کبوتر کی آنکھ کے بارے میں مکمل معلومات Pigeon Eye Complete Information

کبوتر کی آنکھ کے بارے میں معلوماتی مضمون

کبوتر کی آنکھ اس کے جسم کا ایک ایسا حصہ ہے. جس کو دیکھ کر ایک کبوتر پرور جو کہ کبوتر کی آنکھ پڑھنے کا علم جانتاہے. اس کی بہت ساری خوبیوں یا خامیوں سے آشنا ہو سکتا ہے. گو کہ ہمارے اس شوق سے وابستہ افراد اس بارے میں‌مختلف رائے بھی رکھتے ہیں. لیکن عام طور پر یہ وہی لوگ ہوتے ہیں. جو کہ کبوتر کی آنکھ کو پڑھنے کے علم سے نابلد ہوتے ہیں. ہمارا آج کا یہ آرٹیکل کبوتر کی آنکھ کے بارے میں‌مکمل معلومات Pigeon Eye Complete Information کے بارے میں‌ہی ہے. جس میں آپ کو تفصیل کے ساتھ کبوتر کی آنکھ میں موجود اسرارورموز کے بارے میں بتایا جائے گا. آنکھ میں‌موجود مختلف حصوں پر روشنی ڈالی جائے گی

کبوتر کی آنکھ ہمیں کیا بتاتی ہے

جب آپ اس مضمون کو آخر تک پڑھ لیں گے. تو آپ کو بہت سی ایسی باتوں کا علم ہو جائے گا. جو صرف کبوتر کی آنکھ ہی ہمیں بتاتی ہے. زیادہ باریکی میں نہ بھی جایا جائے. تو کبوتر کا تعلق کس بریڈ نسل سے ہے. یہ ہم کبوتر کی آنکھ دیکھ کر ہی جان سکتے ہیںِ. گو کہ کبوتر کے رنگ اور باڈی سٹرکچر سے بھی ہم کبوتر کی نسل کے بارے میں اندازہ لگاتے ہیں لیکن کنفرم یہ بات صرف اور صرف اسکی آنکھ سے ہی ہو سکتی ہے. اس کے بعد کبوترمیں کس قدر بریڈنگ کی کوالٹیز موجود ہیں. یہ بھی ہمیں‌کبوتر کی آنکھ سے ہی پتا چلتا ہے. اس کے علاوہ کبوتر کی سیان یا ذہانت کا اندازہ بھی ہم کبوتر کی آنکھ سے ہی کر سکتے ہیںِ

ایک اچھے کبوتر کی آنکھ کی مجموعی خصوصیات

ایک اچھے کبوتر کی آنکھ روشن اور چمکدار ہوتی ہے. آنکھ نمدار ہو جسے کبوتر پروری کی اصطلاح میں تر آنکھ بھی کہا جاتا ہے. اس چیز کو ایسے بھی بیان کیا جا سکتا ہے. کہ کبوتر کی آنکھ کو دیکھیں تو ایسا لگے کہ اس کے اندر پانی تیر رہا ہے
آنکھ باہر کی جانب ابھری ہوئی ہو. مطلب اس کی ساخت اس طرح ہو کہ درمیان سے باہر کی جانب ابھری ہوئی اور کناروں سے اندر کی طرف. کبوتر کی آنکھ میں موجود تل سیاہ روشن اور چمکدار ہو. تل جس قدر سائز میں چھوٹا ہو اتنا بہتر ہے. تل بالکل درمیان میں‌ہو. لیکن اس کا جھکائو اگر چونچ کی جانب ہو تو یہ سب سے بہترین ہے

اگر کبوتر کی آنکھ کو ہم سورج کی روشنی میں دیکھیں. تو کبوتر روشنی کی کمی یا زیادتی ہونے پے تل کو زوم کرے. کبوتر کی آنکھ کے تل کے اردگرد جو پہلا دائرہ ہوتا ہے. وہ مکمل، گہرا اور واضح ہو. اس دائرے کے بات کبوتر کی آنکھ کی جو زمین ہے وہ واضح ہو. زمین پر پھر باریک ذرات ہوں. کچھ کبوتروں میں یہ حصہ جالیدار بھی ہوتا ہے. آنکھ کے آخری حصہ میں‌بھی ایک مکمل دائرہ ہو. کبوتر کی آنکھ کی پلک باریک ہو. اتنی باریک کہ اگر پلک آنکھ کے اوپر آئے تو اس کے نیچے کبوتر کی آنکھ کا تل نظر آتا ہو. یہ ہیں ایک اچھے کبوتر کی آنکھ کی مجموعی خصوصیات. اس کے بعد اب ہم کبوتر کی آنکھ کے مختلف حصوں کے بارے میں تفصیل کے ساتھ بات کرتے ہیں

آنکھ کے مختلف حصے

آنکھ کو ہم درج ذیل حصوں‌میں تقسم کر سکتے ہیں. نمبر ایک کبوتر کی آنکھ کا تل . نمبر دو آنکھ میں موجود تل کے گرد ایک مکمل دائرہ جسے ہم بریڈنگ رنگ بھی کہتے ہیں. نمبر تین ہے بریڈنگ رنگ کے بعد کبوتر کی آنکھ کی زمین اور پھر اس زمین پے موجود مختلف رنگوں کے ذرات. نمبر چار آنکھ کے آخری حصہ میں جہاں‌پے آنکھ ختم ہوتی ہے وہاں پھر ایک دائرہ جسے ہیلتھ رنگ کہتے ہیں. پانچویں نمبر پے ہے کبوتر کی آنکھ کی پلک . اور پھر چھٹا نمبر ہے آنکھ کے باہری حصہ کی جلد. اب ہم ان مذکورہ بالا حصوں کا الگ الگ جائزہ لیتے ہیں. اور ان کی خوبیوں اور خامیوں پے بات کرتے ہیںِ

پہلے نمبر پے آنکھ کا تل

آنکھ میں موجود تل مختلف اشکال میں ملتا ہے. جیسا کہ چھوٹا باریک سے دائرہ کے شکل میں. تل جتنا زیادہ چھوٹا یا باریک ہوگا.کبوتر اتنا ہی زیادہ بلندی میں جا کے پرواز کرے گا. اگر اس طرح کا تل چھوٹا اور باریک ہونے کے ساتھ روشن اور چمکدار بھی ہے تو کبوتر کم روشنی میں‌بھی گھر واپسے کرے گا.کبوتر کی آنکھ کا تل بیضوی شکل کا بھی ھوتا ہے. اس طرح کے تل آنکھ کے بالکل درمیان میں واقع ہوتا ہے. چاول کے دانے کی شکل کا تل بھی کبوتروں کی آنکھ میں‌پایا جاتا ہے. اس تل کا حامل کبوتر اچھی پرواز اور بریڈنگ کی خوبیوں‌کا مالک ہوگا. جس کبوتر کی آنکھ کا تل تکونی شکل میں‌ہوگا.اس تل کی حامل آنکھ کا شمار بہترین آنکھ میں‌ہوتا ہے. ایسا کبوتر بے حد ذہین ہوگا. اس کے علاوہ کبوتر کی آنکھ میں ستارے کی شکل کا تل بھی دیکھنے کو ملتا ہے. لیکن یہ بہت نایات ہے. اور پھر بڑے دائرے کی شکل کا تل جس کا حامل کبوتر اچھا شمار نہیں‌ہوتا

دوسرے نمبر پے تل کے گرد دائرہ

یہ دائرہ جسے بریڈنگ رنگ بھی کہا جاتا ہے. کبوتر کی آنکھ میں تل کے ارد گرد موجود ہوتا ہے. یہ دائرہ ظاہر کرتا ہے کہ کبوتر اپنی نسل میں‌کس قدر خالص ہے. یہ دائرہ جس قدر بڑا، واضح اور مکمل ہوگا. کبوتر اپنی نسل میں‌اسی قدر خالص ہوگا. جیسے جیسے کبوتر کراس ہوتا جائے گا. تل کے گرد موجود یہ دائرہ بھی باریک اور غیر واضح ہوتا چلا جائے گا. کراس در کراس ہو کر یہ دائرہ ایک وقت بالکل ختم ہو جائے گا. اس طرح کا کبوتر اگر اس میں ایک اچھے کبوتر والی دیگر خصوصیات موجود ہوں. تو پروازی تو ہو سکتا ہے لیکن اچھا بریڈر نہیں ہو سکتا. تل کر گرد کٹاپھٹا، نامکمل اور باریک دائرہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کبوتر اپنی نسل میں‌خالص نہیں رہا

تل کے گرد موجود یہ دائرہ مختلف رنگوں میں پایا جاتا ہے. عام طور پر یہ دائرہ کالے گرے ہرے نیلے پیلے اور سفید رنگ میں ہوتا ہے. اس دائرے کے رَنگ کی وجہ سے کبوتر کی نسل کے بارے میں پتا چلتا ہے. کالے گرے اور ہرے رنگ کا دائرہ زیادہ تر سیالکوٹی اور فیروزپوری کبوتروں کی مختلف نسلوں میں‌پایا جاتا ہے. جیسا کہ وحشی نسل کے کبوتر کی آنکھ میں تل کے گرد پہلا دائرہ ہرے رنگ میں‌ہوتا ہے. پینتیس والے کبوتروں میں یہ دائرہ کالے رنگ میں. جبکہ موتیوں والی نسل کے کبوتروں میں یہ دائرہ کالے یا گرے رنگ کا ہوگا. جبکہ نیلے اور سفید رنگ کا یہ دائرہ قصوری اور رام پوری نسل کے کبوتروں‌میں پایا جاتا ہے. جبکہ کمان گر کبوتروں میں یہ دائرہ فیروزی رنگ کا ہوگا

تیسرا نمبر ہے آنکھ کی زمین اور ذرات

کبوتر کی نسل کی پہچان کے سلسلے میں آنکھ کی زمین اور ذرات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں. کیونکہ کبوتروں کی مختلف نسلوں میں یہ زمین اور اس پے موجود ذرات مختلف رنگوں میں ہوتے ہیں. آنکھ کو پڑھنے کے علم کا یہ سب سے مشکل اور پچیدہ حصہ ہے. اپنی نسل میں ایک خالص کبوتر کی حد تک تو یہ اتنا مشکل نہیں‌ہے. لیکن مختلف نسلوں‌کے کراس سے جو نسلیں بن رہی ہیں. اس وجہ سے کبوتر کی آنکھ کی زمین اور اس پے موجود ذرات کو پرکھنا کافی مشکل ہو جاتا ہے. کبوتر پروری کی فیلڈ میں چند افراد ہی ایسے ہیں. جو کبوتر کی آنکھ کو پڑھ کے یہ بتا سکیں کہ یہ کبوتر ان نسلوں کے کراس سے وجود میں آیا ہے

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سیالکوٹی نسل کے کبوتروں کی آنکھوں میں. یہ ذرات کالے نیلے ہرے میلے کلیجی اور میرون رنگ کے ہوتے ہیں. معروف سیالکوٹی نسل پینتیس والے کبوتروں میں زمین میلی ہوتی ہے. اور ذرات نیلاہٹ مائل کلیجی رنگ کے ہوتے ہیں. جبکہ بٹیرا نسل کے کبوتروں میں زمین سفید اور اس پے ہلکے برائون ذرات ہوتے ہیں. اسی طرح وحشی نسل کے کبوتروں کی آنکھوں میں یہ ذرات نیلے اور کالے رنگ میں ملتے ہیں. اور پھر معروف سیالکوٹی کبوتروں کی نسل چوہے کبوتروں میں یہ ذرات میرون کلر کے پائے جاتے ہیں. قصوری کبوتروں کی مختلف نسلوں میں یہ ذرات لال سرخ لال پیازی اناری ہلکے اور گہرے گلابی رنگ میں‌ملتے ہیں. صرف ٹیڈی کبوتروں کی آنکھ سفید سلور یا زردی مائل سفید ہوتی ہے. جس پر بعض صورتوں میں سفید زمین پے ہلکے گلابی ذرات ہوتے ہیں

چوتھا نمبر ہے آنکھ کے آخری حصہ کا دائرہ ہیلتھ رنگ

یہ دائرہ کبوتر کی آنکھ کے آخری حصہ میں پایا جاتا ہے. اسے ہیلتھ رنگ بھی کہتے ہیں. ایک اچھے پروازی کبوتر کی آنکھ میں اس دائرے کا ہونا بے حد ضروری ہے. اگر ایک کبوتر اچھی پرواز دے رہا ہے. لیکن اس کی آنکھ میں‌یہ دائرہ موجود نہیں ہے. تو ایسے کبوتر پے اعتبار نہیں کیا جاسکتا. کیونکہ یا تو ہو سکتا ہے ایک دن وہ پرواز سے واپس ہی نہ آئے. یا پھر نیچے آکر لمبا ہو جائے گا. یا تو واپس ہی نہیں آئے گا. اور اگر آیا تواچانک بہت نیچا ہو کے گھر واپس آئے گا. اور پرواز کے مروجہ اصولوں کے مطابق کٹ جائے گا

یہ دائرہ کبوتر کی آنکھ کو سورج کی تیز شعاعوں سے محفوظ رکھتا ہے. یہ دائرہ بھی کبوتروں کی مختلف نسلوں میں مختلف رنگوں کا ہوتا ہے. عام طور پر یہ سیاہ برائون گرے چاکلیٹ یا نیلے رنگ میں‌پایا جاتا ہے. قصوری کبوتروں کی مختلف نسلوں میں یہ آخری دائرہ چاکلیٹی رنگ کا ہوتا ہے. معروف سیالکوٹی کبوتر کی نسل پینتیس والے کبوتروں میں یہ دائرے سرخی مائل سیاہ رنگ میں‌ہوتا ہے. چوہا نسل کے کبوتروں میں آنکھ میں موجود یہ آخری دائرہ گرے رنگ کا ہوگا. جبکہ وحشی نسل کے کبوتروں میں اس دائرے کا رنگ بالکل سیاہ ہوگا

پپانچواں‌نمبر ہے کبوتر کی آنکھ کی پلک کا

پلک باریک سے باریک تر زیادہ اچھی شمار ہوتی ہے. پلک اتنی باریک ہو کہ جب کبوتر کی پلک آنکھ کے اوپر آئے. تو اس کے نیچے آنکھ کا تل نظر آرہا ہو. کبوتروں کی پلک بھی مختلف رنگوں میں ہوتی ہے. پلک کا سب سے اچھا رنگ سفید، سفید کریمی یا سفید مومی ہے. زرد رنگ کی پلک بھی اچھی پلکوں میں شمار ہوتی ہے. لیکن پلک کا رنگ سیاہ نہیں ہونا چاہئے. خالص سرخ یا گلابی پلک چھتری والے کبوتروں میں ملتی ہے. ہائی فلائیر کبوتروں میں پلک کا یہ رنگ بے حد نایاب ہے. لیکن قصوری کبوتروں میں پلک کا رنگ زردی مائل گلابی یا سفیدی مائل گلابی ہوتا ہے. کبوتروں کی پلک کے رنگ کی بدولت کبوتر کی نسل کے بارے میں بھی رہنمائی ہوتی ہے.

چھٹا نمبر آنکھ کے باہری حصہ کی جلد

آنکھ کی باہری جلد کا رنگ بھی کبوتروں کی‌مختلف نسلوں میں مختلف قسم کا ہوتا ہے. سیالکوٹی کبوتروں کی مختلف نسلوں میں باہری جلد کا رنگ گرے یا پھر کچھ نسلوں میں‌ہلکے نیلے رنگ کا ہوتا ہے. قصوری نسل کے کبوتروں کی باہری جلد کا رنگ زرد ہوتا ہے. جبکہ فیروزپوری نسل کے کبوتروں میں اس کا رنگ ہلکا نیلا یا سفید کریمی ہوتا ہے. دوستو یہ تھے وہ سب حقائق جن کے بارے میں کبوتر کی آنکھ ہمیں بتاتی ہے. بہت سے دوست ان سے اختلاف کرسکتے ہیں. لیکن یہ سب وہ ہیں جو کہ کبوتر کی آنکھ کی ان باریکیوں سے نابلد ہیں. کبوتر کی آنکھ کو جب بھی آپ پرکھتے ہیں تو اسے سورج کی روشنی میں پرکھیں. اس وقت آپ کو کبوتر کی آنکھ کے ذرات اپنے بالکل اصلی رنگ میں نظر آئیں گے. اور آپ بہتر طور پر اپنے کبوتر کی آنکھ کی پرکھ کر سکیں گے

Leave a Comment