رام پوری بانکے کبوترخوبصورتی پرواز اور سیان میں بے مثال انڈین پیجن بریڈ

رام پوری بانکے کبوتر

زمانہ قدیم سے لوگ کبوتر پروری کے شوق سے وابستہ ہیں. دنیا میں کبوتروں کی بے شمار اقسام اور نسلیں پائی جاتی ہیں. ہائی فلائیر مطلب اونچی اڑان والے کبوتر بھی کبوتروں کی بے شمار اقسام میں سےایک ہیں. یہ کبوتر دنیا کے مختلف ممالک میں پائے جاتے ہیں. لیکن برصغیر میں‌ پائے جانے والے اونچی اڑان والے کبوتر اپنا ایک منفرد مقام رکھتے ہیں.برصغیر میں کبوتر پروری کے کھیل کو مغل بادشاہوں کے دور میں بے حد پزیرائی حاصل ہوئی. مغل بادشاہ اور اس وقت کی مختلف ریاستوں کے نواب کبوترپروری کے کھیل کے دلدادہ تھے اور انہوں نے اس کی ترقی و ترویج کے لئے بے حد کام کیا
مختلف ادوار میں کبوتروں کی بہت سی نسلیں ارتقائی عمل کے دوران متعارف ہوئیں.اور اس شوق سے دلچسپی رکھنے والے لوگ اپنی محنت سے اپنے کبوتروں میں بہتری لاتے رہے.انیسویں صدی میں ہائی فلائیر کبوتروں کی ایک ایسی نسل متعارف کروائی گئی جو کہ آج بھی اپنی خوبصورتی،سیان اور پرواز کی لاجواب صلاحیتوں کی وجہ سے بے مثال ہے. کبوتروں کی یہ نسل والی رام پور جناب رستم علی خان صاحب کے کبوتر ہیں جو ریاست رام پورکی نسبت سے رام پوری کبوتروں کے نام سے مشہور ہوئے. ان کبوتروں نے اپنی بے مثال پرواز اور خوبصورتی کی وجہ سے رستم علی خان صاحب کا دل جیتا. اور وہ اپنے ان کبوتروں کے اس حد تک دلدادہ تھے کہ انہوں نے ان کے لئے چاندی کے کابک بنوا رکھے تھے. اورکچھ کابک ان کی آرام گاہ میں بھی موجود رہتے تھے

والی رام پور رستم علی خان

ان دنوں میں رستم علی خان صاحب کے پروازی مقابلے شاہجہاں پور کے پٹھاںوں کے ساتھ اڑا کرتے تھے.چونکہ شاہجہاں پور کے پٹھانوں کے پاس بھی بہت اچھے کبوتر ہوا کرتے تھے تو رستم علی خان صاحب مسلسل ان سے یہ پروازی مقابلے ہار رہے تھے. ایک دن انہوں نے اپنے مہاوت سے کہا کہ کیا ہم ہمیشہ یونہی ہارتے رہیں گے تو مہاوت نے عرض کی کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنے کبوتروں میں دوسری نسل کے کبوتر کراس کروا کر ان کی پرواز میں بہتری لے کر آئوں. یاد رہے اس وقت تک کبوتر پروری کے شوق سے وابستہ افراد نسل کو کراس کروانا گناہ کے مترادف سمجھتے تھے. نواب صاحب کی اجازت سے ان کے مہاوت نے اپنے سفید لال چھاپدار کبوتروں میں جن کی آنکھیں نیلاہٹ مائل تھیں ان میں ہرے کبوتروں کو کراس کروایا.اس کراس سے کلسرے بچے بھی نکلے اور چینے بھی. ان میں سے جو کلسرے بچے تھے وہ انہوں نے الگ کر لئے اور ان کبوتروں نے لاجواب پروازیں دے کر رستم علی خان صاحب کو کامیابی سے ہمکنار کروایا

شیر نواب خان آف فیروز پور

یہ کبوتر بعد میں فیروزپور کے شیر نواب خان کے پاس آئے. شیر نواب خان کے والد ایک جید حکیم تھے. رستم علی خان صاحب کے بہنوئی جب ایک عارضہ میں مبتلا ہوئے تو ان کا علاج شیر نواب خان کے والد صاحب نےکیا. جب وہ صحت یاب ہوئے تو رستم علی خان صاحب نے انہیں انعام دینا چاہا تو انہوں نے کہا کہ اگر وہ اپنے کلسرے کبوتروں کا ایک جوڑا عنایت کر دیں تو یہ ہی ان کے لئے بہت بڑا انعام ہوگا. اس پر رستم علی خان صاحب نے 1890 میں‌ چاندی کے کابک میں اپنے کالسرے رام پوری کبوتر فیروزپور بھجوائے
ان کبوتروں کی خوبصورتی کی وجہ سے شیر نواب خان انہیں بانکے کبوتر کہا کرتے تھے. ان کبوتروں میں انہوں نے ایک نیلی آنکھ والی مادہ کو کراس کروایا جن سے کلسرے کالدمے کبوتر نیلی آنکھ میں بنے. جو آج کل بانکے کبوتروں کے نام سے جانے جاتے ہیں. رام پوری کبوتروں کے کراس سے بہت ساری نسلیں وجود میں آئیں. مشہور زمانہ گیس کبوتر بھی ان ہی کبوتروں کے کراس سے ہیں. بہت سے اساتذہ کرام کا خیال ہے کے مستری خاندان کے تصویر کبوتر بھی رام پوری کبوتروں کی ہی شاخ ہیں

رام پوری بانکے کبوتروں کی پہچان

اس وقت یہ کبوتر اچھی حالت میں صرف چند شوقین حضرات کے ہی پاس ہیں. تاہم بہت سارے کبوتر پرور دوست اپنے کبوتروں کو رام پوری کبوتروں کا نام دیتے ہیں. رام پوری کبوتر بہت زیادہ ملائم کبوتر ہیں. ان کے بارے میں کہاوت مشہور ہے کہ رام پوری وہ جو کانچ کی چوڑی میں سے گزر جائے. ان کے گلے میں جامنی شیڈ ہوتا ہے اور گردن میں سفید رنگ کے بال جو کہ ترشول کی شکل میں‌ہوتے ہیں. ان کی چونچ قدرے چھوٹی ہوتی ہے. آنکھیں ان کی نیلاہٹ مائل، پلے بڑے اور جسم پرپروں کی تعداد عام کبوتروں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے. رام پوری کبوترزیادہ کھڑی تختی کے نہیں ہوتے. ان میں اکثر کبوتروں کے پروں پر لال چھاپ بھی آتی ہے. خاص طور پر رام پوری کبوتروں کے بچوں میں لال چھاپ آتی ہے جو کوکریز کرنے پر صاف ہو جاتی ہے. آج بھی یہ کبوتر سیان، پرواز اور خوبصورتی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے

5 thoughts on “رام پوری بانکے کبوترخوبصورتی پرواز اور سیان میں بے مثال انڈین پیجن بریڈ”

Leave a Comment