پھرتوں کے دوران کبوتروں‌کے ضائع ہونے کے اسباب

وجوہات اور اسباب

کبوتر پرور دوست اپنے کبوتروں کو پروازی مقابلوں میں اڑانے کے لئے پورا سال محنت کرتے ہیں . ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں. اچھی سے اچھی خوراک اور دانہ پانی انہیں فراہم کرتے ہیں. تاکہ پروازی مقابلوں کے دوران ان کے کبوتر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں. اور انہیں پروازی مقابلوں میں کامیابی دلوا سکیں . لیکن زیادہ تر ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنے اچھے پروازی کبوتر شروع کی پھرتوں میں ہی ضائع کر لیتے ہیں. کبوتروں کے ضائع ہونے میں زیادہ تر کبوتر پرور دوستوں کی اپنی کم علمی یا غلطیوں کا ہاتھ ہوتا ہے. اپنے آج کے اس آرٹیکل میں ہم ان تمام اسباب کا تفصیل سے جائزہ لیں گے جن کی وجہ سے پھرتوں کے دوران کبوترضائع ہوتے ہیں. اور دیکھیں گے کہ کس طرح ہم اپنے اس نقصان کو کم سے کم کر سکتے ہیں

پہلا سبب کبوتروں کا ٹمبل پن

پھرتوں کے دوران ابتداء میں‌ہی اچھے کبوتروں کے ضائع ہو جانے کا پہلا سبب ٹمبل کبوتروں کو صبح کے وقت اڑا دینا ہے. چونکہ صبح کے وقت موسم کچھ ٹھںڈا ہوتا ہے اور اچھا کبوتر اڑتے ہی اوپر چلا جاتا ہے. اور جوش میں پرواز کرتا رہتا ہے. لیکن جیسے ہی موسم گرم ہوتا ہے تو وہ کبوتر ٹمبل پن کی وجہ سے پھول جاتا ہے. اور پھر اس میں چونکہ اتنی ہمت نہیں ہوتی کے گھر تک پہنچ سکے. اس لئے جہاں جگہ ملتی ہے بیٹھ جاتا ہے. دراصل کبوتروں کو پروازی مقابلوں میں اڑانے کے لئے ہم اپنے کبوتروں کی پر پٹائی کرتے ہیں. کبوتروں کے پر آنے اور اڑنے کے قابل ہونے تک دو ماہ کا عرصہ گزر جاتا ہے. اس سے پہلے دسمبر اور جنوری کے مہینے میں بھی کبوتر اڑائے نہیں جاتے.یوں تقریبا چار یا ٔپانچ ماہ سے کبوتر بالکل بھی اڑے ہوئے نہیں ہوتے. جس کی وجہ سے ان کے بازئووں کے پٹھے کمزور ہوتے ہیں. اور اسی وجہ سے کبوتر ٹمبل پن کا شکار ہوتے ہیں
لہذا کبوتر پرور دوستوں کو اس غلطی سے بچنا چاہئے. ابتداء میں اپنے کبوتروں کو صبح کے وقت نہ اڑائیں. خاص طور پر ان کبوتروں کو جن کے بارے میں آپ کو علم ہے کہ وہ اچھی پروازیں دیتے ہیں. انہیں شروع میں کچھ دن پر باندھ کے جال پے چھوڑ دیں. اس کے بعد انہیں دن گیارہ اور بارہ بجے کے درمیان‌بندہے ہوئے پروں کے ساتھ ہی آہستہ آہسستہ اڑانا شروع کریں. تاکہ کچے پروں کے ساتھ وہ ایک دم زیادہ زور نہ لگائیں.اس دوران ان کے بازئووں کے پٹھے مضبوط ہو جائیں گے. آہستہ آہستہ جب ان کی کسیں بن جائیں تو 

 پھر صبح کے وقت اڑانا شروع کریں. اس طرح تھوڑی سی احتیاط کر کے آپ اپنے اچھے کبوتروں کو ضائع ہونے سے بچا سکتے ہیں

دوسرا سبب دانہ پانی ٹائم پر نہ کرنا

کبوتروں کے ضائع ہونے کا دوسرا سبب یہ ہے کہ کبوتر پرور دوست اپنے کبوتروں کے دانہ پانی کا کوئی مخصوص اور مناسب وقت نہیں رکھتے. جب وقت ملا کبوتروں کو دانہ پانی ڈال دیا. کبوتروں کے دانہ پانی کا یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے. بے حد ضروری ہے کہ اپنے کبوتروں‌کے دانہ پانی کا ایک فکس ٹائم رکھیں. دن ایک سے دو بجے کا وقت کبوتروں کے دانہ پانی کے لئے بہترین وقت ہے. دانہ پانی کرنے کے بعد اپنے کبوتروں کے آکے سے پانی کا برتن اٹھا لیا کریں. اور پھر ہر دو گھنٹے بعد اپنے کبوتروں کو تازہ پانی برتن میں ڈال کر دکھاتے رہیں. رات کے وقت اپنے کبوتروں کی پوٹ چیک کرلیا کریں. اور اگر کسی کبوتر کی پوٹ میں پانی نہیں ہے تو اسے سرنج کے ساتھ پانی پلا دیا کریں تاکہ کبوتر صبح تک ٹھیک طرح سے اپنی خوراک ہضم کر لے

تیسرا سبب اڑانے سے پہلے پوٹ چیک نہ کرنا

تیسری وجہ جو کبوتروں کے ضائع ہونے کا سبب بنتی ہے وہ صبح کبوتروں کو اڑانے سے پہلے ان کی پوٹ کا چیک نہ کرنا ہے. کیونکہ اگر کبوتر کی پوٹ میں دانہ باقی ہو اور اسے اس طرح باہر نکال کے اڑا دیا جائے.تو خاص طور پر گرم موسم میں بہت زیادہ چانس ہوتا ہے کہ ایسا کبوتر گھر واپس نہ آئے. اس لئے سب سے پہلے تو یہ کوشش کیا کریں کہ جن کبوتروں کو اگلے دن صبح اڑانا ہے. رات کو ان کی پوٹ میں اتنی خوراک ہو جسے کبوتر صبح تک ہضم کر لیں. یا انہیں کوئی ایسی ہاضمے والی چیز دے دیں جو رات کو خوراک ہضم کرواسکے. دوسری صورت میں اگر صبح آپ دیکھتے ہیں‌کہ کبوتر کی پوٹ میں خوراک موجود ہے تو اسے اڑانے سے گھنٹہ یا ڈیڑھ گھنٹا پہلے پلٹا کے اس کی پوٹ صاف کر دیا کریں. تاکہ آپ کا کبوتر ضائع نہ ہو اور اچھی پرواز دے کر واپس گھر آئے
کبوتر کو پلٹانے کے لئے بے حد احتیاط کی ضرورت ہے. کیونکہ اگر آپ ٹھیک طرح سے کبوتر کو پلٹاتے نہیں ہو تو بجائے فائدہ کے الٹا اپنا نقصان کر لیں گے. ایک کبوتر پرور کے لئے کبوتر کو پلٹانے میں مہارت حاصل کرنا بے حد ضروری ہے. کبوتر کو اس طرح پلٹائیں کہ اسے تکلیف کا احساس بالکل بھی نہ ہو. اور کبوتر پلٹنے کے بعد خود کو فریش محسوس کریں. دوسری صورت میں کبوتر یا تو بالکل اڑے گا ہی نہیں. اور اگر اڑ گیا تو اس کے گھر واپسی کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں

چوتھا سبب پرواز سے واپسی پے تھکاوٹ دور نہ کرنا

پھرتوں کے دوران کبوتروں کے ضائع ہونے کا چوتھا سبب پرواز سے واپسی پر کبوتر کی ٹھیک طرح سے سنبھال نہ کرنا اور اسکی تھکاوٹ دور نہ کرنا ہے. کبوتروں‌کو جب ہم پھرتوں میں اڑانا شروع کرتے ہیں تو ابتداء میں چونکہ ان کے بازئووں کے پٹھے اتنے مضبوط نہیں‌ہوتے تو پرواز کرنے سے ان کے پٹھے کھینچ جاتے ہیں. اس طرح کے کبوتر کو اگر ہم بغیر سنبھالے یا اس کی تھکاوٹ دور کئے بنا اگلے دن اڑا دیتے ہیں. تو ایسا کبوتر لامحالہ گھر واپس نہیں آسکے گا. اس لئے بے حد ضروری ہے کہ پرواز سے واپسی پے کبوتر کو ٹھیک طرح سے سنبھالا جائے. اس کے جسم کے تمام حصوں کا مساج کرتے ہوئے اس کی تھکاوٹ دور کی جائے. تاکہ وہ اگلے دن پرواز کے لئے پوری طرح تیار ہو اور بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر کے واپس گھر آئے

پانچواں سبب کبوتروں کی جسمانی حالت

پانچواں سبب جس کے وجہ سے پھرتوں کے دوران کبوتر ضائع ہو جاتے ہیں وہ ہے کبوتر کی جسمانی حالت. ایک ایسا کبوتر جو کہ پہلے سخت ترین حالات میں بھی گھر واپس آتا ہے. لیکن ایک دن وہ کبوتر واپس گھر نہیں آتا تو یقیننا وہ کبوتر جسمانی طور پر فٹ نہیں‌ہوگا. یا پھر اسے جسمانی طور پر کوئی اور مسئلہ لاحق ہوگا. ایک کمزور اور بیمار کبوتر ٹھیک طرح سے پرواز نہیں دے سکتا. اس لئے اگر آپ اپنے ایک جسمانی طور پر ان فٹ کبوتر کو اڑا دیتے ہیں تو اس کی گھر واپسی کے چانسز بے حد کم ہوتے ہیں. ابتدائی پھرتوں‌کے دوران اکثر ایسا ہو جاتا ہے کہ کبوتر کے سینے پر سوزش ہو جاتی ہے. اور کبوتر پرور دوست اس پر غور نہیں کرتے اور ایسے ہی اسے اڑاتے رہتے ہیں. ایسا کبوتر پہلے تو اپنی پرواز کم کر دیتا ہے. اور اگر اسے اڑائیں تو جلد ہی بیٹھ جاتا ہے. لیکن اسے جب مسلسل اڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے تو پھر وہ کسی دوسری چھت پے جا کہ بیٹھ جاتا ہے. اس لئے کبوتروں کو اڑانے سے پہلے ان کی جسمانی حالت کو دیکھ لینا بے حد ضروری ہے

چھٹا سبب رات کو باہر رہ جانا

کبوتروں کے ضائع ہونے کا چھٹا سبب ان کی پرواز کا پورا نہ ہونا اور رات کو باہر رہ جانا ہے. اکثر وبیشتر اچھے پروازی کبوتر موسم کے نرم ہونے پر شام کا اندہیرا ہونے پر گھر واپس نہیں بیٹھتے اور اڑتے رہتے ہیں. اور پھر جب اندھیرا ہو جاتا ہے تو اپنی چھت ٹھیک طرح سے نہ دکھائی دینے کی وجہ سے جہاں کوئی جگہ نظر آتی ہے وہاں بیٹھ جاتے ہیں. اور یا پھر بیٹھ جانے کی کوشش میں نیچے گر جاتے ہیں. اور بلی یا کسی دیگر جانور کا شکار ہو جاتے ہیں. یا پھر کسی انسان کے ہاتھ لگ جاتے ہیں. اور اس طرح ہمشہ وہی کبوتر ضائع ہوتے ہیں جن کی پرواز بہت اچھی ہوتی ہے. سو اس لئے ایسے کبوتروں کو جو اچھی پروازی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہوں موسم کے نرم ہونے پر یا تو اڑایا ہی نہ جائے. یا پھر اس کا بہترین حل یہ ہے کہ آپ اپنی چھت پے لائٹس کا انتظام کریں اور اپنے کبوتروں کو لائٹس میں بیٹھنے کی پریکٹس کروائیں. تاکہ اگر اس طرح کی صورت حال پیش آ جائیں کہ کبوتر اندہیرا ہونے تک واپس گھر نہ آئے اور اپنی پرواز جاری رکھے. تو وہ پھر جب آپ لائٹس جلائیں تو اپنی چھت کو دیکھ کر گھر واپس آجائیں

ساتواں سبب موسم کو جانے بغیر کبوتر اڑانا

پھرتوں کے دوران کبوتروں کے ضائع ہونے کا ساتواں سبب موسمی حالات کو جانے بغیر کبوتروں کو صبح اڑا دینا ہے. اچانک سے تیز ہوا یا آندھی کا آ جانا یا پھر اسی طرح آسمان کا بادلوں سے ڈھک جانا یا تیز بارش کا آ جانا کبوتروں کے بہت زیادہ نقصان کا باعث بنتا ہے. بعض اوقات تو اس طرح کی صورت حال میں جتنے کبوتر اڑائے ہوئے ہوتے ہیں سبھی کہ سبھی گھر واپس نہیں آ پاتے اور طوفان یا بارش میں کہیں کہ کہیں چلے جاتے ہیں. اور پھر اپنے گھر کو تلاش کرنے کی کوشش میں کہیں نہ کہیں تھک کے گر جاتے ہیں. اس لئے بے حد ضروری ہے کہ آپ موسمی حالات سے باخبر رہ کر اپنے کبوتروں کو اڑائیں. اور اگر تھوڑا سا بھی خدشہ ہے کہ موسم خراب ہو جائے گا تو اپنے کبوتروں کو اس دن نہ اڑائیں. مختلف ٹورنامنٹس کے دوران دیکھا گیا ہے کہ موسم اگر خراب بھی ہو تو کبوتروں کو اڑا دیا جاتا ہے. اور توجیح اس کی یہ دی جاتی ہے کہ سب کے لئے موسم ایک جیسا ہی ہے. خراب موسم میں کبوتروں کو اڑانا بے وقوفی اور جہالت کے سوا اور کچھ نہیں ہے

آٹھواں سبب پرواز میں اضافہ کی ادویات کی زیادتی

کبوتروں کے ضائع ہونے کا آٹھواں سبب کبوتروں کی پرواز میں اضافہ کے لئے استعمال کروائی جانے والی ادویات کی زیادتی ہے. شوقین حضرات اپنے کبوتروں سے زیادہ اڑان لینے کے لئے انہیں مختلف قسم کی ادویات جیسے ایول، موٹیوال، ماڈرن، پریٹون یا ڈیلٹا کارٹل وغیرہ کا استعمال کرواتے ہیں. اگرچہ اوپر بتائی جانے والی یا دوسری میڈیکل یا دیسی ادویات کا استعمال کبوتروں کی اڑان میں اضافہ کا سبب بنتا ہے. خاص طور پر اس وقت جب موسم سازگار ہو اور ان ادویات کی درست مقدار کبوتر کو استعمال کروائی گئی ہو. لیکن اگر موسم سازگار نہ ہو اور ان ادویات کی مقدار بھی کبوتر کو زیادہ استعمال کروا دی گئی ہو تو یہ ادویات کبوتروں کے ضائع ہونے کا سبب بنتی ہیں. اس کے علاوہ پریکٹیس کی کمی اور کبوتر کو خوراک اس کی اڑان کے مطابق فراہم نہ کرنا بھی کبوتر کے ضائع ہونے کی وجہ ہوتی ہے

اس کے علاوہ کبوتروں کے ضائع ہونے کا ایک اور سبب شکاری پرندوں جیسے لگڑ،باز،بیری یا چیلوں کا اڑتے ہوئے کبوتروں پر حملہ کرنا یا انہیں پکڑ کر لے جانا ہے. اس کے لئے بہت ساری احتیاطی تدابیر اختیار بھی کی جاتی ہیں. لیکن زیادہ تر یہ سبھی اس وقت بےکار ہوجاتی ہیں جب کسی کبوتر کی زندگی پوری ہو گئی ہو

یہ تھے وہ خاص خاص اسباب جن کی وجہ سے پھرتوں کے دوران کبوتر پرور دوستوں کے اچھے کبوتر ضائع ہو جاتے ہیں. اوران کو اپنے ذہن میں رکھ کے اور احتیاطی تدابیر اختیار کے کے کبوتروں کے ضیاع کو روکا یا کم کیا جا سکتا ہے. ایک اچھے پروازی کبوتر کے ضائع ہونے کا دکھ کیا ہوتا ہے اس سے ہر کبوتر پرور دوست اچھی طرح واقف ہے. اس لئے احتیاط کریں اور اس طرح کے حالات نہ پیدا ہونے  دیں جس سے ہمیں اپنے کبوتروں کے ضائع ہونے کا دکھ برداشت کرنا پڑے

4 thoughts on “پھرتوں کے دوران کبوتروں‌کے ضائع ہونے کے اسباب”

    • Agar thek tarah say par putaie ki jaie to aisa nahi hota. Agar aisa ho ga to wo apni kisi mistake ki wajah say hi ho ga. Laiken is ka hal koi nahi hay yahan tak k wo par mukammal ho or us k baad dobara wahan pay naya par aay.

      Reply

Leave a Comment