک آلو بخارہ اور پچاس گرام املی لے کر اسے رات کو کسی مٹی کے برتن میں آدھا لیٹر پانی ڈال کر بھگو کے رکھ دیں. جب آپ کے کبوتر پرواز سے واپس آئیں تو اس پانی کو ہاتھ سے مل کے چھان لیں اور پھر اس بنے ہوئے پانی میں ایک پائو سادہ پانی مکس کر کے اپنے پرواز سے واپس آنے والے کبوتروں کو اس پانی میں چونچیں لگوا کہ سنبھالیں. انشاء اللہ بہت جلد آپ کے کبوتر ریکور ہونگے. گرمی کی برداشت کے لئے یہ پانی بے حد مفید ہے. یاد رہے ان بنے ہوئے پانیوں کو صرف سخت گرم موسم میں ہی استعمال کروانا ہے.

پرواز سے واپسی پے جلد ریکوری کا دوسرا طریقہ

پرواز سے واپسی پے کبوتروں کی سنبھال کے لئے دوسرا پانی بنانے کا طریقہ کچھ اس طرح سے ہے کہ آپ پچاس دانے چنے کی دال کے اور بیس گری بادام کو صبح سویرے کسی مٹی کے برتن میں پانی ڈال کر اس میں بھگو کے رکھ دیں. کبوتروں کے پرواز سے واپس آنے سے ایک گھنٹہ پہلے بادام کی گریوں کا چھلکا اتار کے ، چنے کی دال اور بادام کی گریوں کو تھوڑا تھوڑا پانی ڈال کر رگڑتے جائیں. یہاں تک کے پانی ایک لیٹر تک ہو جائے. تو اسے چھان کے پانی والے برتن میں ڈال دیں.کبوتر جب پرواز سے واپس آئیں تو بنیادی سنبھال کے بعد اس پانی میں ان کی چونچیں لگوائیں. اورجب کبوتر سنبھل جائیں تو پھر اسی پانی میں فی کبوتر ایک گرام کے حساب سے گلوکوز مکس کر کے یہی پانی کبوتروں کو پینے کے لئے دیں. میرے اللہ نے چاہا تو بہت جلد کبوتر اپنی کھوئی ہوئی توانائی کو بحال کر لیں گے.

گرمی کی برداشت کے لئے ملٹھی والے پانی کا استعمال

چونکہ کبوتروں کے پروازی مقابلے گرم موسم میں منعقد ہوتے ہیں. اس لئے اپنے کبوتروں کو اس طرح کی اشیاء استعمال کرواتے رہیں جو کبوتروں میں گرمی کو برداشت کرنے کے لئے مفید ہوں. ملٹھی اور صنوبر کے پھول اس مقصد کے حصول کے لئے بے حد مفید ہیں. ملٹھی کا پانی آپ اس طرح بنا کے استعمال کروا سکتے ہیں کہ آدھ پائو ملٹھی لے کر اسے تھوڑا سا کوٹ کے دو لیٹر پانی میں دو دن کے لئے بھگو کے رکھ دیں. دو دن بعد اس پانی کو اچھی طرح مکس کرنے کے بعد چھان کے کسی بوتل میں بھر لیں. اور اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کا کبوتر تلخ ہوا ہوا ہے تو اسے ایک ملی لیٹر یہ بنا ہوا پانی چار ملی لیٹر سادہ پانی میں مکس کر کے پلا دیا کریں. یہ پانی ناغے والے دن صبح کی خوراک دینے کے بعد کبوتر کو پلا کر اسے جال میں دھوپ میں چھوڑ دیا کریں. انشاء اللہ آپ اپنے کبوتر میں بہتری محسوس کریں گے.

گرمی کی برداشت کے لئے صنوبر کے پھولوں کے پانی کا استعمال

اسی طرح اگر آپ اس مقصد کے لئے صنوبر کے پھول استعمال کرنا چاہتے ہیں تو 50 گرام صنوبر کے پھول لے کر انہیں ایک لیٹر پانی میں بھگو کے دو دن کے لئے پڑا رہنے دیں. اور پھر دو دن بعد اس پانی کو ہاتھوں کے ساتھ اچھی طرح مل کے پانی کو چھان کے اسے ایک بوتل میں بھر کے رکھ لیں. اور پھر جس وقت آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کا کبوتر گرمی محسوس کر رہا ہے اور تلخ ہو رہا ہے تو ناغے والے دن ایک ملی لیٹر بنا ہوا پانی چار ملی لیٹر سادہ پانی کے ساتھ مکس کر کے سرنج کے ساتھ کبوتر کو پلا دیں. یہ پانی بھی آپ نے کبوتر کو ناغے والے دن صبح کی خوراک دینے کے ایک گھنٹہ بعد کبوتر کو پلانا ہے اور پھر اسے جال میں دھوپ میں چھوڑ دینا ہے. اوپر بتائے ہوئے یہ دونوں پانی گرمی کو برداشت کرنے کے لئے آپ کے کبوتروں کے لئے بے حد مفید ثابت ہونگے.

کبوتروں سے لگاتار اچھی پروازیں کیسے لی جا سکتی ہیں

آپ کا کبوتر خواہ کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو. پروازی مقابلوں کے دوران اس کبوتر سے مسلسل اچھی پروازیں لینے کے لئےپرواز سے واپسی پر اس کی حالت کو دیکھتے ہوئے اس کی سنبھال ہی سب سے اہم بات ہے. یہ آپ ہی ہونگے کہ جس نے اسے فوری طور پر ریکور کر کے اس کی کھوئی ہوئی توانائی کو بحال کرنا ہے. اس کی جسمانی تھکاوٹ کو دور کر کے اسے اس طرح سے تیار کرنا ہے کہ وہ نیکسٹ پرواز کے لئے بالکل تیار ہو جائے. لیکن اگر آپ کبوتر کو پرواز سے واپسی پر ٹھیک طرح سے سنبھال نہ سکے تو وہ اپنی پرواز کم کر دے گا. یا پھر اڑنا ہی چھوڑ دے گا اور یوں آپ کی ساری محنت بیکار جائے گی جو شروع دن سے لے کر اب تک آپ نے کی ہے.

عام پھرتوں کے دوران اگر کبوتر کے ساتھ کوئی گڑبڑ ہو جائےتو آپ کے پاس وقت ہوتا ہے اسے ٹھیک کرنے کے لئے. لیکن پروازی مقابلوں کے دوران آپ کے پاس صرف ایک دن ہوتا ہے. جس میں آپ نے کبوتر کو نیکسٹ پرواز کے لئے تیار کرنا ہوتا ہے. اس لئے پرواز سے واپسی پر کبوتر کی سنبھال کبوتر پروری کے شوق کا نہایت اہم حصہ ہے. اور اسمیں مہارت ہی آپ کو ایک اچھا کبوتر پرور بناسکتی ہے.

جو کبوتر اپنی پرواز کم کردے اسے ٹھیک کرنے کا طریقہ

پھرتوں‌کے دوران اگر آپ کا ایک اچھا پروازی کبوتر پروازیں دیتے ہوئے خراب ہو جائے اور پرواز نہ دے. تو ایسے کبوتر کو دوپہر کے دانے کے بعد آدھا لیٹر سادہ پانی میں پانچ ملی لیٹرعرقِ گلاب، پانچ ملی لیٹرعرقِ گائوزبان اور پانچ ملی لیٹرعرقِ سونف مکس کر کے کبوتر کے پانی کے برتن میں ڈال دیں. اور وہ کبوتر یہ پانی پیتا رہے. رات کو نو بجے اس کبوتر کو پانچ ملی لیٹرنیم گرم بکری کے دودھ میں پانچ قطرے شہد کے مکس کر کے پلا دیں. اگلے دن صبح کے وقت اس کبوتر کو خوراک نہ دیں بلکہ تھوڑے سے روٹی کے بھورے کھلائیں. اور دوپہر میں اسے کھانے کے لئے باجرہ دیں. ایک اور دن یہی روٹیں رکھیں اور پھر نیکسٹ ڈے اس کبوتر کو صبح کے وقت خوراک دیں. اور اس سے اگلے دن اسے اڑانا شروع کر دیں. آپ کا کبوتر اپنی اصل پرواز پر واپس آ جائے گا.

پرواز سے واپسی پے کبوتر کا پانی نہ چلانا

سخت گرم موسم میں اڑان سے واپسی پر کبوتر کو پانی کی طلب زیادہ ہوتی ہے.لیکن پرواز سے واپسی پر بعض اوقات کبوتر کی حالت اس طرح کی ہوتی ہے کہ وہ جو پانی پیتا ہے اسے ہضم نہیں کر پاتا. شوق کی اصطلاح میں ہم کہتے ہیں‌کہ کبوتر پانی نہیں چلارہا. اس حالت میں کبوتر بار بار پانی کی طرٍ جاتاہے. ایسی صورتِ حال میں سب سے پہلے تو آپ اپنے کبوتر کو پلٹا کے اس کی پوٹ کے اندر جو پانی ہے اسے باہر نکال دیں. پھر سفید زیرہ، اناردانہ اور خشک پودینہ ہم وزن ایک چھوٹے چائے کے چمچ کے برابر لے کر اسے تھوڑا رگڑ لیں. اور اسے آدھ پائو پانی میں اچھی طرح مکس کر کے اس پانی میں کبوتر کی ایک ہلکی سی چونچ لگوا کے پانی اس کے آگے سے اٹھا لیں. پانچ منٹ بعد پھر یہی عمل دہرائیں. اور پھر دس منٹ بعد کبوتر کی اسی پانی میں چونچ لگوائیں. اور اس کے بعد چنے کے برابر مکھن میں ایک ماچس کی تیلی پے رکھ کے کشتہ مروارید یا سچے موتیوں کا پائوڈر اس میں مکس کر کے کبوتر کو کھلا دیں.اگر یہ چیزیں دستیاب نہ ہوں تو چنے کے برابر دھی کی ملائی میں ایک ماچس کی تیلی پے رکھ کے تباشیر پائوڈر کو مکس کر کے کبوتر کو کھلا دیں اور اسے کچھ دیر کہ لیے چھوڑ دیں. جب کبوتر چونچیں لگوانے والا پانی ہضم کر کے بیٹ کر دےتو پھر ایک گلاس پانی میں پانچ ملی لیٹرعرقِ گلاب، پانچ ملی لیٹرعرقَ سونف اور پانچ ملی لیٹرعرقِ گائو زبان مکس کر کے یہ پانی کبوتر کے پانی کے برتن میں ڈال دیں اور کبوتر کو یہ پانی پینے دیں. انشاء اللہ آپ کا کبوتر پانی چلا لے گا.

کبوتروں‌کی پرواز میں اضافہ کے لئے استعمال ہونے والے نسخہ جات

اب اس آرٹیکل کے آخر میں ہم بات کریں گے کبوتروں کی پرواز میں اضافہ کرنے کے لئے استعمال ہونے والی مختلف اشیاء، دیسی یا میڈیسن نسخہ جات، کبوتروں کی پرواز میں اضافہ کے لئے بنائے جانے والے گرم پانی اور خاص طور پر کبوتروں کی پرواز میں اضافہ کے لئے بنائے جانے والے انرجی بوسٹرز پر. آپ کو اس ویب سائٹ کے نسخہ پرواز والے سیکشن میں کبوتروں کی پرواز میں اضافہ کے لئے استعمال ہونے والے مختلف نسخہ جات مل جائیں گے. یہ تمام نسخہ جات آزمودہ ہیں. اسی طرح پرواز میں اضافہ کے لئے بنائے جانے والے مختلف گرم اور ٹھنڈے پانی بنانے کے نسخے بھی آپ نسخہ پرواز والے سیکشن میں پڑھ سکتے ہیں. ان نسخہ جات کو بنانے اور استعمال کرنے کا جو طریقہ وہاں بتایا گیا ہے اگر آپ بالکل اسی طرح انہیں استعمال کرتے ہیں تو سو فیصد آپ کو رزلٹ ملے گا اور آپ کے کبوتر اپنی پرواز میں اضافہ کر کے گھر واپس آئیں گے اور آپ کی کامیابی کو یقینی بنائیں گے.

ویب سائٹ کے پیجن میڈیسن سیکشن میں آپ کو ان تمام ادویات کے بارے میں معلومات مل جائیں گے. جن کے استعمال سے کبوتر اپنی انرجی میں اضافہ کرتے ہیں اور ان کا استعمال کبوتروں کی پرواز میں اضافہ کا سبب بنتا ہے. پیجن میڈیسن کے سیکشن میں ہی آپ کو یورپ میں خاص طور پر کبوتروں کے لئے بنائے جانے والے مختلف قسم کے وٹامنز اور انرجی بوسٹرز کے بارے میں مکمل تفصیلات مل جائیں گی. یورپ میں کبوتروں کی پرواز میں اضافہ کے لئے تیار کئے جانے والے ان انرجی بوسٹرز اور پرواز سے واپسی پر کبوتروں کی سنبھال کے لئے بنائی جانے والی ادویات نے کبوتر پروری کے شوق کو کافی حد تک آسان کر دیا ہے. اسی طرح پیجن فیڈ سیکشن میں آپ کو ان تمام سیڈز کے بارے میں مکمل معلومات مل جائیں گی جو ہم اپنے کبوتروں کو خوراک یا دانہ کے طور پر استعمال کرواتے ہیں. کہ وہ ہمارے کبوتروں کی کن کن جسمانی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں. اپنے شوق کی بہتری کے لئے آپ ویب سائٹ پے موجود ان تین سیکشن کا ضرور وزٹ کر لیں. یقینا یہ سب کچھ جاننے کے بعد آپ کے شوق میں بہتری آئے گی.

کبوتر پروری سے متعلق چند اہم باتیں

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اوپر بتائی جانے والی تمام چیزیں کبوتروں کی پرواز میں اضافے کا سبب بنتی ہیں. اور پروازی مقابلوں میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے ان کا کردار انتہائی اہم ہے. لیکن ان کو استعمال کرنے سے پہلے آپ کے لئے یہ جاننا بھی بے حد ضروری ہے کہ تمام کبوتر ایک مزاج کے نہیں ہوتے. ہر کبوتر کا مزاج مختلف ہوتا ہے. جیسے کچھ کبوتروں کی جلد خشک ہوتی ہے تو کچھ کی نمدار. اسی طرح کچھ کبوتروں کی آنکھیں نمدار ہوتی ہیں تو کچھ کی خشک. اس لئے ہر کبوتر پر کارکردگی میں اضافے کے لئے ایک ہی چیز ایک جیسا اثر نہیں کرتی. اس کا اثر کسی کبوتر پر کم ہوتا ہے تو کسی پر زیادہ. یا پھر وہ چیز ایک کبوتر پر بالکل بھی اثرانداز نہیں ہوتی. یا پھر وہی چیز کبوتر کو فائدہ دینے کی بجائے الٹا نقصان دے دیتی ہے.

یہ سب چیزیں سمجھنے اور ذہن نشین کرنے والی ہوتی ہیں. اصل استادی یہی ہے کہ آپ اپنے کبوتر کو سمجھیں. پھرتوں کے دوران اپنے کبوتروں پر غور کریں کہ کون سا کبوتر کس طرح کے حالات میں کس طرح کی پرواز دیتا ہے. موسم اس پر کس طرح سے اثر انداز ہوتا ہے. کون سی وہ چیزیں ہیں کہ جن کے استعمال سے وہ اپنی کارکردگی میں اضافہ کرتا ہے. کن وجوہات کی بناء پے آپ کا کبوتر اپنی پرواز میں کمی کرتا ہے. ان سب چیزوں کے بارے میں آپ کو علم ہونا چاہئے. اور یہ سب باتیں پروازی مقابلوں کے دوران اپنے کبوتروں سے بہتر پرواز لینے کے لئے آپ کے کام آتی ہیں. اگر آپ نے ان کو ذہن نشین کیا ہوا ہو.

ادویات کے استعمال میں توازن قائم رکھنا

ہم جو چیزیں اپنے کبوتروں کو استعمال کرواتے ہیں ان میں سے کچھ ٹھنڈی ہوتی ہیں، کچھ گرم اور کچھ معتدل. پھر گرم اشیاء میں بھی کچھ تر گرم ہوتی ہیں اور کچھ خشک گرم. اس لئے ہمیشہ کبوتروں کی خوراک، دانہ پانی، نسخہ جات اور سنبھال کے لئے دی جانی والی اشیاء میں توازن قائم رکھیں. اور یہ سب باتیں وہی شخص جانتا یا سمجھتا ہے جس نے اپنے کبوتروں پر محنت کی ہے. ان کے ساتھ وقت گزارا ہے. انہیں اڑایا ہے اور پھر اڑان سے واپسی پر ان کو سنبھالتا رہا ہے. ان کا خیال رکھا ہے اور ان کی عادات و اطوار کو جانتا ہے. اس لئے کبھی بھی اپنے کبوتر بازی یا مقابلے والی رات کسی دوسرے کے حوالے نہ کریں. اس شخص کو آپ کے کبوتروں کے بارے میں بالکل بھی علم نہیں ہے. وہ ان سب کو ایک ہی لاٹھے سے ہانکے گا.

کبوتروں‌کی پرواز میں اضافے کا آزمودہ طریقہ

اگر آپ کے کبوتر پھرتوں میں ایک سے تین بجے کے درمیان میں اڑ رہے ہیں. صحت مند اور فٹ ہیں. کسیں ان کی بنی ہوئی ہیں.تو ایسے کبوتروں کو آپ بازیوں یا مقابلوں کے وقت تھوڑا بہت گرم کر کے ان کی پرواز ایک سے دو گھنٹوں کے درمیان تک بڑہا سکتے ہیں. لیکن اگر اس کے باوجود بھی آپ کبوتروں کی پرواز میں اضافہ کے لئے کوئی نسخہ استعمال کرنا چاہتے ہیں تو یہاں آرٹیکل کے آخر میں آپ کو کبوتروں کی پرواز میں اضافہ کے لئے ایک مکمل اور آزمودہ طریقہ کار آپ کو بتا رہا ہوں جس سے یقینا آپ کے کبوتر اچھی پرواز دے کر گھر واپسی کریں گے.

گرم پانی بنانے کا طریقہ

آپ نے کل صبح اپنے کبوتروں کو پروازی مقابلے میں اڑانا ہے تو سب سے پہلے آج ناغے والے دن دوپہر کے دانے کے بعد اس طریقہ سے پانی بنا کر اپنے کبوتروں کو پلائیں. پانی بنانے کے لئے اجوائن خراسانی چائے والے چھوٹے چمچ کا چوتھا حصہ، دوعدد بڑی الائچیوں کے بیج، کالی مرچ دوعدد، منقے دوعدد بیج نکال کے، سونف کے صرف دس دانے، دارچینی کا تین انچ کا ٹکڑا اور ملٹھی کا ایک انچ کا ٹکڑا. ان سب اشیاء کو ایک لیٹر پانی میں ڈال کر چولہے پر ہلکی آگ رکھتے ہوئے اتنی دیر تک پکائیں کہ پانی ایک پائو رہ جائے. اس وقت چولھا بند کر دیں اور پانی کو چھان کے کسی بوتل میں بھر لیں. پھر اس بنے ہوئے پانی میں سے آدھ پائو پانی لے کر اسے ایک لیٹر سادہ پانی میں مکس کر کے کبوتروں کے پانی والے برتن میں ڈال دیں اور دوپہر کے دانے کے بعد انہیں یہ پانی پلائیں.

پرواز میں اضافہ کے لئے گولی بنانے کا طریقہ

اس کے بعد آپ نے یہ کرنا ہے کی چھ عدد منقے لے لینے ہیں. اور تیس عدد خالص زعفران کے تار لے لیں. ہر منقے میں سے اس کے بیج نکال کر اس کے اندر زعفران کے پانچ تار رکھ کے منقے کو بند کر دیں. ایک روٹی بنانے کے لئے جتنا گندھا ہوا آٹا درکار ہوتا ہے وہ لے کراس کا ایک پیڑا بنا لیں. اور پھر اس پیڑے کے اندر منقوں کو رکھ کر پیڑے کو بند کردیں. اس کے بعد کچھ کوئلے لے کر انہیں اچھی طرح پہلے جلا لیں اور پھر ان کوئلوں کے اندر جلے ہوئے پیڑے کو رکھ کے اتنی دیرکے لئے پکائیں کہ پیڑا سخت ہو جائے. جب پیڑے کو کوئلے کے اندر رکھیں تو اسے ہلاتے رہیں تاکہ پیڑے کے اندر موجود منقے اور زعفران زیادہ پک جانے کی وجہ سے جل نہ جائیں. جب پیڑا کچھ سخت ہو جائے تو اسے کوئلوں سے باہر نکال کے رکھ دیں اور ٹھنڈا ہونے دیں. پھر پیڑے کو کاٹ کے منقوں کو باہر نکال لیں. منقوں کے اردگرد اگر تھوڑا بہت پانی بن جائے تو اسے بھی منقوں کے ساتھ ہی مکس کر دیں. اور پھر ان کو اچھی طرح مکس کر کے کالی مرچ کے سائز کی گولیاں بنا لیں.

طریقہ استعمال

رات کو دس بجے جتنے بھی کبوتر آپ نے اڑانے ہیں انہیں ایک ایک گولی کھلا کے انہیں ایک چنے برابر دوالمسک جوہردار میں ایک ماچس کی تیلی پے رکھ کے کشتہ مروارید مکس کر کے ہر کبوتر کو کھلا دیں. اور پھر رات کو بارہ بجے آپ کے پاس دوپہر کے دانے کے بعد جو پانی کبوتروں کے لئے بنایا تھا. وہ بنا ہوا پانی دو ملی لیٹر تین ملی لیٹر سادہ پانی میں مکس کر کے ہر کبوتر کو پلا دیں. اور پھر صبح کے وقت جس طرح سے آپ کی کبوتروں کو اڑانے کی روٹین ہے اس کے مطابق اپنے کبوتروں کو اللہ کا نام لے کر اڑا دیں. انشاء اللہ آپ کے کبوتر آپ کے توقع سے بڑھ کے پرواز دے کر واپس گھر آئیں گے.

حرفِ آخر

اپنے اس آرٹیکل میں میں نے کوشش کی ہے کہ وہ تمام معلومات جو کبوتروں کو پروازی مقابلوں کے لئے تیار کرنے سے متعلق ہیں آپ تک پہنچا سکوں. اور کبوتروں کی پر پٹائی سے لے کر انہیں مقابلوں میں اڑانے تک جو جو مشکلات ایک کبوتر پرور دوست کو پیش آتی ہیں. ان کو بیان کیا گیا ہے اور ساتھ میں اس کا حل بھی بتایا گیا ہے. تاکہ وہ تمام کبوتر پرور شوقین حضرات جن کو اپنے کبوتروں کو پروازی مقابلوں کے لئے تیار کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں ان کی رہنمائی ہو سکے. میں نے اپنی پوری کوشش کی ہے اس آرٹیکل میں. اب اسے پڑھ کر یا اس پر عمل کر کے آپ نے بتانا ہے کہ میں اپنے اس مقصد میں کس حد تک کامیاب رہا ہوں.

Leave a Comment