کبوتر کی آنکھ میں ہم کیا دیکھتے ہیں

کبوتر کی آنکھ

آج کے اس آرٹیکل میں ہم کبوتر کی آنکھ کے بارے میں بات کریں گے. کبوتر کی آنکھ کے بارے میں مختلف کبوتر پرورں کے نظریات کیا ہیں. ایک کبوتر پرور جب کسی کبوتر کی آنکھ کو دیکھتا ہے تو وہ اس سے کیا نتائج اخذ کرتا ہے. عام طور پر آپ نے دیکھا ہو گا کہ جب کوئی کبوتر پرور کبوتر کو پکڑ کے اس کا جائزہ لے رہا ہو. تو وہ کبوتر کو ایک مخصوص طریقے کے ساتھ ہاتھ سے ٹٹولتا ہے. اس کے پروں اور پنجوں کا جائزہ لیتا ہے. اور اس کے بعد کبوتر کی آنکھ کا بغور مشاہدہ شروع کر دیتا ہے. دیکھنے کا سٹائل اس طرح کا ہوتا ہے کہ جیسے کوئی کھوئی ہوئی چیز تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہو.

یہ ایک عام روٹین کی بات ہے. ھر کبوتر پرور آپ کو اس طرح کبوتر کو دیکھتے ہوئے نظر آئے گا. خواہ وہ کوئی اس شوق کا استا ہو. یا پھر کوئی نیو شوقین. اور اگر آپ اس بندے سے یہ پوچھ لیں کے بھائی آپ کبوتر کی آنکھ میں سے کیا ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہو.تو تقریبا ننانوے فیصد یا تو آپ کو کوئی کچھ بتائے گا ہی نہیں. یا اگر کوئی کچھ بتائے گا تو پھر بھی آپ کو کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملے گا. وجہ اس کی یہ ہوتی ہے کہ زیادہ تر دوستوں کو تو اس بارے میں کچھ پتا ہئ نہیں ہوتا. اور جن کو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ بتانے کو تیار نہیں ہیں.

کبوتر کی آنکھ کے بارے میں کبوتر پروروں کی رائے

کبوتر کی آنکھ سے کبوتر کی خوبیوں یا خامیوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے یا نہیں . یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب کبوتر پروری کے شوق سے وابستہ افراد کے نزدیک الگ الگ ہے. کچھ لوگوں کے نزدیک کبوتر کی آنکھ کو دیکھ کر کوئی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ وہ کس طرح کا ہوگا. ان کے مطابق کبوتر کے اچھے یا برے ہونے کا تعلق اس کی پرواز سے ہے. کیونکہ کبوتر نے اڑنا پروں سے ہوتا ہے تو پھر آنکھ کا اس سے کیا تعلق. جبکہ کچھ دوستوں کے نزدیک کبوتر کی آنکھ کو دیکھ کر ہم اس کے بارے میں‌بہت کچھ جان سکتے ہیں. اور وہ کبوتر کا جائزہ لیتے وقت اس کی آنکھ کو خاص اھمیت دیتے ہیں.

کبوتر کی آنکھ ہمیں کیا بتاتی ہے

قطع نظر اس کے کہ کبوتر کی آنکھ کے بارے میں کبوتر پروری کے شوق سے وابستہ افراد کی رائے مختلف ہے. لیکن ہر کبوتر پرور آپ کو کبوتر کی آنکھ کو دیکھتا ہوا ضرور نظر آئے گا. زبانِ خلق کو نقارہ اے خدا سمجھو. سو کچھ نہ کچھ تو ہوگا کہ ہر کوئی آنکھ کو دیکھتا ہے. اور حقیقت بھی یہی ہے. کبوتر کی آنکھ کو پڑھنا اور اس کے مختلف حصوں سے اس کی اچھائیوں یا برائیوں کے بارے میں جاننا باقاعدہ ایک علم ہے. لیکن یہ ہے کافی مشکل. اس کے لئے تحقیق، تجربے اور مشاہدے کی ضرورت ہے. کبوتر کی آنکھ ہمیں اس کی نسل کے بارے میں بتاتی ہے. کبوتر میں بریڈنگ کی خصوصیات کے بارے میں ہم آنکھ سے جان سکتے ہیں. کبوتر کی سیان مطلب عقل یا یوں کہ لیں کے پرواز سے واپسی پر کبوتر کا واپس گھر آنا . اس کا اندازہ بھی ہم کبوتر کی آنکھ سے لگا سکتے ہیں.

استاد چوہدری محمد عقیل

دراصل کبوتر کی آنکھ کو پڑھنا ایک ایسا علم ہے جس میں بہت کم افراد ایسے ہیں جن کو کمال حاصل ہے. اور وہ اپنے اس علم کو دوسرے کبوتر پرور شائقین تک پہنچا بھی رہے ہیں. جن میں استاد چوہدری محمد عقیل صاحب سرفہرست ہیں. اللہ تعالیٰ ان کے علم میں اور زیادہ اضافہ فرمائیں. انہیں اس علم میں اس حد تک کمال حاصل ہے کہ آپ ان کو کسی کبوتر کی آنکھ کا صرف آئی کلوز اپ تصویر کی شکل میں دکھا دیں. شرط صرف یہ ہے کہ تصویر اچھی بنی ہوئی ہو. اور اس میں آنکھ کا ہر حصہ صاف نظر آ رہا ہو. وہ صرف اس آئی سائن تصویر کو دیکھ کر آپ کو بتا دیں گے کہ وہ کبوتر کس نسل سے تعلق رکھتا ہے. یہاں تک کہ اگر اس کبوتر میں کسی نسل کا کراس بھی ہے تو اس کی بھی نشاندہی کردیں گے. میری اس بات کی گواہی وہ سب دوست دیں گے جنہوں نے استاد چوہدری محمد عقیل صاحب سے کبوتر کی آنکھ یا کبوتر پروری کے شوق کے بارے میں بہت کچھ سیکھا ہے.

یہ بات میں آپ کو اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پے بتا رہا ہوں. کبوتر پرور دوست جو یہ کہتے ہیں کی کبوتر کی آنکھ میں کچھ نہیں رکھا. ان کی خدمت میں عرض ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے. کبوتر کی آنکھ ہمیں بہت کچھ بتاتی ہے. صرف دیکھنے والی نظر ہونی چاہئے. یا پھر اس طرح کا کوئی استاد مل جائے جو اس علم میں کمال رکھتا ہو. اور ساتھ میں اس میں اتنی ھمت بھی ہو کہ اپنے اس علم کو دوسرے شوقین حضرات کو بتا بھی سکے. جو کہ ہمارے اس کبوتر پروری کے شوق میں بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے. خیر یہ تو ایک الگ بحث ہے کہ اس میں سیکھانے والوں کا قصور زیادہ ہے یا سیکھنے والوں کا. انشاء اللہ اگر کبھی موقع ملا تو اس پر الگ سے کسی مضمون میں بات کریں گے ہمارا آج کا موضوع کبوتر کی آنکھ ہے.

ایک اچھے کبوتر کی آنکھ کیسی ہوتی ہے

جب ہم کسی کبوترکی آنکھ کو دیکھتے ہیں تو ظاہری طور پر ایک اچھے کبوتر کی آنکھ کے لئے ضروری ہے کہ وہ روشن اور چمکدار ہو. آنکھ میں نمی ہو مطلب دیکھنے پر ایسا محسوس ہو کہ آنکھ کے اندر پانی تیر رہا ہے. آنکھ کو سامنے سے دیکھیں تو وہ باہر کی جانب ابھری ہوئی ہو. یا یوں کہہ لیں کے بلب کی مانند ہو. درمیان میں سے ابھری ہوئی اور کناروں سے اندر کی جانب. آنکھ بڑی اور گول ہو. اور آنکھ کی پلک باریک سے باریک تر ہو. یہ وہ خصوصیات ہیں جو اگر ایک کبوتر کی آنکھ میں موجود ہوں تو ہم اسے ایک اچھے کبوتر کی آنکھ کہتے ہیں.

کبوتر کی آنکھ کے مختلف حصے

کبوتر کی آنکھ کے اندر کے مختلف حصوں کی بناوٹ، آنکھ میں موجود مختلف دائرے اور آنکھ میں موجود مختلف رنگوں کے ذرات وغیرہ کو دیکھ کے کبوتر کو پرکھا جاتا ہے. ان مختلف حصوں میں سب سے پہلے کبوتر کی آنکھ کا تل ہوتا ہے. پھر تل کے گرد ایک دائرہ ہوتا ہے. اس کے بعد کبوتر کی آنکھ کی زمین پھر زمین پے مختلف رنگون کے باریک یا موٹے ذرات یا جالیاں اور پھر کبوتر کی آنکھ کے آخری حصے میں بھی ایک دائرہ ہوتا ہے. یہ سب حصے کبوتر کے بارے میں الگ الگ چیزوں کی نشاندھی کرتے ہیں. جن کا ہم نیچے الگ الگ جائزہ لیں گے.

کبوتر کی آنکھ کا تل

جب ہم کبوتر کی آنکھ کا جائزہ لیتے ہیں تو سب سے پہلے کبوتر کی آنکھ کا تل دیکھا جاتا ہے. ظاہری اور سرسری طور پر دیکھا جائے تو سبھی کبوتروں کی آنکھ کے تل ایک جیسے دکھائی دیں گے. لیکن مختلف کبوتروں میں آنکھ کے تل کی بناوٹ مختلف ہو سکتی ہے. اور جب ہم بنظرِ غور تل کا جائزہ لیں گے تو تل کی بناوٹ کا فرق ہمیں محسوس ہو جائے گا. ایک اچھے کبوتر کی آنکھ کا تل آنکھ کے بالکل درمیان میں اور سائز میں چھوٹا ہوتا ہے. کبوتر کی آنکھ کے تل کا جھکائو اگر چونچ کی جانب ہو تو یہ ایک پلس پوائنٹ ہے. کبوتر کی آنکھ کو جب بھی دیکھیں تو سورج کی روشنی میں دیکھا جانا چاہئے. اور اگر ایک کبوتر سورج کی روشنی میں اپنے تل کو زوم کرتا ہے مطلب سورج کی روشنی میں کبوتر اپنی آنکھ کے تل کو روشنی کے حساب سے ایڈجسٹ کر رہا ہے تو یہ ایک اچھے کبوتر کی نشانی ہے.

تل کے گرد موجود دائرہ

جب ہم کبوتر کی آنکھ کا جائزہ لیتے ہیں تو تل کے گرد ایک گول دائرہ موجود ھوتا ہے. یہ دائرہ ہمیں بتاتا ہے کہ کبوتر اپنی نسل میں کس قدر خالص ہے. مختلف نسلوں میں یہ دائرہ مختلف رنگ کا حامل ہوتا ہے. اب جب ہم مختلف کبوتروں میں تل کے گرد موجود اس دائرے کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ کبوتروں کی آنکھ میں یہ دائرہ بالکل واضح، مکمل اور سائز میں کافی بڑا ہوتا ہے. کچھ کبوتروں ی آنکھ میں یہ دائرہ درمیانے سائز کا، کچھ میں باریک،کچھ میں بالکل مدھم،کچھ میں کٹا ہوا یا پھر کچھ میں بالکل بھی نہیں ہوگا.

اب جاننے والی بات یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے. مختلف کبوتروں میں یہ دائرے مختلف سائز کا کیوں دیکھنے کو ملتا ہے. اوپر ہم نے ذکر کیا کہ یہ دائرہ ہمیں بتاتا ہے کہ کبوتر اپنی نسل میں کس قدر خالص ہے. تو کبوتر کی آنکھ کے گرد یہ دائرہ اگر سائز میں بڑا، مکمل اور واضح ہو گا تو یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ کبوتر اپنی نسل میں خالص ہے. جن کبوتروں کی آنکھوں میں تل کے گرد یہ دائرے سائز میں چھوٹا ہوگا اس بات کو ظاہر کرے گا کہ وہ کبوتر کراس میں آچکا ہے. اور جیسے جیسے یہ دائرہ باریک اور غیر واضح ہوتا جائے گا اس بات کا ثبوت ھے کہ کبوتر کراس در کراس ہو چکا ہے اور اپنی نسل میں خالص نہیں رہا.

 کبوتر کی آنکھ کی زمین اور ذرات

کبوتر کی آنکھ کو دیکھتے وقت تل کے گرد موجود پہلے دائرے کے بعد کبوتر کی آنکھ کی زمین آتی ہے جس پر مختلف رنگوں کے باریک یا موٹے ذرات نظر آتے ہیں. کچھ کبوتروں میں یہ حصہ جالی دار بھی ہوتا ہے. اس حصے کا مشاہدہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ یہ کبوتر بریڈنگ میں کس طرح کا رزلٹ دے گا. مزید یہ ذرات کبوتر کی نسل کے بارے میں بھی نشاندہی کرتے ہیں. کیونکہ ان ذرات کا رنگ بھی مختلف نسلوں میں مختلف طرح کا ہوتا ہے. ایک اچھے بریڈر کبوتر کی آنکھ کا یہ حصہ بڑا اور روشن، باریک ذرات سے بھرپوریا جالیدار ہوگا.

کبوتر کی آنکھ کے آخری حصے کا دائرہ

کبوتر کی آنکھ کے آخری حصے میں جہاں پے آنکھ ختم ہوتی ہے وہاں پے بھی ہمیں ایک دائرہ نظرآتا ہے. یہ دائرہ بھی مختلف نسل کے کبوتروں میں مختلف رنگوں کا ہوتا ہے. یہ دائرہ بھی جتنا زیادہ مکمل اور واضح ہوگا تو یہ ایک اچھے کبوتر کا پلس پوائنٹ ہے. جب ہم دیکھتے ہیں کہ کبوتر کی آنکھ کا آخری اور پہلا رنگ مکملاورواضح ہے. آنکھ روشن اور چمکدار ہے. تو یہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ اس آنکھ کا کبوتر عقل اور سیان کی خصوصیات کا حامل ہوگا اور پرواز سے واپسی اپنے گھر پر کرے…  اس آرٹیکل میں ہم نے کبوتر کی آنکھ کے بارے میں ظاہری اور بنیادی باتوں کا ذکر کیا ہے.کہ ہم کبوتر کی آنکھ میں کیا دیکھتے ہیں اور ان سے اس کی کون سی خوبیوں اور خامیوں کی نشاندہی ہوتی ہے. آنکھ کے بارے میں بہت سی باتیں ابھی باقی ہیں. کیونکہ کبوتر کی آنکھ کا تل کے گرد موجود رنگ مختلف نسلوں میں مختلف رنگوں کا ہوتا ہے. اسی طرح مختلف نسلوں میں کبوتروں کی زمین اور اس پے موجود ذرات یا جالی دار حصہ بھی مختلف رنگوں کا ہوتا ہے. اسی طرح            آخری دائرہ بھی مختلف نسلوں میں‌مختلف رنگوں کا پایا جاتا ہے. ان سب باتوں کو انشاءاللہ کسی اور مضمون میں بیان کروں گا.

4 thoughts on “کبوتر کی آنکھ میں ہم کیا دیکھتے ہیں”

Leave a Comment