Pigeon Story کبوتر کہانی بازبان کبوتر

جی دوستوآپ بھی میری اس کہانی کا عنوان پڑھ کے پریشان ہوگئے ہونگے کہ ایک کبوتر کیسے اپنی آپ بیتی Pigeon Story لکھ سکتا ہے. لیکن آپ پریشان نہ ہوں. میں ابتداء میں ہی وضاحت کر دیتا ہوں کہ میں کیسے اس قابل ہوا کہ اپنی کہانی لکھ سکوں. بات درحقیقت یہ ہے کہ میرا مالک ایک پڑھا لکھا سلجھا ہوا حساس انسان ہے. اور میں اپنے مالک کی شخصیت سے بے حد متاثر ہوں. مجھے اپنے مالک سے کیوں اس قدر لگائو ہے. اس کا سبب بھی آگے چل کے میری اس آپ بیتی میں ہی آپ کو پتا چل جائے گا. میرے مالک کو لکھنے پڑھنے کا بے حد شوق ہے. اکثر اوقات وہ ہمارے پاس بیٹھ کے کچھ نہ کچھ لکھتا رہتا ہے. سو مجھے بھی لکھنے لکھانے کے عمل سے دلچسپی پیدا ہوگئ .مجھے بھی شوق ہوا کہ میں بھی کچھ لکھوں. سو یہ اسی دلچسپی کا نتیجہ ہے کہ میں آج آپ کو اپنی زندگی کے تلخ و شیریں حالات سے آگاہ کر رہا ہوں

دوستو یہ تو آپ کو علم ہی ہے کہ میں ایک معصوم اور بےضرر پرندہ ہوں. اردو زبان میں لوگ مجھے کبوتر انگلش زبان والے پیجن اور عربی زبان میں مجھے ہمام کہا جاتا ہے. ہماری تاریخ کا اگر آپ جائزہ لیں تو تاریخ کی قدیم کتابوں میں آپ کو ہمارا ذکر ملے گا. مختلف واقعات ہیں اگر سب ہی لکھنے بیٹھ گیا تو میری یہ آپ بیتی بےحد طویل ہو جائے گی. لیکن ایک واقعہ ایسا ہے کہ جس پے ہم سب کو فخر ہےِ اور رہتی دنیا تک رہے گا. اللہ تعالیٰ کے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ہجرتِ مدینہ کے وقت جب غارِحرا میں‌قیام فرمایا. تو اللی تعالیٰ کے حکم سے کبوتروں کے ایک جوڑے نے ہی غار کے دہانے پے اپنا گھر بنایا تھا.اور جب کفارِ مکہ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی تلاش میں یہاں تک پہنچے. تو انہوں نے سوچا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اس غار کے اندر تشریف لے جاتے تو یہ کبوتر ضرور اڑ جاتے. یوں کفار مکہ ناکام ونامراد واپس چلے گئے

جیسا کہ میں‌نے آپ کو پہلے بتایا کہ ہم کبوتروں کی تاریخ بے حد قدیم ہے. اور اگر میں سب کچھ لکھنے بیٹھ گیا تو میری یہ کہانی کافی طویل ہو جائے گی. بس آپ سے التجا ہے کہ اپنی تاریخ کے بارے میں ایک اور بات بتا لینے دیں. پھر میں‌اپنی آپ بیتی کی طرف آ جاوٰ گا. آپ جانتے ہیں‌کہ کبوتروں کے شوق کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ نوابوں‌کا شوق ہے. اور یہ بات ہے بھی سچ کیونکہ برصغیر پاک وہند کے مغل شہنشاہ اور نواب ہمارے شوق اور عشق میں متبلا رہے. اورپھر ہم شہنشاہوں اور نوابوں کے محلوں سے عام لوگوں تک کیسے منتقل ہوئے. تو یہ بھی ایک سیدھی سی بات ہے. ان شہنشاہوں اور نوابوں نے ہماری دیکھ بھال کے لئے ملازم رکھے ہوئے تھے. اور وہ ملازم ظاہر ہے عام آدمی تھے. اور یوں ہماری دیکھ بھال کرتے کرتے وہ عام آدمی بھی ہمارے شوق محبت میں گرفتار ہوگئے. اور اللہ تعالیٰ کا ہم کبوتروں پے یہ خاص کرم ہےکہ اس نے حضرت انسان کے دل میں‌ہماری اتنی محبت پیدا کی کہ جو بھی ہماری محبت میں‌گرفتار ہوا. تو بس ہمارا ہی ہو کہ رہ گیا. وقت گزرنے کے ساتھ یہ محبت بڑھتی ہے ہے. کم ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں‌ہوتا

سویہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب شہنشاہوں اور نوابوں کا دور ختم ہوا تو ہم عام لوگوں کے گھروں میں منتقل ہو گئے. لیکن جیسا کہ آپ جانتے ہیں‌کہ اگر امیر اور صاحبِ حیثیت لوگ کوئی کام کریں تو وہ شوق کہلاتا ہے. لیکن اگر وہی کام کوئی غریب یا عام بندہ کرے تو وہ بری عادت بن جاتی ہے. سو ہم اور ہمارے چاہنے والے بھی اسی رسم دنیا کا شکار ہوگئے. اور ہمیں‌اور ہماری محبت میں گرفتار لوگوں کو برا سمجھا جانے لگا. لیکن اب پھر سے حالات کچھ تبدیل ہوئے ہیں. کیونکہ اب دوبارہ سے اچھے پڑھے لکھے، صاحب حیثیت اور خاص طور پر عرب شیوخ ہمارے شوق میں مبتلا ہوئے ہیں. اور ہمارا اور ہمارے شوق کا امیج کچھ بہتر ہونا شروع ہو گیا ہے . اور میرا مالک بھی ان ہی افراد میں‌سے ایک ہے. اور ان سے متاثر ہو کہ ہی میں اس قابل ہوا ہوں کہ اپنی آپ بیتی آپ کو سنا رہا ہوں

جی تو دوستو جب میں‌پیدا ہوا تو سب سے پہلے میں نے اپنے ماں باپ کے لمس کو محسوس کیا. دونوں باری باری مجھ پے آکے بیٹھ جاتے اور اپنے پروں کو پُھلا لیتے تاکہ مجھے کوئی تکلیف نہ ہو. مجے موسم کی سختی سے محفوظ رکھتے. میرے کھانے پینے کا خاص خیال رکھتے. میں اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھا. اس لئے اپنے والدین کےپیار کا بلا شرک غیرے مالک تھا. کھانے پینے کی کوئی فکر نہ تھی. جس وقت مجھے بھوک لگتی اسی وقت میری ماں یا باپ میرے لئے کھانا لے آتے. میں اپنی زندگی سے خوب لطف اندوز ہو رہا تھا. دنیا میں آئے ہوئے مجھے تقریبا پندرہ دن ہو چکے تھے. میرے جسم کے پر بھی آہستہ آہستہ تھوڑے بڑے ہورہے تھے. کچھ دن اور گزرے تو میں نے تھوڑا چلنا بھی شروع کردیا. لیکن میں نے کبھی بھی اپنے گھر سے باہر نکلنے کی کوشش نہیں کی تھی. سارا دن ماں باپ کچھ نہ کچھ کھلاتے رہتے تھے. کچھ سوتے ہوئے اور کچھ جاگ کر رات گزر جاتی تھی. صبح ہوتے ہی پھر سے والدین ناشتہ لے کر آجاتے تھے. زندگی مزے سے گزر رہی تھی

ایک دن صبح میں‌سو کر اٹھا اور حسب عادت ناشتے کے لئے اپنے ماں باپ کا انتظار کرنے لگا. لیکن دونوں میں سے کوئی بھی میرے لئے ناشتہ لے کر نہیں‌آیا. اسی طرح کچھ وقت اور گزر گیا. میری بے چینی بڑھنے لگی. اب بھوک نے بھی مجھے تنگ کرنا شروع کر دیا تھا. آخر کار میں نے ہمت کی اور دو چار قدم چل کراپنے گھر کے باہر والے کنارے تک آیا. تاکہ اپنے ماں‌باپ کو بلائوں. یوں اپنی اس چھوٹی سی زندگی میں‌آج میں نے پہلی مرتبہ اپنے گھر سے باہر کی دنیا کو دیکھا تھا. یہ ایک چھوٹا کمرہ تھا. میرے ماں باپ کی طرح کہ کچھ اور کبوتر اس کمرے میں‌پھر رہے تھے. میں نے ان کو کافی غور سے دیکھا. اور اپنے ماں باپ کو تلاش کرنا شروع کر دیا. لیکن وہ مجھے وہاں پر نظر نہیں آرہے تھے. کچھ دیر وہاں کھڑا رہنے کے بعد میں دوبارہ اپنے گھر میں‌واپس آکر بیٹھ گیا. بھوک کی شدت میں‌بھی اضافہ ہورہا تھا. تنگ آکر میں نے رونا شروع کردیا. کہ شائید میری آواز سن کے ہی میرے ماں باپ میرے پاس آجائیں. لیکن جب پھر بھی وہ نہ آئے تو پریشانی کے باعث میں نے اپنے گھر میں ہی ادھر ادھر گھومنا شروع کردیا

میں‌پہلے ہی پریشان تھا کہ اچانک ایک اور اُفتاد میرے سر پے آن پڑی. مجھے احساس ہوا کہ کسی چیز نے مجھے پکڑلیا ہے. اب میں اپنے گھر سے باہر اور اس چیز کی گرفت میں تھا. خوف سے میری جان نکلی جارہی تھی. لیکن کچھ دیر بعد جب میرے اوسان بحال ہوئے. تو میں نے دیکھا کہ میں‌ایک انسان کے ہاتھوں میں‌ہوں. ان صاحب کی ایک جھلک میں کچھ دن پہلے بھی دیکھ چکا تھا. اس وقت یہ صاحب میرے گھر کے باہر بیٹھ کے مجھے دیکھ رہے تھے. لیکن اس وقت میں‌نے ان پر اتنی توجہ نہیں دی تھی. خیر اس وقت میں انہی کے ہاتھوں‌میں تھا. اور ہاتھوں کے لمس سے اپنائیت اور محبت کا اظہار ہو رہاتھا.میرا خوف کچھ کم ہوگیا. اور پھر جب انھوں‌نے مجھے ایک ھاتھ میں پکڑے ہوئے اپنا دوسرا ہاتھ انتہائی پیار اور شفقت سے میرے سر پے رکھا. تو میرا حوصلہ بڑھا اور میں نے نظریں‌اٹھا کہ ان کی طرف دیکھا. ان کی آنکھوں میں اپنے لئے محبت اور خلوص دیکھ کر میرا خوف بالکل ہی ختم ہوگیا. اور خود کو محفوظ خیال کرتے ہی دوبارہ سےمجھے بھوک کا احساس ہوا. اور میں نے پھر سے رونا شروع کردیا

مجھے روتا دیکھ کہ ان صاحب نے کسی کو برا بھلا کہنا شروع کردیا. تب مجھے پتا چلا کہ یہ صاحب میرے مالک ہیں. اور رات کو کوئی بدبخت چور میرے ماں‌باپ کے ساتھ ساتھ ان کے اور بھی بہت سارے اچھے کبوتر چرا کے لے گیا. تب میں نے بھی اس چور کو بہت ساری بددعائیں دیں. جو کہ میرے والدین کو مجھ سے چھین کے لے گیا تھا. کچھ دیر بعد میرے مالک نے دوبارہ مجھے میرے گھر کے اندر بٹھا دیا. اور میں امید طلب نگاہوں کے ساتھ اپنے مالک کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا. اور وہ بھی میرے پاس بیٹھ کہ کچھ دیر تک پیار بھری نظروں سے مجھے دیکھتا رہا. اور پھر اٹھ کے چلا گیا. ان کے جاتے ہی دوبارہ سے بھوک کی شدت مجھے ستانے لگی. اور میں نے پھر سے اپنے ماں باپ کو یاد کر کے رونا شروع کردیا

تھوڑی دیر بعد میرا مالک دوبارہ میرے پاس آیا. اور مجھے اپنے ھاتھوں میں‌لے کر بیٹھ گیا. کچھ دیر تک وہ مجھے پیار سے دیکھتا رہا. اور پھر اس نے اپنے ایک ہاتھ سے میری چونچ کو کھولا. اور اپنے دوسرے ہاتھ سے میری چونچ میں کوئی چیز ڈالنے کی کوشش کی. پہلے تو میں‌گھبرا ہی گیا کہ یہ اب میرے ساتھ کیا ہورہا ہے. لیکن جب میں‌نے اس چیز کی خوشبو کو محسوس کیا. اور میری زبان نے اس کا ذائقہ چکھا تو مجھے علم ہوا کہ یہ تو میرا کھانا ہے. جو میرے والدین مجھے کھلایا کرتے تھے. اور پھر ساری بات میری سمجھ میں‌آ گئی. میرا مالک میرے والدین کی غیر موجودگی میں‌مجھے کھانا کھلانے کی کوشش کر رہا تھا. لیکن یہ کھانا کھلانے کا طریقہ کچھ عجیب سا تھا. کیونکہ میں‌کھانا کھانے کے اس طریقے سے مانوس نہیں تھا. لیکن چونکہ بھوک کافی شدید لگی ہوئی تھی . اس لئے میری اور میرے مالک کی مشترکہ کوشش کی بدولت میں اس کھانے کو اپنے گلے سے نیچے اتارنے میں‌کامیاب ہوگیا

میرا یہ کھانا دراصل کالے چنے تھے. جن کو خاص طور پر میرا مالک میرے لئے پانی میں بھگو کے لایا تھا. چند مرتبہ اسی طرح کوشش کرنے کے باوجود میں‌اس قابل ہوگیا. کہ جیسے ہی میرا مالک میری چونچ کھول کر چنے کو میرے چونچ میں رکھتا. میں اس کو اپنے گلے میں نگل لیتا. یوں‌اسی طرح‌ پچیس سے تیس چنے کھانے کے بعد میری بھوک ختم ہوگئی. اس کے بعد میرے مالک نے ایک سرنج جس کے اوپر ربر کا باریک اور نرم پائپ چڑھا ہوا تھا. اس ربر کو میرے گلے کے اندر اتار کر مجھے پانی پلا دیا. اور اس سے اگر کوئی تھوڑی بہت بھوک باقی تھی وہ بھی ختم ہوگئی. اس کے بعد میرا مالک کچھ دیر تک مجھے ہاتھوں میں پکڑ کے پیار کرتا رہا. اور میں تشکر بھری نظروں سے اسے دیکھتا رہا. اس کے بعد میرے مالک نے کمرے میں‌موجود دوسرے کبوتر کو دانہ اور پانی ڈالا اور کمرے سے باہر چلا گیا

اس کے بعد یہ روٹین بن گئی کہ میرا مالک روزانہ صبح دوپہر اور شام کو مجھے کھانا کھلاتا اور پانی پلاتا. میرے گھر کی صفائی کرتا. میری ضروریات کا خیال رکھتا. دن اسی طرح گزرتے رہے. اب میں جسامت میں بھی پہلے سے بڑا ہوگیا تھا. میرے جسم پے موجود پر بھی بڑے ہو رہے تھے. اب میں نے اپنے گھر سے باہر بھی نکلنا شروع کر دیا تھا. اس دوران میں نے محسوس کیا کہ میرا مالک مجھے کچھ زیادہ ہی عزیز رکھتا ہے. گزرے ہوئے دنوں‌میں انہوں نے میرا بے حد خیال رکھا تھا. یہ ان کی بے پناہ محبت ہی تھی. جس کی وجہ سے میں‌اپنے ماں باپ کی جدائی کا غم بھول گیا تھا. سچ پوچھیں تو مجھے بھی ان سے ایک خاص قسم کا لگائو ہو گیا تھا. جب وہ مجھے اپنے ہاتھوں میں‌لے کر پیار کرتے تو مجھے بہت اچھ لگتا تھا. ان کے ہاتھوں‌میں جا کر مجھے تحفظ کا احساس ہوتا تھا

دن یونہی گزرتے گئے. میں بھی اب اس قابل ہوگیا تھا کہ اپنے گھر سے باہر نکل کرکمرے میں‌موجود دیگر دوسرے کبوتروں کی طرح خود دانہ کھا سکوں. اسی طرح اپنے ساتھی کبوتروں‌کو پانی پیتا دیکھ کرمیں بھی ہلکی سی چھلانگ لگا کر پانی والے برتن پر بیٹھ گیا. اور پانی پینے کی کوشش کی. اس طرح خود پانی پی کر مجھے جو خوشی کا احساس ہوا وہ بیان سے باہر ہے. اسی خوشی اور جوش کی کیفیت میں میں نے جب پانی والے برتن سے نیچے اترے کی کوشش کی. اور اپنے پر پھڑپھڑائے تو مجھ پے یہ راز آشکار ہوا کہ میں‌بھی اپنے ساتھی کبوتروں کی طرح‌اڑ سکتا ہوں. میں‌نے دوبارہ کوشش کی اور اس کوشش میں تھوڑا سا اڑ کے کمرے میں موجود ایک اونچی جگہ پے بیٹھنے میں‌کامیاب ہوگیا.وہاں‌کچھ اور کبوتر بھی بیٹھے ہوئے تھے. میری خوشی کا کوئی ٹھانہ نہ رہا. فطرت مجھے سکھا رہی تھی. اڑنا شائید میری فطرت میں شامل تھا. میری چھپی ہوئی صلاحیتیں بیدار ہو رہی تھیں

کچھ دن اور اسی طرح گزر گئے. اب میں‌آرام سے اڑ کے ایک جگہ سے دوسری جگہ چلا جاتا. دانہ پانی بھی اب میں خود ہی کھا پی لیتا تھا. لیکن اس کے باوجود میں‌اپنے مالک کو نہیں بھولا تھا. ہمیں دانہ ڈال کر جب وہ ہمارے پاس بیٹھ جاتا تو میں‌اس کے پاس چلا جاتا. اور اس کے ہاتھوں پے اپنی چونچ مارنا شروع کردیتا. وہ مجھے دیکھ کے مسکراتا. اپنے ہاتھوں میں لے کر مجھے پیار کرتا. اور کہتا. بادشاہ اب تم بڑے ہوگئے.جائو اور خود سے کھانا کھائو.دوستو میں‌آپ کو بتا ہی چکا ہوں‌کہ دانہ پانی تو اب میں خود ہی کھا پی لیتا تھا. دراصل میں اپنے مالک کے پاس جا کر اس کے ہاتھوں پے چونچ اس لئے مارتا تھاکہ وہ مجھے پکڑ کے پیار کرے. اور میں بھی اس سے اپنے پیار کا اظہار کر سکوں. اس کے ہاتھوں کا لمس ملتے ہی مجھے سکون تحفظ اور طمانیت کا احساس ہوتا تھا

چند دن اور گزر گئے. ایک دن میں حسب عادت دانہ کھانے اور پانی پینے کے بعد بیٹھا آرام کر رہا تھا. جب میرا مالک کمرے میں آیا. حسب معمول کچھ دیر تک وہ ہمارے پاس بیٹھا ہمیں دیکھتا رہا. پھر اس نے مجھے اپنے ہاتھوں میں‌پکڑ لیا اور کمرے سے باہر آگیا. اور باہر موجود ایک جال میں لا کر مجھے چھوڑدیا. اور خود باہر پڑی ہوئی ایک کرسی پے بیٹھ گیا. وہاں‌پہلے بھی ایک شخص موجود تھا. میرا مالک اس شخص کو بتانے لگا کہ یہ ہمارے سب سے زیادہ پروازی جوڑے کا بیٹا بادشاہ ہے. اوراللہ نے چاہا تو یہ ہمارا اور اپنے ماں باپ کا نام روشن کرے گا. ویسے تو میں‌خود ہی اس کی تربیت کرونگا. لیکن تم بھی اس کا خاص طور پر خیال رکھنا. ان کے باتیں‌کرنے کے دوران میں جال کے اندر کچھ اونچائی پر لگی ہوئی ایک لکڑی پے آکر بیٹھ گیا تھا. اور ارد گرد کے ماحول کو دیکھ رہا تھا

جس جال میں‌مجھے چھوڑا گیا تھا یہ ایک بڑے سائز کے ڈربے کے ساتھ منسلک تھا. جال سے ڈربے میں‌جانے اور ڈربے سے جال میں آنے کے لئے ایک راستہ بنا ہوا تھا. اس راستے سے گزر کہ کچھ اور کبوتر بھی ڈربے سے جال میں آرہے تھے. ان میں‌سے کچھ تو مجھے دیکھ کے ناراض بھی ہوئے. جیسے انہیں‌میری یہاں موجودگی اچھی نہ لگی ہو. اور مجھ سے جھگڑنے کی کوشش بھی کرنے لگے. لیکن میرے مالک نے ان کو ڈرا کے روک دیا. میں‌زندگی میں‌پہلی مرتبہ کمرے سے باہر آیا تھا.
روشنی اور ہوا تو وہاں بھی ہوتی تھی. لیکن یہاں‌پے جو ہوا لگ رہی تھی اس کا مزا ہی کچھ اور تھا

میں نے گردن اٹھا کر اوپر کی طرف دیکھا تو ہر طرف پھیلا ہوا وسیع و عریض آسمان اور چمکتا ہوا سورج نظر آیا. جن کو دیکھتے ہی میرے دل میں‌ہلچل سی مچ گئی. مجھے یوں‌لگا جیسے ان دونوں کے ساتھ میرا گہرا تعلق ہے. فطرت پھر سے مجھے سکھا اور سمجھا رہی تھی. میرے اندر چھپی ہوئی میری صلاحیتیں بیدار ہو رہی تھیں. میں‌اپنے ارد گرد کی چیزوں کو دیکھ رہا تھا اور انہیں ذہن نشین کر رہا تھا. کچھ اونچائی پے واقع یہ ایک چھت تھی جس پر یہ جال اور ڈربہ موجود تھا. جال سے باہر بھی کچھ کبوتر چھت پر اور کچھ جال کے اوپر بیٹھے ہوئے تھے. جال کے اوپر بھی کچھ اونچائی پہ ایک لکڑی لگی ہوئی تھی. کچھ کبوتر اس لکڑی پے بھی بیٹھے ہوئے تھے. اور میں‌جال کے اندر بیٹھا اس نئے ماحول سے لطف اندوز ہو رہا تھا. کچھ دیر بعد شام ہوگئی. اور میرے مالک نے مجھے جال سے پکڑ کے اس کے ساتھ موجود ڈربے میں جو کہ اب میرا نیا گھر تھا منتقل کردیا

چار پانچ دن اسی طرح گزر گئے. دن میں‌میں جال میں آ جاتا. اور رات کو اپنے نئے گھر میں چلا جاتا. اس دوران میرا مالک روزانہ میرے پاس چھت پے آتا. مجھے دوسرے کبوتروں کے ساتھ دانہ ڈالتا. لیکن دیگر کچھ کبوتروں کی طرح ابھی اس نے مجھے چھت پے چھوڑنا نہی شروع کیا تھا. میں بس جال کے اندر ہی رہتا تھا. اور باہر پھرتے ہوئے اپنے دیگر ساتھی کبوتروں‌اور ارد گرد کی چیزوں کو دیکھتا رہتا. اپنے ساتھی کبوتروں‌کو دیکھ کے میرا بھی دل کرتا تھا کہ میرا مالک مجھے بھی جال سے باہر نکال کر چھت پے چھوڑ دے. میں بھی اپنے دوستوں کے ساتھ باہرآزادانہ گھومو پھروں. لیکن میری یہ حسرت ابھی پوری نہیں‌ہو رہی تھی

آخر کار وہ دن بھی آ ہی گیا. اس دن میرا مالک صبح سویرے چھت پے آگیا. اس نے حسب معمول ڈربے کا دروازہ کھولا. اور ہم سب ڈربے سے نکل کے جال کے اندر آگئے. جب میں جال سے باہر آیا تو میرے مالک نے مجھے اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا. اور جال کا دروازہ کھول کے باہر کرسی پے آ کے بیٹھ گیا. جال کا دروازہ کھلنے پر میرے ساتھی کبوتر جال سے باہر آگئے. اور چھت پر پھرنے لگے. ان میں سے کچھ اڑ کے جال کے اوپر جا بیٹھے. میرا مالک کچھ دیر تک مجھے ہاتھ میں‌لئے پیار کرتا رہا. اور پھر اس نے مجھے بے دوسرے کبوتروں کے ساتھ چھت پے چھوڑدیا. مجھے بے حد خوشی ہو رہی تھی. چند سیکنڈ ہی مین چھت پے رہا اور پھر اڑ کے جال کے اوپر جا کر بیٹھ گیا

کچھ دیر تک میں جال پے ہی بیٹھا رہا. میرے کچھ ساتھی کبوتر بھی میرے ساتھ ہی جال پر بیٹھے ہوئے تھے. اور ایک دوسرے کے ساتھ شرارتیں کر رہے تھے. اس دوران میرے مالک کی نظریں مسلسل میری طرف ہی تھیںِ . دس سے پندرہ منٹ اسی طرح گزر گئے. اس کے بعد میرا مالک کرسی سے اٹھا اور اس نے پانی کا برتن لا کر چھت کے اوپر رکھ دیا. جسے دیکھتے ہی میرے تمام ساتھی جو جال پے موجود تھے. اڑے اور اڑ کے نیچے چھت پے جا کر بیٹھ گئے. اور پانی کے برتن سے انہوں نے پانی پینا شروع کردیا. مجھے بھی پیاس محسوس ہو رہی تھی. ساتھی کبوتروں کی دیکھا دیکھی میں‌بھی جال سے اڑ کے نیچے چھت پے آگیا. پہلی مرتبہ اونچائی سے نیچے اترنے میں جو ڈر محسوس ہو رہا تھا. وہ چھت پے اترتے ہی ختم ہوگیا. میں نے بھی خوب سیر ہو کر پانی پیا. کچھ دیر چھت پے ادھر ادھر گھومتا رہا. اور پھر اڑ کے دوبارہ جال کے اوپر جا کربیٹھ گیا

اس دن میرا مالک کافی دیر تک چھت پے بیٹھا ہمیں‌دیکھتا رہا. خاص طور پر اس کی نظروں کو محوومرکز میں تھا. کچھ دیر بعد میرے کچھ ساتھی جال سے اڑے اور انہوں نے جال کے ارد گرد اڑتے ہوئے چکر لگانے شروع کردیئے. آہستہ آہستہ وہ سب اوپر کی طرف جا رہے تھے. ان کو دیکھ کے میرا دل بھی اڑنے کے لئے مچلنے لگا. لیکن ایک انجانی سی ججھک اور ڈر تھا. کچھ دیر تک میرے ساتھی کبوتر اڑنے کے بعد نیچے آنا شروع ہوگئے. ان میں‌سے کچھ آکر جال پر بیٹھ گئے. اور کچھ جال کے اوپر لگے ہوئے لکڑی کے ڈھانگے کے اوپر آ بیٹھے. میں‌نے بھی اپنی ہمت جمع کی اور اڑ کے ڈھانگے کے اوپر جا کر بیٹھ گیا. وہاں بیٹھتے وقت کچھ مشکل تو درپیش ہوئے. لیکن میں بالاخر اپنے پائوں جمانے میں‌کامیاب ہوگیا. اس کامیابی پے میں‌پھولے نہیں سما رہا تھا. میرے مالک کی نظریں‌مجھ پے ہی تھیں. اور وہ مجھے یہاں بیٹھا دیکھ کر مسکرا رہا تھا

کچھ دیر تک میں وہاں‌اپنے دیگر دوستوں کے ساتھ بیٹھا رہا. اور اردگرد کی چیزوں کو اس بلندی سے دیکھتا رہا.اس کے بعد میرے مالک نے چھت پے لا کر دانہ ڈال دیا. جسے دیکھتے ہی جال اور ڈھانگے پر موجود میرے تمام ساتھی کبوتر اڑ کر نیچے چھت پے چلے گئے. اور دانہ کھانے لگے. اورمیں‌وہاں بیٹھا ڈر رہا تھا کہ اوپر تو آگیا ہوں. اب نیچے کیسے اتروں گا. پہلی مرتبہ اتنی اونچائی سے نیچے اترتے ہوئے ڈر لگ رہا تھا. میرے مالک کی نظریں مجھ پے ہی تھیں. خیر میں نے ہمت کر کے پر کھول کے اڑتے ہوئے نیچے چھت پے آنے کی کوشش کی. اور اپنی اس کوشش میں‌کامیاب بھی ہو گیا. اور پھر اپنے دیگر ساتھی کبوتروں کے ساتھ میں نے بھی دانہ کھانا شروع کر دیا. دانہ کھانے کے بعد اب پانی پینے کی طلب ہو رہی تھی. اور پانی کا برتن میرے مالک نے اٹھا کے جال کے اندر رکھ دیا تھا. اور یوں جب ہم سب پانی پینے کے لئے جال کے اندر گئے تو مالک نے جال کا دروازہ بند کیا اور خود نیچے چلا گیا

اگلے دن پھر میرا مالک صبح سویرے چھت پے آگیا. وہ ہمارے کمرے اور جال کا دروازہ کھول کے باہرآیا. اور اپنی مخصوص کرسی پے بیٹھ گیا. پانی کا برتن آج پہلے سے ہی چھت پے رکھا ہوا تھا. میں اور میرے ساتھی کبوتر باہر چھت پے آئے. جس جس کو پیاس لگی ہوئی تھی. اس نے حسب ضرورت پانی پیا. اور پھر ادھر ادھر گھوم کے چھت پے چونچیں مارنے لگے. پھر ہم میں سے کچھ اڑ کے جال پے بیٹھ گئے. اور کچھ جال کے اوپر لگے ہوئے لکڑی کے ڈھانگے پے. میں بھی اڑ کے جا کر ڈھانگے کے اوپر بیٹھ گیا تھا. کچھ وقت گزرے کے بعد اچانک سے ایک افتاد آپڑی. اور وہ تھی ایک کالا کوا. جو اچانک سے آکر ہمارے درمیان آ بیٹھا. اور اسے دیکھتے ہی ہم سب ڈر کے وہاں سے اڑ گئے. میرے ساتھیوں‌نے گول چکروں میں اڑنا شروع کر دیا. میں بھی ان کے ساتھ ھی شامل تھا

میرے تمام ساتھی چھت کے ارد گرد گول چکر لگاتے ہوئے اڑ رہے تھے. اور آہستہ آہستہ اوپر کی طرف بلند ہو رہے تھے. میں بھی ان سب کے ساتھ ان کی پیروی کر رہا تھا. میں‌نے چھت کی طرف دیکھا. تو میرا مالک چھت پے موجود تھا. اور ہمیں اڑتا ہوا دیکھ رہا تھا. مالک کو چھت پے موجود دیکھ کر میرا حوصلہ بھی بڑھ گیا. اور میں اپنے دیگر ساتھی کبوتروں کے ساتھ اڑتے ہوئے اپنی پہلی پرواز سے لطف اندوز ہور رہا تھا. خیر کوئی ایک گھنٹہ تک اڑتے رہنے کے بعد میرے ساتھی کبوتروں نے واپسی کا سفر شروع کیا . اور آہستہ آہستہ نیچے آنے لگے. میں بھی ان کے ساتھ ہی تھا. کوئی آدھا گھنٹہ اور اسی طرح اڑتے ہوئے ہم سب اپنی چھت کے بالکل قریب آگئے. میرے ساتھی کبوتروں‌نے لکڑی کے ڈھانگے کے اوپر بیٹھنا شروع کر دیا

اپنے ساتھیوں کو دیکھتے ہوئے میں نے بھی جال کے اوپر موجود بنے ہوئے لکڑی کے اس ڈھانگے کے اوپر بیٹھنے کی کوشش کی. لیکن ناکام رہا. ایک ڈر تھا کہ کہیں‌بیٹھتے وقت نیچے نہ گر جائو.میرے ایک دو ساتھی جو ابھی تک ڈھانگے کے اوپر نہیں بیٹھے تھے. وہ بھی ایک دو چکروں میں جا کر بیٹھ گئے. اور میں اکیلا رہ گیا. میرے مالک کی نظریں مجھ پے ہی تھیں. اور وہ بڑے غور سے مجھے دیکھ رہا تھا. آخر کار میں نے حوصلہ کرتے ہوئے ڈھانگے کی لکڑی کو ٹارگٹ کرتے ہوئے اپنے پر اکٹھے کئے. پنجوں‌کو کھولا اور وہاں بیٹھنے کی کوشش کی. بیٹھتے وقت سنبھلنے میں‌مشکل تو ہوئی. ایک مرتبہ تو ایسا لگا کہ بس میں اب نیچے گرا. لیکن خدا کا شکر ہے کہ میں بیٹھنے میں کامیاب ہوگیا

بیٹھتے ہی میں‌نے خدا کا شکر اد کیا. میرا دل تیزی کے ساتھ دھڑک رہا تھا. اور سانس بھی بہت تیزی کے ساتھ چل رہی تھی. کچھ دیر تک میری یہی حالت رہی. پھر آہستہ آہستہ میری حالت بہتر ہوگئی. میں چھت پے اتر آیا. پانی کے برتن سے پانی پینے لگا تو میرے مالک نے مجھے اپنے ہاتھوں‌میں پکڑ لیا. اور آہستہ آہستہ میرے پروں اور کمر کس مساج کرنے لگا. جس سے مجھے راحت کا احساس ہوا اور میں تشکر بھری نگاہوں سے اپنے مالک کی طرف دیکھنے لگا. انھوں نے میرے پائوں کی انگلیوں کو بھی آہستہ آہستہ دبانا شروع کردیا. کچھ دیر تک وہ یہ عمل کرتے رہے. اور پھر مجھے نیچے چھت پے چھوڑدیا

دوستو میری یہ آپ بیتی کچھ طویل ہوتی جارہی ہے. ہوسکتا ہے آپ اسے پڑھ کے اکتا رہے ہوں. یا کچھ دوستوں نے تو پڑھنا ہی چھوڑ دیا ہو. کیونکہ ابھی تک میں‌نے آپ کو نہ تو اپنی پرواز میں اضافے کا کوئی طریقہ بتایا ہے. اور نہ ہی اپنی کسی بیماری کا علاج. لیکن اب جب میں‌نے اپنی آپ بیتی آپ کو بتانی شروع کی ہے توجو کچھ میرے ساتھ پیش آیا وہ سب تو لکھنا پڑے گا ہی. میں پوری کوشش کرونگا کہ اپنی اس آپ بیتی کو آنے والے صفحات میں مختصر کرسکوں. لیکن اگر کامیاب نہ ہو سکا تو یہ سمجھ کے معاف کردینا کہ کبوتر کون سا روز روز اپنی آپ بیتی لکھتے ہیں. یہ دنیا میں لکھی گئی کبوتر کی پہلی اور منفرد آپ بیتی ہے

خیر دوستو آئندہ چند روز میں دوران پرواز میرے دل میں جو ڈر یا ججھک تھی وہ ختم ہوگئی. اب میں پورے اعتماد کے ساتھ پرواز کرتا تھا. اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ میری پرواز میں اضافہ ہورہا تھا. جب میں پرواز کر کے واپس گھر آتا تو میرے مالک کی خوشی قابل دید ہوتی تھی. کچھ دن اور گزرنے کے بعد مالک نے ہمیں صبح اڑانے سے پہلے تھوڑا پانی پلانا شروع کردیا. آب صبح ڈربے میں آکر پہلے وہ ہم سب اڑنے والے کبوتروں کو تھوڑا تھوڑا پانی پلاتا. پھر ہمیں ڈربے سے نکال کے باہر جال میں چھوڑ دیتا. اور اس کے کچھ دیر بعد ہمیں باہر نکال کر اڑا دیتا تھا. اور ہم سب آہستہ آہستہ اوپر بلند ہونا شروع کر دیتے. اور آہستہ آہستہ بلندی میں‌گم ہو جاتے. دوران پرواز ہم اپنی چھت کا خاص خیال رکھتے تھے. اور ہماری کوشش ہوتی تھی کہ ہماری چھت ہماری نظروں کے سامنے ہی رہے

خیر میں اور میرے ساتھی اپنی اپنی ہمت و استطاعت کے مطابق پرواز کرتے. اور جب تھک جاتے تو گھر واپسی کا سفر شروع کر دیتے. سب سے آخر میں رہ جاتے میں اور میرا ایک اور دوست. اور بالاخر ہم دونوں بھی شام کو پانچ سے چھ بجے کے درمیان گھر واپسی کا سفر شروع کردیتے تھے. تاکہ اندہیرا ہونے سے پہلے پہلے اپنے گھر پہنچ سکیں. ہمارا مالک ہماری ضروریات کو بہت اچھی طرح سے سمجھتا تھا. پرواز سے واپسی پر وہ ہماری خوب اچھی طرح خدمت کرتا. ہمارے پینے کے لئے خاص طور پر تیار کیا گیا پانی دیا جاتا. اور جب ہم پانی اچھی طرح ہضم کرلیتے تو تب ہمیں کھانے کے لئے دیا جاتا. ان کی دیکھ بھال سے ہماری تھکاوٹ بالکل ختم ہو جاتی تھی. اور ہم بالکل تازہ دم ہو جاتے تھے

ایک صبح جب ہمارا مالک چھت پے آیا تو انہوں نے مجھے میرے دوست اور کچھ اور ساتھی کبوتروں کو ڈربے کے اندر ہی رہنے دیا. اور باقی موجود کبوتروں کو باہر نکال کر اڑا دیا. اور پھر ہم جو باقی رہ گئے تھے انہیں جال میں نکال دیا. ہم حیران تھے کہ یہ آج ہم سے کیا غلطی ہو گئی ہے. جو مالک نے ہمیں‌آج اڑایا نہیں ہے. ہمارا مالک حسب معمول باہر پڑی ہوی کرسی پر بیٹھ گیا تھا. اور ہمیں دیکھنے لگا. کبھی کبھی وہ سر اٹھا کر اوپر اڑنے والے کبوتروں کو بھی دیکھ لیتا تھا.کچھ دیر بعد ہمارے مالک کا دوست جو مالک کی غیر موجودگی میں ہمارا خیال رکھتا تھا چھت پے آکیا. آج اس کے ہاتھ میں کچھ چیزیں بھی تھیں

وہ دونوں چھت پے بیٹھ کے آپس میں‌باتیں کرنے لگے. میرا مالک اپنے دوست سے کہہ رہا تھا کہ اب مقابلے میں صرف ایک ماہ رہ گیا ہے. آج سے بادشاہ اور اس کے ساتھی کبوتروں کو خوراک دینا شروع کردو. آج میں نے ان کو ریسٹ دی ہے. یہ سب اب کل کو پرواز کریں گے. اور جو کبوتر آج اڑائے ہیں کل کو ہم ان کو ریسٹ دیں گے. کچھ دیر تک وہ باتوں‌میں‌مشغول رہے. اور اس کے بعد انھوں‌نے ہمارے لئے خوراک تیار کرنا شروع کردی. جب خوراک تیا رہوگئی تو مالک اسے لے کر جال میں آگیا. سب سے پہلے اس نے مجھے ہی اپنے ہاتھوں‌میں پکڑ لیا. اور میری چونچ کھول کر ایک سفید سے رنگ کی گولی میری چونچ کو کھول کہ میرے منہ میں ڈال دی

 

مجھے اپنا بچپن یاد آگیا. جب میں‌بالکل چھوٹا تھا اور میرا مالک دن میں تین مرتبہ مجھے اسی طرح کھانا کھلایا کرتا تھا. مجھے اس گولی کا ذائقہ کچھ عجیب سا محسوس ہوا. شائید اس لئے کہ زندگی میں پہلی مرتبہ یہ ذائقہ چکھا تھا. مالک نے پیار سے مجھے کہا. بادشاہ بیٹا کھا لے اسے. یہ بادام، بڑی الائچی اور منقہ والی خوراک ہے. تیرے لئے یہ بہت مفید چیز ہے. تجھے تو بہت تجربہ ہے بیٹا ہاتھ سے خوراک کھانے کا. اپنے بچپن کے دن بھول گیا ہے کیا. اور میں‌نے فورا اس خوراک کو اپنے گلے سے نیچے اتار لیا. اور اپنے دل میں مالک سے کہا. جناب میں‌آپ کا وہ احسان کیسے بھول سکتا ہوں. میں اگر ساری زندگی بھی کوشش کرتا رہوں تو آپ کے اس احسان کا قرض نہیں اتار سکوں گا

جیسے ہی میں‌نے گولی کو گلے سے نیچے اتارا. مالک نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور پھر دوسری اور تیسری گولی بھی مجھے کھلا دی. اسی طرح کچھ اور گولیاں کھلانے کے بعد میرے سبھی ساتھیوں‌کے ساتھ بھی یہی عمل دہرایا گیا. ہمیں خوراک اور پانی دینے کے بعد مالک جال سے باہر چلا گیا. تقریبا دو گھنٹے کے بعد ہمیں کچھ روٹی کے بھورے کھانے کو ملے. دوپہر کو ہم کو صاف ستھرا باجرہ کھانے کو ملا. اور اس کے ساتھ ایک خاص قسم کا بنا ہوا پانی. جس کا ذائقہ تو ہمیں کچھ عجیب سا لگا. لیکن چونکہ پیاس لگی ہوئ تھی. اس لئے ہم سب نے حسب ضرورت وہ پانی پیا. اسی طرح سے شام ہو گئی اور ہم اپنے ڈربے میں آگئے

علی الصبح مالک ہمارے ڈربے میں آگیا. اور ہمیں پانی پلانے کے بعد جال میں نکال دیا. کوئی آدھا گھنٹہ جال میں رہنے کے بعد ٹھیک پانچ بجے ہمیں باہر نکال کر اڑا دیا. ایک دن کی ریسٹ ملنے کی وجہ سے ہم سب ہی تازہ دم تھے. کچھ دیر تک نیچے پرواز کرنے کے بعد ہم نے اوپر بلند ہونا شروع کردیا. اور پھر اپنی مخصوص جگہ پر پہنچ کر اپنے گھر کو نظروں‌میں رکھتے ہوئے گول چکروں میں پرواز کرنا شروع کردیا. دوپہر کے بعد میرے ساتھیوں نے ایک ایک کر کے واپسی کا سفر شروع کر دیا. میں اور میرا دوست حسب معمول پرواز کر رہے تھے

ایک بات میں آپ کو بتانا بھول ہی گیا کہ میرا دوست عمر میں مجھ سے کافی بڑا تھا. اور گزشتہ دو سالوں سے مالک کے پاس رہ رہا تھا. اور گزرے ہوئے دونوں سالوں میں اس نے مالک کی طرف سے پروازی مقابلوں میں حصہ بھی لیا تھا. تقریبا چار بجے کا وقت ہوگا جب میرے دوست نے مجھے کہا کہ بادشاہ چلو واپس گھر چلتے ہیں. میں نے کہا کیوں کیا بات آج جلدی تھک گئے ہو. اس نے کہا نہیں‌ایسی بات نہیں‌ہے. میں گھنٹہ دو گھنٹہ اور بھی اڑ سکتا ہوں. لیکن مجھے اس وقت موسم کے تیور کچھ اچھے نہیں لگ رہے. یہ نہ ہو کہ موسم خراب ہو جائے. اور اتنی بلندی سے ہمارے لئے گھر واپس جانا ناممکن ہو جائے. لیکن میں نے کہا کہ موسم تو ٹھیک ہی ہے. ابھی اور پرواز کرتے ہیں. مالک کیا سوچے گا کہ انہیں ایک دن کی ریسٹ بھی دی اور یہ پھر بھی جلدی گھر واپس آگئے

وہ کہنے لگا اچھا جیسے تمھاری مرضی. اور ہم پرواز کرنے لگے. کچھ دیر بعد ہی دوبارہ میرے دوست نے کہا کہ بادشاہ میری بات مان لو. مجھے موسم خراب ہوتا دکھائی دے رہا ہے. تمھیں اگر پرواز کا اتنا ہی شوق ہے تو آئندہ پرواز میں پورا کر لینا. لیکن میں‌نے اس کی بات نہ مانی. اور کہا ٹھیک ہے تم واپس گھر چلو میں کچھ دیر اور پرواز کر کے واپس گھر آتا ہوں. یوں‌میرادوست تو نیچے چلا گیا. اور میں‌نے اپنی پرواز جاری رکھی. مشکل سے آدھا گھنٹہ ہی گزرا ہو گا کہ اچانک سے تیز ہوا چلنا شروع ہوگئی. میں نے سوچا چلو اب نیچے چلتے ہیں. لیکن نیچے کی طرف آتے ہوئے ایک دو چکروں میں‌ہی مجھے محسوس ہوا کہ تیز ہوا مجھے میرے گھر سے دور کر رہی ہے. کچھ دیر تک تو میں‌ہوا سے مقابلہ کرتا رہا. اور اپنے گھر کو نظروں میں رکھ کے نیچے کی طرف آتا رہا. لیکن پھر ہوا اور زیادہ تیز ہوگئ اور میں اپنی پوری کوشش کے باوجود بھی اب اس کا مقابلہ نہیں کر پا رہا تھا

ہوا اور زیادہ تیز ہونے کے ساتھ ساتھ بارش بھی شروع ہوگئی. میں نے خود کو حالات کے رحم وکرم پے چھوڑ دیا. کچھ دیر بعد میں نیچے تو آگیا تھا لیکن میرا گھر کہاں تھا مجھے کچھ علم نہیں تھا. میں نے ادھر ادہر کافی چکر لگائے لیکن اپنے گھر کو تلاش نہ کر سکا. گھر کو تلاش کرنے کی ایک ہی صورت تھی اب کہ میں دوبارہ پرواز کرتا ہوا اوپر بلندی میں‌جاتا. اور پھر وہاں سے اپنے گھر کو تلاش کرتا. لیکن یہ اب ممکن نہیں رہا تھا. تیز ہوا اور بارش سے مقابلہ کرتے کرتے میرے بازوں شل ہو گئے تھے. جسم کا ایک ایک جوڑ درد کر رہا تھا. اور پھر آہستہ آہستہ اندھیرا بھی بڑھ رہا تھا

خیر میں نے ہمت نہ ہاری. اور ادھر ادھر چکر لگا کے اپنے گھر کی تلاش جاری رکھی. لیکن جب اندہیرا زیادہ ہو گیا اور اڑنا ممکن نہ رہا توتھک ہار کے ایک اونچے گھر کی چھت پے جا کے بیٹھ گیا. ہوا اور بارش رکنے کا نام نہیں‌لے رہیں تھیں. جب تک میں‌اڑتا رہا تو اتنا محسوس نہیں ہو رہا تھا. لیکن اب جب یہاں آگر بیٹھ گیا تھا. تو ایک تو سردی لگنی شروع ہو گئ. دوسرا جسم نے درد کرنا شروع کردیا تھا. اور میں بیٹھا خود کو کوس رہا تھا کہ میں‌نے اپنے دوست کی بات کیوں نہ مانی. اگر میں‌اس کی بات مان لیتا تو اس وقت اس حال میں نہ ہوتا. سکون سے اپنے گھر پے ہوتا اور میرا مالک میری دیکھ بھال کر رہا ہوتا

مجھے اپنا مالک اور اپنے ساتھی یاد آرہے تھے. میں اپنی سوچوں میں گم بیٹھا تھا. چاروں طرف اندہیرا چھا گیا تھا. اچانک سے مجھے احساس ہوا کہ میں‌کسی کے مضبوط ہاتھوں کی گرفت میں ہوں. پہلے کی پریشانی ہی ختم نہیں‌ہوئی تھی کہ یہ نئی افتاد آن پڑی تھی. میں‌نے خود کو اس گرفت سے آزاد کروانے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکا. اندہیرے میں نظر بھی کچھ نہیں آرہا تھا. خوف کی وجہ سے میرا دل اتنی تیزی سے دھڑک رہا تھا کہ یوں لگتا تھا ابھی سینے سے باہر نکل آئے گا. کچھ دیر بعد اس وقت میری جان میں جان آئی جب کسی نے مجھے کبوتروں کے ایک چھوٹے سے ڈربے میں لا کر چھوڑدیا

اس ڈربے میں پہلے سے آٹھ یا دس کبوتر موجود تھے. ایک دو نے تو مجھے مارنے کی بھی کوشش بھی کی. تھوڑی دیر بعد جب میری آنکھیں اس اندہیرے میں اچھی طرح دیکھنے کے قابل ہوئیں.تو میں‌ایک کونے میں پڑی ہوئی اینٹ پے جا کر کھڑا ہوگیا. جب اوسان کچھ بحال ہوئے تو احساس ہوا کہ جسم کا ایک ایک جوڑ دکھ رہا ہے. مالک، ساتھیوں اور گھر کی یاد الگ سےستا رہی تھی. مجھے اپنے دوست کے کہے ہوئے الفاظ یاد آنے لگے. بادشاہ آئو گھر چلتے ہیں. مجھے موسم کے تیور کچھ اچھے نہیں لگ رہے. میں خود کو کوسنے لگا کہ میں نے اپنے دوست کی بات کیوں نہ مانی. اگر اس کی بات مان لیتا تو مجھے یہ سب کچھ دیکھنا نہ پڑتا. میں نے اپنے دل کو یہ سمجھا کے تسلی دی کہ چلو جو ہونا تھا ہوگیا. جان بچ گئی یہی بہت ہے. صبح جب یہ شخص مجھے ڈربے سے باہر نکالے گا. تو میں اڑ جائونگا. اور اپنے مالک اور ساتھیوں کے پاس واپس چلا جائوں گا

اللہ اللہ کرکے اس طویل رات کی صبح ہوگئی. جب چاروں طرف اچھی طرح روشنی پھیل گئی.تو ایک شخص ڈربے میں داخل ہوا.تو اس نے اپنے پہلے موجود کبوتروں کو ڈربے سے باہر نکالا. اور مجھے اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا اور ڈربے سے باہر آگیا. اور میرے پروں کو کھول کے دیکھنے لگا. پھر اس نے ایک دھاگا لیا اور میرے پروں کو باندھنا شروع کر دیا. اور میں‌حیرت کے ساتھ دیکھ رہا تھا کہ یہ میرے ساتھ کیا ہورہاہے. اس شخص نے دھاگے کے ساتھ میرے دونوں طرف کے پروں کو باندھ دیا اور مجھے نیچے چھوڑ دیا. اس کے ہاتھوں سے نجات ملتے ہی میں نے اڑنے کی کوشش کی لیکن میں‌اڑ نہ سکا. دوبارہ سے پورا زور لگا کر پھر میں نے اڑنا چاہا لیکن نتیجہ وہی رہا.میں تو سوچ رہا تھا کہ صبح بابر نکلتے ہی اڑ کے واپس اپنے گھر چلا جائوں گا. لیکن اس شخص نے تو مجھے اڑنے کے قابل چھوڑا ہی نہیں تھا

مجھے اپنی بے بسی پے رونا آگیا. اور نڈھال قدموں سے چلتا ہوا ایک کونے میں آکر سر جھکا کے کھڑا ہوگیا. کچھ دیر بعد اس شخص نے اپنے کبوتروں‌کو دانہ ڈالنا شروع کر دیا. بھوک تو مجھے بھی بہت زیادہ لگی ہوئی تھی. کل صبح میرے مالک نے اڑانے سے پہلے مجھے تھوڑا پانی پلایا تھا. اس وقت سے لے کر اب تک میں نے کچھ کھایا پیا نہ تھا. لیکن اس کے باوجود بھی میرا دانے کھانے کو دل نہیں‌کیا. اور میں‌اپنی جگہ پے ہی کھڑا رہا. لیکن جب کچھ دیر بعد اس شخص نے اپنے کبوتروں کے آگے پینے کے لئے پانی کا برتن رکھا. تو کوشش کے باوجود بھی مجھے سے رہا نہیں گیا. میرا گلہ پیاس کی وجہ سے سوکھ کے کانٹا بنا ہوا تھا. میں چلتا ہوا پانی کے برتن تک گیا اور جلدی جلدی کافی سارا پانی پی لیا

پانی پی کر میری جان میں کچھ جان آئی. کچھ دیر بعد اس شخص نے روٹی کے کچھ بھورے میری طرف پھینکے. دل تو نہیں چاہ رہا تھا. لیکن میں نے سوچا کہ اب پیٹ کے ساتھ کیا دشمنی. جب پانی پی لیا ہے تو پھر یہ بھی کھا لیتا ہوں. سو میں نے روٹی کے چند بھورے اٹھا کے کھا لئے. اور پھر دوبارہ سے اسی طرح پہلے والی جگہ پے ہی سر نیچا کر کے جا کھڑا ہئوا.مجھے اس شخص پے بے حد غصہ آرہا تھا. کیونکہ اس شخص نے میرے پروں کو باندھ کے میرے اچھے بھلے منصوبے کو خاک میں‌ملا دیا تھا

کچھ دیر بعد وہ شخص وہاں سے چلا گیا. اس کے جانے کے بعد میں نے پھر ایک مرتبہ اپنی پوری طاقت جمع کر کے اڑنے کی کوشش کی لیکن پھر بھی کامیاب نہیں ہوسکا. میں نے گردن موڑ کے اپنے دونوں طرف کے پروں کو بے بسی کے ساتھ دیکھا جن کو بہت مضبوطی کے ساتھ دھاگے کے ساتھ باندھ دیا گیا تھا. میں نے اپنی چونچ کے ساتھ اپنے پروں کو کھولنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکا. میری سمجھ میں‌نہیں‌آرہا تھا کہ کیا کروں. میں نے پھر سے اپنے آپ کو کوسنا شروع کردیا. کہ میں‌نے کیوں‌اپنے دوست کی بات نہ مانی. اگر میں اس کی بات مان لیتا تو یہ سب کچھ بھی میرے ساتھ نہ ہوگا

اس ظالم شخص کے قبضے میری چار راتیں اور تین دن گزر گئے تھے. اس دوران اپنی لاکھ کوشش کے باوجود بھی میں اس دھاگے سے نجات نہ حاصل کرسکا جس کے ساتھ میرے پر باندھے ہوئے تھے. یہ وقت یہاں‌میں نے کیسے گزارا میں ہی جانتا ہوں. یہاں جو کبوتر پہلے سے موجود تھے انہوں نے تو قسم کھا رکھی تھی کہ مجھے سکون سے نہیں رہنے دینا. جہاں‌کہیں بھی ان سے جان بچا کے کھڑا ہوتا. کوئی نہ کوئی وہاں‌پے آجاتا اور مجھے مارنا شروع کردیتا. میں اپنی بے بسی اور غریب الوطنی پے دل ہی دل میں روتا رہتا.اور مالکِ حقیقی سے دعا کرتا کہ کسی طرح مجھے اس قید سے نجات دلا دے

آخر کار اللہ تعالیٰ نے میری دعا سن لی. آج اس زنداں میں میرا چوتھا روز تھا. صبح اس شخص نے روز کی طرح‌آکر ڈربے کا دروازہ کھول دیا. اور مجھے سمیت اندر موجود سب کبوتر باہر آگئے. جیسے ہی میں‌باہر نکلا اس شخص نے مجھے پکڑ لیا. اور میرے بندھے ہوئے پروں کو کھولنا شروع کردیا. شائید اس کا خیال تھا کہ مجھے اب چار دن ہو گئے ہیں یہاں پر. اب وہ اگر میرے پر کھول بھی دے گا تو میں کہیں نہیں جائونگا. اسے کیا علم کہ میں نے یہاں‌گزارا ہوا ہر لمحہ یہ سوچتے ہوئے گزارا ہے کہ کیسے میں‌اس جہنم سے نجات حاصل کرسکتا ہوں. جیسے ہی اس شخص نے میرے بندھے ہوئے پروں کو کھول کے مجھے زمین پے چھوڑا. میرا خوشی کی انتہا نہ رہی

مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ اب میں‌اڑ سکتا ہوں. میں نے اپنے پر پھڑپھڑائے اور جیسے ہی مجھے احساس ہوا کہ اب میں آزاد ہوں اور اڑ سکتا ہوں. تو پہلی فرصت میں اڑ کے سامنے موجود ایک اونچی چھت پے جا کر بیٹھ گیا. وہ شخص حیرت کے ساتھ مجھے دیکھ رہا تھا. اس نے فوری طور پر اپنے کبوتروں کے آگے دانہ ڈالا. اور پانی کے برتن میں‌پانی بھر کے چھت پے رکھا. تاکہ دانہ اور پانی کے لالچ میں میں دوبارہ اس کی چھت پے آجائو. لیکن یہ اس شخص کی بھول تھی. میں نے چھت پے بیٹھے بیٹھے ادھر ادھر نظر دوڑائی کہ شائید میرا گھر مجھے کہیں نظر آجائے. لیکن کامیاب نہیں‌ہوسکا. میں نے اللہ کا نام لیا. پرواز کے لئے اپنے پر کھولے اور اڑنا شروع کردیا. چاروں طرف سب کچھ نیا نیا لگ رہا تھا. یہ وہ جگہ نہیں تھی جہاں میرا گھر تھا. میں‌نے آہستہ آہستہ اوپر بلند ہونا شروع کردیا. اور اس اونچائی پے پہنچ گیا. جہان‌پہنچ کے میں‌اپنی پرواز مکمل کیا کرتاتھا

میں نے اپنی انتہائی بلندی سے نیچے دیکھنے کی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے چاروں طرف نظر دوڑائی. اور کچھ ہی دیر میں اپنے گھر کو ڈھونڈنے میں‌کامیاب ہوگیا. چونکہ ابھی صبح کا وقت ہی تھا. اس لئے میرا مالک چھت پے موجود اپنی مخصوص کرسی کے اوپر بیٹھا ہوا تھا.میرے ساتھیوں‌کا شائید آج ریسٹ کا دن تھا. کیونکہ وہ سب جال کے اندر ہی موجود تھے. میں نے اپنا رخ گھر کی طرف کر لیا. کیونکہ میں جلد از جلد اپنے گھر پہنچ جانا چاہتا تھا. اچانک سے میرے مالک نے گردن اٹھا کے آسمان کی طرف دیکھا. میں اس وقت تک اتنا نیچے آچکا تھا کہ مالک کی نظریں مجھے دیکھ سکتی تھیں. وہ کچھ دیر تک غور سے مجھے دیکھتا رہا. جب اسے یقین ہوگیا کہ یہ میں ہی ہوں تو وہ خوشی سے اچھل پڑا. اور زور زور سے چلا کے اپنے دوست کو آوازیں دینے لگا. جلدی چھت پے آئو دیکھو ہمارا بادشاہ آرہاہے

وہ دونوں چھت پے کھڑے ہوکر مجھے دیکھ رہے تھے. اور میں تیزی کے ساتھ نیچے کی طرف آ رہا تھا. اور کچھ ہی دیر میں اپنی چھت پے جال کے اوپر موجود لکڑی کے ڈھانگے پے آکر میں بیٹھ گیا. اور اللہ تعالیٰ کا بے شمار شکر ادا کیا جس نے مجھے دوبارہ میرے گھر تک پہنچا دیا تھا. فورا میں نیچے جال کے اوپر آگیا. جہاں میرے ساتھیوں نے مجھے دیکھ کے خوشی کا اظہا کیا. میرے مالک کا چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا. جیسے ہی میں جال سے نیچے چھت پے آکر بیٹھا. تو میرے مالک نے مجھے اپنے ہاتھوں میں لے لیا. اور فرطِ جذبات سے انہوں نے مجھے چومنا شروع کردیا. یہ ان کی مجھ سے بے پناہ محبت کا اظہار تھا

آج تو میرا مالک مجھے چھوڑنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا. جیسے اس کو ڈر ہو کے اگر وہ مجھے چھوڑے گا تو کہیں‌پھر سے میں اس سے جدا نہ ہو جائوں. کافی دیر تک وہ میرے جسم کے مختلف حصوں کو دباتے اور مجھے پیار کرتے رہے. انہوں نے میرے پروں کو خوب اچھی طرح صاف کیا. مجھے اپنے ہاتھوں سے خوراک کھلائی. پانی پلایا. ساتھ ساتھ وہ مجھ سے باتیں‌بھی کرتے جا رہے تھے. بالاخر اچھی طرح میری خدمت اور مجھے پیار کرنے کے بعد انہوں نے مجھے جال کے اندر چھوڑ دیا. جہاں‌میرے ساتھی کبوتروں نے مجھے خوش آمدید کہا. وہ سب مجھے اپنے درمیان دیکھ کر بے حد خوش ہو رہے تھے

اگلے دن صبح سویرے مالک نے میرے سب دوستوں کو باہر نکال کر اڑا دیا. لیکن مجے انہوں نے جال میں ہی رہنے دیا. میری حالت کو دیکھتے ہوئے انھوں نے شائید یہ فیصلہ کیا تھا کہ مجھے ابھی نہ اڑایا جائے. تھوڑا وقت گزر جانے کے بعد مالک نے مجھے کچھ خوراک کی گولیاں کھلائیں. پانی پلایا اور پھر سے جال میں چھوڑدیا. سارا دن میرا جال میں ہی گزرا. اس سے اگلا دن پھر مجھ سمیت سارے کبوتر جال میں ہی رہے. ان دو دنوں میں میری کھوئی ہوئی طاقت کافی حد تک بحال ہو گئی تھی. میرا مالک خاص طور پر میری دیکھ بھال کر رہا تھا. خیر دو دن ریسٹ کرنے کے بعد میرے مالک نے مجھے بھی دیگر ساتھی کبوتروں کے ساتھ اڑانا شروع کردیا

کچھ روز تک اسی طرح‌معمول کی پروازیں جاری رہیں. پرواز کے دوران میں اور میرے ساتھی کبوتر اپنی اپنی ہمت کے مطابق پوری پرواز کر کے گھر واپس آتے تھے. ہمارا مالک بھی ہماری خوب اچھی طرح دیکھ بھال کر رہا تھا. آخر کار وہ دن بھی قریب آگیا جس دن ہمیں مقابلے میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا تھا. مقابلے جمعہ کے دن سے شروع ہونے تھے. آج جمعرات کا دن تھا اور مالک نے ہمیں آج نہیں اڑایا تھا. تقریبا سارا دن ہی مالک ہماری دیکھ بھال میں لگا رہا. دانہ پانی خوراک ہر چیز آج ہمارا مالک خود اپنے ہاتھوں سے کر رہاتھا. شام کو مالک کے ساتھ دو اور آدمی چھت پے آئے اور ہمارے مالک نے ہمیں باری باری پکڑ کے ہمارے پروں کے اوپر مہریں لگوائیں

رات کو بھی مالک زیادہ وقت ہمارے ساتھ ہی رہا. اور ہماری دیکھ بھال میں‌مصروف رہا. آج کا دن تو ہمارا اس طرح گزر رہا تھا جیسے ہم وی وی آئی پی گیسٹ ہوں. علی الصبح پھر مالک ہمارے پاس تھا. انہوں‌نے مقابلے میں حصہ لینے والے کبوتروں کو ایک مخصوص مقدار کے ساتھ پانی پلایا. اور ڈربے سے نکال کے باہر جال میں چھوڑدیا. کچھ دیر بعد ایک اور شخص مالک کے ساتھ چھت پر آگیا. مالک اس شخص کو جال کے اندر لے آیا. اس شخص نے بھی ہمارے پروں پے لگی ہوئی پہلی مہروں کو دیکھا اور پھر اس نے بھی ہمارے پروں پے ایک ایک اور مہر لگا دی. میرے ساتھی تو پہلے بھی مقابلوں میں حصہ لیتے رہے تھے. لیکن میرے لئے یہ سب کچھ نیا تھا. اور مجھے یہ کچھ عجیب سا لگ رہا تھا

خیر جیسے ہی پانچ بجے تو مالک نے ہمیں جال سے باہر نکال کر اڑا دیا. اور ہم آہستہ آہستہ پرواز کرتے ہوئے اس مخصوص بلندی تک پہنچ گئے جہاں‌ہم اپنی پرواز کو جاری رکھا کرتے تھے. دوپہر کے بعد ساتھی کبوتروں نے ایک ایک کر کے نیچے جانا شروع کر دیا. لیکن آج تقریبا ہر ساتھی کبوتر ہی عام دنوں کی نسبت زیادہ پرواز کر کے واپس جا رہا تھا. حسب معمول سب سے آخر میں میں اور میرا دوست رہ گئے تھے. تقریبا پانچ بجے ہونگے جب میرے دوست نے کہا کہ بادشا چلو گھر واپس چلتے ہیں. اور میں نے ان کے حکم کے آگے سرتسلیم خم کر دیا. کیونکہ ان کی بات نہ ماننے کا خمیازہ میں پہلے ہی بہت اچھی طرح بھگت چکا تھا

ہم دونوں نے آہستہ آہستہ نیچے کی طرف سفر شروع کر دیا. اور چھ بجے کے قریب ہم دونوں اپنی چھت پے واپس اتر گئے. کچھ دیر کے بعد پھر سے ہماری آئو بھگت شروع ہوگئی. جو کہ آج عام دنوں کی نسبت کچھ زیادہ ہی تھی. آج کا مقابلہ ہمارا مالک جیت چکا تھا. یہ مقابلے کافی دنوں تک جاری رہے. اگر آپ کو سب دنوں کی مکمل تفصیل بتائونگا تو میری یہ آپ بیتی بے حد طویل ہو جائے گی. خیر میں بات کو مختصر کرتے ہوئے آخری دن کے مقابلے کی رواداد آپ کے گوش گزار کرتا ہوں

پچھلے چند دنوں سے موسم بھی کافی زیادہ گرم ہوگیا تھا. مقابلے کے آخری دن جب ہمارے مالک نے ہمیں پانی وانی پلا کر جال میں چھوڑا.تو انہوں نے مجھے اور میرے دوست کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، دیکھو مجھے تم دونوں پےفخر ہے. مقابلہ بہت سخت ہے آج کا. اور میری سب امیدیں آج تم دونوں سے وابستہ ہیں. اورمجھے پورا یقین ہے کہ تم دونوں مجھے مایوس نہیں کروگے. مقابلے کے اصول کے مطابق آج پھر ٹھیک پانچ بجے مالک نے ہمیں‌جال سے باہر نکال کر اڑا دیا. کچھ دیر تک ہم نیچے ہی پرواز کرتے رہے. پھر جیسے ہی سورج نے اپنی کرنیں بکھیرنی شروع کیں. تو احساس ہوا کہ واقعی موسم کافی گرم ہے. سورج نے صبح ہی آگ بکھیرنا شروع کر دی تھی. ہم سب نے آہستہ ٰآہستہ بلندی کی جانب اپنا سفر شروع کیا. اور کچھ ہی دیر میں اپنے پرواز کے مقررہ مقام پر پہنچ گئے. اور اپنی چھت کو سامنے رکھتے ہوئے پرواز کرنا شروع کردیا

آج ہمارے تین ساتھی تو دوپہر سے پہلے ہی واپس نیچے جا چکے تھے. بعد دوپہر سے لے کر دو بجے تک مزید چھ ساتھی بھی واپس نیچے جا چکے تھے. اب صرف میں اور میرا دوست باقی رہ گئے تھے. موسم آج واقعی عام دنوں کی نسبت زیادہ گرم تھا. اور اپنا اثر دکھا رہا تھا. مجھے لگتا ہے ابھی چار بھی نہیں بجے تھے کہ جب میرے دوست نے کہا. بادشاہ چلو گھر چلیں. میں نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا. تو انہوں نے کہا، بادشاہ مجھے علم ہے کہ ابھی ہمارے گھر واپس جانے کا وقت نہیں ہوا ہے. لیکن آج موسم کافی زیادہ گرم ہے. مسلسل پرواز کی وجہ سے میں تھک چکا ہوں. اور اب پرواز کرتے ہوئے مجھے دشواری محسوس ہو رہی ہے

میں نے کہا، آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں. موسم کی سختی مجھ پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے. لیکن ہم واپس چلے گئے تو مالک ہم سے مایوس ہو جائے گا. اسے ہم کیا جواب دیں گے. آج تو انہوں نے ہم دونوں کو بطور خاص اچھی پرواز کرنے کے لئے کہا ہے. آپ تھوڑی ہمت کریں. کچھ دیر ہم اور پرواز کرتے ہیں. پھر گھر چلیں گے. میں نے ان کی ہمت بندہائی اور پرواز کے دوران ہی ان سے ادھر ادھر کی باتیں کرنا شروع کردیں. اس طرح پرواز کرتے ہوئے ہمیں کوئی آدھا گھنٹہ گزرا ہوگا. جب دوبارہ میرے دوست نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا

بادشاہ میرہ ہمت اب جواب دے رہی ہے. یوں نہ ہو کہ میں اس قابل ہی نہ رہوں کے گھر پہنچ سکوں. ضد مت کرو. آئو آہستہ آہستہ نیچے چلتے ہیں. یوں کچھ وقت اور گزر جائے گا. آج کچھ دیر نیچے جا کر پرواز کر لیں گے. گھر نزدیک ہو گا تو حوصلہ بھی رہے گا. جب دل چاہے گا چھت پر جا کر بیٹھ جائیں گے. مجھے پہلے ہی یہ تلخ تجربہ ہو چکا تھا کہ اگر گھر نہ پہنچا جائے تو کس طرح کے حالات سے گزرنا پڑتا ہے. میں‌نے ان کی بات مان لی. اور ہم دونوں آہستہ آہستہ پرواز کرتے ہوئے نیچے جانے لگے. کچھ دیر بعد ہم اس مقام تک پہنچ گئے جہاں مالک کی نظریں ہمیں دیکھ سکتی تھیں

آج ہماری چھت کے اوپر کچھ زیادہ ہی لوگ جمع تھے. اور وہاں پر کافی چہل پہل نظر آرہی تھی. کچھ لوگ اوپر کی جانب بھی دیکھ رہے تھے. ان میں سے ایک شخص نے جب ہمیں دیکھا تو ہمارے مالک کو ہماری طرف متوجہ کیا. ہمیں دیکھتے ہی مالک کے چہرے پے حیرانگی کے آثار نمایاں ہوئے. شائید یہ بات ان کے وہم وگمان میں بھی نہ ہوکہ آج کے دن ہم اپنی پرواز کے اصل وقت سے پہلے ہی نیچے آ جائیں گے. خیر وہ وہاں‌پڑی ہوئی ایک چارپائی پے لیٹ‌ کر ہمیں دیکھنے لگے. ہم دونوں اپنے پروگرام کے مطابق کچھ اور نیچے آکر وہاں پرواز کرنے لگے

یہاں پے تقریبا تیس سے چالیس منٹ تک پرواز کرنے کے بعد میرے دوست نے مجھے سے کہا. بادشاہ اب میں اور نہیں اڑ سکتا. میرے پر اب بالکل بھی میرا ساتھ نہیں دے رہے ہیں. مجھے اب نیچے جانا ہی پڑے گا. میں نے چارپائی پے لیٹے ہوئے اپنے مالک کی طرف دیکھا. جو اپنے اردگرد موجود لوگوں سے بےخبر ہماری ہی طرف دیکھ رہے تھے. پریشانی ان کے چہرے سے عیاں تھی. ہمیں نیچے آتا دیکھ کر تو ان کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھتا تھا. لیکن آج وہ پریشان کیوں ہیں. شائید وہ چاہتے ہیں کہ ابھی ہم اور پرواز کریں. خیر میں نے اپنے دوست سے کہا کہ ٹھیک ہے آپ گھر جائیں. کچھ دیر تک اور پرواز کر کے میں بھی گھر آ جائونگا

میرے بات سنتے ہیں میرے دوست نے نیچے جانا شروع کردیا. اور میں وہیں پے پرواز کرتا ہوا اسے نیچے جاتا ہوا دیکھنے لگا. جب وہ خیریت سے چھت پر اتر گیا تو میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ وہ بخیریت گھر پہنچ گئے تھے. میں نے اپنی پرواز جاری رکھی. کچھ دیر بعد پھر میں نے چھت پے موجود اپنے مالک کی طرف دیکھا.ان کے نظریں مجھ پے ہی جمی ہوئی تھیں. اور وہ نظریں مجھ سے کہہ رہی تھیں. بادشاہ تمھیں ابھی اور پرواز کرنی ہے. اچانک سے میرےذہن میں اپنے مالک کے اپنے دوست کو کہے ہوئے الفاظ گونجنے لگے. کہ یہ ہمارے سب سے پروازی جوڑے کا بیٹا بادشاہ ہے. اور انشاءاللہ اس سیزن میں یہ اپنے ماں باپ کا اور ہمارا نام روشن کرے گا

ان الفاظ کے ذہن میں گونجتے ہی میرے جسم میں ایک بجلی سی بھر گئی. اور خود بخود ہی میرے پروں کی رفتار تیز ہوگئی. ہم ہائی فلائیر کبوتروں کے لئے نیچے آکر پرواز جاری رکھنا کافی مشکل ہو جاتا ہے. خاص طور پر اس صورت میں تو یہ کام اور بھی مشکل ہو جاتا ہے جب سارا دن پرواز کر کے نیچے آجائیں. مزید آج موسم بھی شدید گرم تھا. اب اور کچھ   وقت کے لئے پرواز کرنا صرف اسی صورت ممکن تھا کہ میں دوبارہ اوپر بلندی میں جائوں. میں نے دل کی گہرائیوں سے اللہ تعالیٰ سے مدد کی دعا کی. اور اپنی قوت ارادی اور ہمت کو جمع کر کے اوپر کی طرف بلند ہونا شروع کر دیا. ہماری چھت پے موجود لوگوں میں سے مجھے اوپر جاتا دیکھ کر کچھ کے چہرے کھل اٹھے تھے اور کچھ چہرے مرجھا گئے تھے اور وہ سب مجھے اوپر جاتا ہوا دیکھ رہے تھے

کچھ ہی دیر میں پھر سے میں اسی مخصوص بلندی پے پہنچ گیا تھا جہاں پر ہم سب پرواز کیا کرتے تھے. اور میں نے اپنے گھر کو نظروں میں رکھتے ہوئے گول چکروں میں وہاں پے اڑنا شروع کردیا. میں نے اس وقت اپنے دل دماغ اور جسم کی سب طاقت ایک نقطے پر مرکوز کر رکھی تھی. مجھے اپنے مالک اور اپنے ماں باپ کا نام روشن کرنا ہے. آپ جانتے ہیں کہ قوت ارادی کی بدولت ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے. اور یہی چیز اس وقت پرواز کرنے میں‌میری مدد کر رہی تھی. وہاں‌پے پرواز کرتے کرتے جب مجھے احساس ہوا کہ اب دن کی روشنی کم ہو رہی ہے. تو میں نے نیچے آنا شروع کر دیا

نیچے چھت پے موجود سب ہی لوگ اس وقت اوپر آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے. اور جب میں اس مقام پر پہنچا کہ جہاں انسانی نظر مجھے دیکھ سکے تو سب سے پہلی آنکھ جس نے مجھے دیکھا وہ میرے مالک کی تھی. اس نے مجھے دیکھتے ہی چلانا شروع کر دیا. وہ دیکھو بادشاہ آگیا. میرا بادشاہ آگیا. اور مالک کی خوشی کو دیکھتے ہوئے میں نے اپنے رب کا بے شمار شکر ادا کیا کہ جس کی عطا کی ہوئی ہمت و طاقت کی بدولت میں اپنے مالک کو خوش کرنے میں‌کامیاب ہو سکا. کچھ دیر بعد اپنے مخصوص انداز میں میں چھت پے موجود اپنے جال پر آکر بیٹھ گیا.سب لوگ میرے مالک کو مبارکباد دے رہے تھے. کیونکہ یہ پروازی مقابلے انہوں نے جیت لئے تھے. مجھے بھی ان پروازی مقابلوں کے بہترین کبوتر کا خطاب ملا. سب سے بہترین پرواز بھی سات بج کے پچپن منٹ میری ہی رہی. آپ بھی اگر اپنے کبوتر سے اسی طرح پیار کریں گے جیسے میرا مالک مجھ سے کرتا ہے. تو یقین کریں آپ کا کبوتر بھی آپ کا نام ضرور روشن کرے گا

Leave a Comment